Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ورث کیمپ 2026: عسیر میں روایتی فنون کا احیا، ثقافتی ورثہ اجاگر

ثقافتی و فنی کیمپ میں 50 سے زائد افراد نے خصوصی شرکت کی (فوٹو: ایس پی اے)
عسیر ریجن میں رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹریڈیشنل آرٹس کے تحت ’ورث کیمپ 2026‘ اختتام پذیر ہو گیا۔ 31 روزہ ثقافتی و فنی کیمپ میں 50 سے زائد افراد نے خصوصی شرکت کی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ورث کیمپ کا مقصد سعودی روایتی فنون کا احیا اور عسیر ریجن کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنا ہے۔
تربیتی پروگراموں اور خصوصی ورکشاپس کے ذریعے تربیت حاصل کرنے والے مرد و خواتین کو فن پاروں کی تیاری اور انہیں بنانے کی تربیت دی گئی۔
کیمپ میں مختلف تربیتی پروگرام، ثقافی دورے، ورکشاپس اور دیگر سرگرمیاں شامل تھیں جنہیں شرکا کی فنی اور دستکاری مہارتوں نکھارنے، روایتی فنون سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور مقامی ورثے سے روشناس کرانے کے لیے ترتیب دیا گیا۔
نمایاں کامیابی تین فن پاروں کی تیاری تھی جو عسیر ریجن کے ثقافتی اور تعمیراتی ورثے سے متاثر ہو کر تخلیق کیے گئے۔ ان میں ’نسیج عسیر‘(عسیرکی بنائی)، ’اکلیل عسیر‘ (عسیر کے پھولوں کا تاج) اور ’نوافذ عسیر‘ (عسیر کی کھڑکیاں) شامل تھے۔

شرکا نے ان فن پاروں کے ڈیزائن اور تیاری کے مختلف مراحل میں حصہ لیا اور مجموعی طور پر 351 گھنٹے سے زیادہ کام کیا۔
پہلا فن پارہ ’نسیج عسیر‘ ، جو عسیر کی روایتی طرز تعمیر سے متاثر ہے جس میں مخصوص روایتی اشکال اور آرائشی نقوش کو عصری فنکارانہ ترکیب میں پیش کیا گیا۔ اس فن پارے کی تیاری میں 108 گھنٹے سے زیادہ وقت لگا۔
ورث کیمپ 2026 کا تیسرا ایڈیشن سعودی روایتی فنون کے تحفظ، ان کے علم و مہارت کو نئی نسل تک منتقل کرنے اور انہیں عصری تخلیقی سرگرمیوں کا حصہ بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اس اقدام کا مقصد ثقافتی ورثے کو پائیدار بنانا، اسے تخلیقی اور فنی پیداوار کا ذریعہ بنانا اور روایتی فنون کو قومی ثقافتی شناخت کے اہم اجزا کے طور پر مستحکم کرنا ہے۔
کیمپ میں تربیت حاصل کرنے والوں نے اس تجربے میں شرکت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام نے روایتی فنون سے متعلق علم اور مہارتیں نئی نسل تک منتقل کرنے کا موثر موقع فراہم کیا۔

 

شیئر: