Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانی ٹیم نے چیمپئن کی طرح فائنل جیتا، عامر خاکوانی کا کالم

سہ فریقی سیریز کے فائنل میں پاکستانی ٹیم نے غیر معمولی کھیل پیش کیا ( فوٹو: اے پی)

 

پاکستانی ٹیم نے سہ ملکی ٹورنامنٹ کا فائنل جیت لیا، ٹرافی لے لی، یہ خوش آئند ہے۔ سب سے اہم بات مگر یہ رہی کہ فائنل میں پاکستانی ٹیم نے غیر معمولی کھیل پیش کیا اور ہماری بیٹنگ لائن نہایت پختگی، سمجھداری اور بردباری سے کھیلی۔
سری لنکا نے 325 رنز کا پہاڑ کھڑا کیا تھا۔ 14 رنز پر ہماری دو وکٹیں گر گئیں۔ بابر اعظم صفر پر چلتے بنے اور لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ اس بار مگر فخر زمان اور نوجوان سعد بیگ نے ایک لمبی شاندار پارٹنرشپ بنائی اور پھر عرفات منہاس اور حسن نواز نے بڑی عمدگی سے ایسی پارٹنرشپ جوڑی جو فتح کے بالکل قریب لے گئی۔
پاکستانی ٹیم بہت بار میچز اور ٹورنامنٹ جیتی ہے، مگر ہر بار پینک اٹیک آتے، کبھی ٹیم کو اور کبھی شائقین کو۔ پوری قوم کو دعاؤں پر لگا کر جیت ملتی۔ اس بار مگر پاکستان نے میچ پھنسائے بغیر بڑے اچھے طریقے سے جیتا۔ ایک بڑا ہدف حاصل کیا اور وہ بھی آخری اوور میں جائے بغیر۔ آخری تین اوورز میں 18 رنز بنانے تھے، یعنی اٹھارہ گیندوں پر اٹھارہ۔
میں بچوں کے ساتھ میچ دیکھ رہا تھا، ان سے کہا کہ پاکستان کوشش کرے گا کہ دو اوورز یعنی بارہ گیندوں میں یہ اٹھارہ رنز بنا لے، کیونکہ آخری اوور میں پریشر بہت بڑھ جاتا ہے۔ عرفات منہاس نے فوراً ہی دو چھکے لگا دیے اور پھر چوکا، یعنی تین گیندوں پر سولہ رنز بن گئے۔
بدقسمتی سے وہ اگلی گیند پر آؤٹ ہو گیا، ورنہ میچ وہیں ختم ہو جاتا۔ اس سے اگلی گیند پر فہیم اشرف بھی چلتے بنے تو ایک لمحے کو لگا کہ وہی پرانی فلم چلنے والی ہے۔ اس معمولی سے ڈرامے کے بعد مگر کپتان شاہین شاہ آفریدی نے اگلے اوور میں چھکا لگا کر قصہ ہی تمام کر دیا۔ نو گیندیں ابھی باقی تھیں۔

اس ٹورنامنٹ میں کیا خاص ہوا

دو تین چیزیں خاص طور سے نظر آئیں۔ پاکستان نے اپنے تجربہ کار کھلاڑیوں اور نوجوان پلیئرز کا اچھا کمبی نیشن بنانے کی کوشش کی۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ ٹیم مینجمنٹ اگلے سال ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ کو سامنے رکھ کر پلاننگ کر رہی ہے۔ انیس سالہ وکٹ کیپر سعد بیگ کو اسی ٹورنامنٹ میں ڈیبیو کرایا گیا۔ نوجوان حسن نواز کو خاصا عرصہ ڈراپ رہنے کے بعد ٹیم میں لیا گیا اور ان پر اعتماد کیا گیا۔ 
نوجوان سپن آل راونڈر عرفات منہاس کو مسلسل مواقع دیے گئے۔ ٹیم کے پاس کپتان شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور حارث روف کی صورت میں اچھی، تجربہ کار فاسٹ باولنگ لائن موجود تھی، مگر نوجوان پیسر رضااللہ کو بھی بیچ میں موقعہ دیا گیا۔
عرفات منہاس، سعد بیگ اور حسن نواز نے بہت عمدہ کارکردگی دکھا کر اپنی سلیکشن درست ثابت کی۔ حسن نواز ٹیم سے باہر رہنے کے عرصے میں خاصا کچھ سیکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان میں ٹمپرامنٹ آ گیا ہے، وہ وکٹ تھرو نہیں کرتے، سنگلز لیتے ہیں۔ فائنل میں بھی انہوں نے دوسرا اینڈ اعتماد سے سنبھالے رکھا اور ناٹ آؤٹ لوٹے۔ ضرورت پڑنے پر حسن نواز چھکے بھی لگا سکتے ہیں، مگر بنیادی طور پر اب وہ اچھے مڈل آرڈر اینکر بلے باز بن چکے ہیں۔ حسن نواز کی ٹیم میں جگہ مستقل بنتی نظر آ رہی ہے۔

عرفات منہاس نے باؤلنگ میں اہم وکٹیں لیں، بلکہ راولپنڈی میں انگلینڈ کے خلاف تو انہوں نے کمال ہی کر دیا۔ پہلے نصف سنچری بنائی، پھر چالیس رنز دے کر چھ وکٹیں اڑا دیں۔ ایک ہی ون ڈے میں نصف سنچری کے ساتھ پانچ یا زیادہ وکٹیں، یہ کارنامہ اس سے پہلے پاکستان کی طرف سے صرف شاہد آفریدی اور عبدالرزاق کے حصے میں آیا تھا۔
فائنل میں بھی جب میچ ہاتھ سے پھسلتا نظر آ رہا تھا تو اسی لڑکے نے 31 گیندوں پر61 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل کر بازی پلٹ دی۔ اپنی اسی آل راؤنڈ پرفارمنس کے باعث انہیں ٹورنامنٹ میں پلیئر آف دی سیریز کا اعزاز ملا۔ رضااللہ بھی اچھے رہے، مگر ابھی انہیں گرومنگ کی ضرورت ہے۔ نوجوان اوپنر معاذ صداقت کو آخری دو میچز میں مواقع ملے، مگر وہ بڑی اننگز نہ کھیل سکے۔
دوسری طرف تجربہ کار فخر زمان کو بطور اوپنر کھلایا گیا اور مسلسل پانچ میچز دئیے گئے۔ پہلے چاروں میچز میں فخر ناکام رہے، سولہ، صفر، دس اور پانچ۔ دباؤ بڑھ رہا تھا کہ انہیں ڈراپ کیا جائے، مگر ٹیم مینجمنٹ نے اعتماد کیا اور فخر زمان نے کمال کر دکھایا۔

فائنل میں فیلڈنگ کے دوران ان کے گھٹنے پر چوٹ لگ گئی تھی۔ لگتا تھا کہ شائد وہ بیٹنگ نہ کر پائے۔ وہ مگر بطور اوپنر آئے اور ننانوے گیندوں پر ایک 127 رنز کی شاندار اننگز کھیل ڈالی۔ یہ فخر کی تین سال بعد پہلی ون ڈے سنچری تھی۔ 2017 کے چیمپئنز ٹرافی فائنل میں وہ انڈیا کے خلاف سنچری بنا چکے ہیں، یوں سعید انور کے بعد فخر زمان دوسرے پاکستانی بلے باز بن گئے جنہوں نے ون ڈے فائنلز میں دو سنچریاں بنائیں۔ فائنل میں انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ واقعی بڑے میچ کے پلیئر ہیں۔ بابر اعظم کو بھی پانچوں میچز ملے، اگرچہ وہ زیادہ کامیاب نہیں ہو سکے۔
سلمان علی آغا نے پہلے میچ میں سری لنکا کے خلاف سنچری بنائی اور مشکل میں گھری ٹیم کو جتوایا، مگر باقی ٹورنامنٹ میں وہ کچھ خاص نہ کر سکے۔ یہ عجیب بات ہے۔ ایک سنچری کے بعد بلے باز فارم میں آ جاتا ہے اور اس سے توقع ہوتی ہے کہ وہ اگلے میچز میں ذمہ داری سے کھیلتے ہوئے رنز کرے گا۔ سلمان آغا ایسا نہ کر پائے۔
شاداب خان کو بھی مواقع ملے اور شاداب نے لاہور میں انگلینڈ کے خلاف ایک ہارا ہوا میچ تن تنہا جتوا دیا۔154 پر نو کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے، مگر شاداب نے حارث روف کو ساتھ ملا کر میچ نکال لیا۔ ان کی 113 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز ون ڈے تاریخ میں آٹھویں نمبر کے کسی بلے باز کا سب سے بڑا سکور ہے اور آخری وکٹ کی یہ شراکت بھی عالمی ریکارڈ بن گئی۔ شاداب نے اپنی بیٹنگ سے اپنی اہمیت جتلائی ہے اور لگتا ہے کہ فیوچر پلان میں وہ شامل ہوں گے۔ افسوس کہ باونسر لگنے کے باعث وہ فائنل نہ کھیل سکے۔
فہیم اشرف کی بھی ٹیم میں واپسی ہوئی، اگرچہ وہ زیادہ متاثر نہیں کر سکے۔ پاکستانی ٹیم کو فاسٹ باولنگ آل را=نڈرز کے حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگلا ورلڈ کپ جنوبی افریقہ میں ہونا ہے اور وہاں فہیم اشرف جیسے ٹوٹے پھوٹے آل راونڈر کے بجائے ایسا فاسٹ باولنگ آل راؤنڈر چاہیے جو سپیشلسٹ باولر ہونے کے ساتھ کچھ رنز بھی کر سکتا ہو۔ عمران رندھاوا کو اس حوالے سے مواقع ملنے چاہئیں۔ وہ اچھے سپیشلسٹ باولر ہیں جو رنز روکنے کے ساتھ وکٹیں بھی لے سکتے ہیں اور ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی نصف سنچریاں بھی ہیں۔ رضااللہ بھی اچھا ون ڈے آل راونڈر بن سکتا ہے، اگر اس کی عبدالرزاق جیسے کسی تجربہ کار آل راونڈر کوچ سے گرومنگ کرائی جائے۔
اس ٹورنامنٹ میں ایک اور اچھی بات یہ نظر آئی کہ روایتی سلو پچز کے بجائے ایسی وکٹیں بنائی گئیں جہاں اچھا باونس تھا اور بلے بازوں کو مدد مل رہی تھی، مگر فاسٹ باولرز بھی کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ جنوبی افریقی پچز کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ اچھی کوشش تھی۔

پانچویں باؤلر کا مسئلہ  

آج کل ون ڈے کرکٹ میں پانچویں باؤلر کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ٹیمیں کوشش کرتی ہیں کہ اچھے ہٹرز شامل کریں اور بیٹنگ مضبوط ہو تاکہ لمبے سکور بن سکیں اور ہدف حاصل کرنے میں آسانی ہو۔ اس مقصد کے لئے وہ پانچ سپیشلسٹ باؤلرز نہیں کھلاتیں، چار سے کام چلا لیتی ہیں اور پانچواں آل راؤنڈر کھلایا جاتا ہے۔ مسئلہ تب بنتا ہے جب بڑے میچز میں کسی اچھی مضبوط ٹیم کے خلاف یہی پانچواں باولر ایکسپوز ہو جاتا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں ایک باؤلر نے چار اوورز کرانے ہوتے ہیں، وہاں دو پارٹ ٹائم باؤلرز ایک ایک اوور کرا لیں تو باقی دو پانچویں باؤلر سے کرا کر کام چل جاتا ہے۔ ون ڈے میں دس اوورز کرانے پڑتے ہیں تو مسئلہ گمبھیر ہو جاتا ہے۔
سری لنکا کی ٹیم کے لئے اس بار یہی مسئلہ تھا اور فائنل میں بھی انہیں اس کا نقصان ہوا۔ میچ کے بعد عرفات منہاس نے خود یہی نکتہ بیان کیا کہ ہمیں اندازہ تھا سری لنکا کے پاس فرنٹ لائن باؤلرز کم ہیں، اسی لئے ہم میچ کو آخر تک لے جا رہے تھے۔ عرفات منہاس نے عرفات منہاس نے شناکا کے خلاف جارحانہ بیٹنگ سے دباؤ کم کیا۔
پاکستان کو بھی یہ مسئلہ درپیش ہے۔ فائنل میچ ہی کو دیکھ لیں، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور حارث روف تین سپیشلسٹ فاسٹ باؤلرز کے ساتھ عرفات منہاس سپیشلسٹ سپنر تھے اور باقی دس اوورز کرانے کے لئے سلمان علی آغا اور فہیم اشرف کو استعمال کیا گیا۔ یہ کمزور کڑی ہے جو کسی بھی بڑے میچ میں پھنسا سکتی ہے۔ اس سے پہلے کوچ مائیک ہیسن صائم ایوب کو صرف اسی لئے کھلاتے رہے کہ ان سے پانچ چھ اوورز کرائے جا سکیں، مگر اس میں بھی نقصان یہی تھا کہ صائم ایوب کا اصل کردار تو بلے باز کا تھا۔ ان سے رنز نہیں ہو پا رہے تھے تو بیٹنگ کمزور رہ جاتی۔ اس مسئلے کا حل ڈھونڈنا چاہیے۔

بابر اعظم کے تکنیکی مسائل

بابر اعظم اس ٹورنامنٹ میں ناکام رہے، یہ پاکستانی ٹیم کے لئے تشویش کی بات ہے۔ زیادہ پریشانی یہ ہے کہ بابر کی بیٹنگ میں تکنیکی کمزوریاں نظر آ رہی ہیں۔ ان کا بلا سیدھا نہیں آ رہا، وہ ڈرائیو کرتے ہوئے بیٹ اور پیڈ کے درمیان گیپ دے رہے ہیں اور اسی وجہ سے اچھی ان سوئنگر پر بولڈ یا ایل بی ڈبلیو ہو رہے ہیں۔ بابر کو اس کمزوری پر کام کرنا ہوگا، ورنہ مخالف باؤلرز اسے بار بار ایکسپوز کریں گے۔
سری لنکا نے بابر پر باقاعدہ ہوم ورک کر رکھا تھا۔ فائنل میں بابر آف سٹمپ سے باہر کی گیند کھیلتے ہوئے وائیڈ سلپ میں کیچ دے بیٹھے۔ ان کی اس کمزوری کے لیے سری لنکا کی فیلڈنگ بھی موزوں جگہ پر موجود تھی۔
دوسرے اوپنر کا مسئلہ بھی چل رہا ہے۔ صائم ایوب مسلسل ناکام ہو کر باہر ہو گئے اور ان کی جلد واپسی مشکل لگ رہی ہے۔ معاذ صداقت کو مواقع ملنے چاہئیں، یہ ٹیلنٹڈ بلے باز ہے، تاہم پاکستانی بلے بازوں کو ایک اچھے بیٹنگ کوچ کی اشد ضرورت ہے۔ سعد بیگ بھی اچھے بلے باز ہیں، مگر ان کی فٹ موومنٹ نہ ہونے کے برابر ہے، اس پر کام ہونا چاہیے۔
وہ ایک جگہ کھڑے ہو کر اپنی آرم موومنٹ سے کام چلا لیتے ہیں اور بڑے اچھے شاٹس بھی کھیلتے ہیں، مگر فٹ ورک کے بغیر اچھی سپن باولنگ کو کھیلنا مشکل ہے۔ فائنل میں بھی چوہتر رنز کی عمدہ اننگز کے بعد سعد بیگ نے اسی وجہ سے وکٹ تھرو کی۔

چیمپینز سٹائل کرکٹ

جس طرح پاکستانی ٹیم فائنل میں کھیلی، اس پر اسے زبردست داد دینا پڑے گی۔ سوا تین سو کا ہدف انہوں نے سمجھداری اور تحمل سے حاصل کیا۔ سنگلز لئے، گیپ میں کھیل کر ڈبلز بنائے اور جب لوز گیند ملی تو باؤنڈری بھی لگائی۔ پریشر کو جس طرح مڈل آرڈر نے ہینڈل کیا، وہ قابل تعریف ہے۔ خاص کر نوجوان سعد بیگ، حسن نواز اور عرفات منہاس اتنے میچور اور ذہنی طور پر ٹف ثابت ہوں گے، اس کا کم لوگوں کو اندازہ تھا۔
ون ڈے فائنلز کی پوری تاریخ میں اس سے بڑا ہدف کبھی حاصل نہیں کیا گیا، پاکستان نے اس ریکارڈ کی برابری کر دی ہے۔ سری لنکا بھی کمزور ٹیم نہیں تھی، اسی ٹورنامنٹ میں وہ انگلینڈ کے خلاف چار سو تیس رنز کا ہدف حاصل کر چکے تھے۔
میچز میں ہار جیت ہوتی ہے، جیسے پاکستان نے اپنا چوتھا میچ بری طرح ہارا اور پوری ٹیم 110 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ وہ شکست بھی اسی سری لنکا کے ہاتھوں، اسی لاہور میں اور فائنل سے صرف چار دن پہلے ہوئی تھی۔ فائنل میں مگر جس طرح انہوں نے کم بیک کیا، وہ قابل ستائش ہے۔ دراصل یہی چیمپینز والا مائنڈ سیٹ اور طرز عمل چاہیے۔
پاکستانی ٹیم کے لیے گڈ وشز۔ سردست وائٹ بال کرکٹ میں کچھ وقفہ آ گیا ہے، پاکستان کو اب سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنا ہے، مگر آنے والے مہینوں میں مزید وائٹ بال کرکٹ ہوگی۔ اللہ پاکستانی ٹیم کو ایسی بہت سی مزید کامیابیاں دے اور سرخرو رکھے، آمین۔
ویسے بچوں کے سامنے کی گئی میری پیش گوئی بھی درست نکلی اور آخری اوور کی نوبت نہیں آئی۔ ٹرافی کے بعد اس شام کی دوسری بڑی خوشی یہی تھی کہ گھر میں ابا کی کرکٹ سینس کا بھرم رہ گیا۔

 

شیئر: