جازان میں تل کی کاشت: روایت اور ثقافت سے جڑا 100 دن کا سفر
تل کی فصل کا سیزن 11 اگست سے 20 ستمبر تک ہوتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
جازان ریجن تِل کی کاشت کسانوں کے نسل در نسل ایک بھرپور زرعی ورثے کی عکاسی کرتی ہے۔ تل کی کہانی کا آغاز ننھے بیجوں کو بونے سے ہوتا ہے جس کے ساتھ ہی کسانوں کی امیدیں اور خوشیاں بھی پروان چڑھنے لگتی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کھیتوں میں پودوں کے نکلنے سے لے کر پھولوں کے زرد ہونے اور فصل کی کٹائی کے لیے تیار ہونے تک کے مراحل صبر آزما ہوتے ہیں۔
تل کی فصل کا سیزن 11 اگست سے 20 ستمبر تک ہوتا ہے۔ فصل کی دیکھ بھال اور کٹائی میں 100 دن لگتے ہیں۔ جب پودے پک کر تیار ہو جاتے ہیں تو انہیں جڑ سمیت اکھاڑ کر مخروطی شکل کے ڈھیروں کی صورت میں اکھٹا کیا جاتا ہے۔
خشک ہونے کے لیے 20 روز تک چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں پودے اکھاڑنے کے مناسب وقت اور خشک ہونے کی مدت کا تعین کسان کے تجربے کا متقاضی ہوتا ہے۔
پودوں کے خشک ہونے کے بعد انہیں زمین پر بچھائے گئے کپڑے یا چادر پر پھیلا دیا جاتا ہے۔ بعد ازاں انہیں ڈنڈوں سے کوٹا جاتا ہے جس سے تل کے دانے پھلیوں سے جدا ہونے لگتے ہیں۔
اس کے بعد انہیں چھاننے کا مرحلہ آتا ہے جس میں چھلنی کے ذریعے دانوں کو پودوں کی باقیات سے الگ کیا جاتا ہے۔ صاف دانوں کو جمع کرکے تیل نکالنے کے لیے جدا کیا جاتا ہے۔

یہ تمام مراحل ایک ایسے روایتی طریقہ کار کی عکاسی کرتے ہیں جو نسل درنسل منتقل ہوتا رہا ہے۔ بیج بونے سے لے کر فصل کی کٹائی، خشک کرنے، کوٹنے اور چھاننے تک ہر مرحلے کا اپنا ایک مقررہ وقت ہوتا ہے۔
تل کے دانوں سے تیل نکالا جاتا ہے جسے مقامی زبان میں ’سلیط‘ کہا جاتا ہے۔ روایتی کولہو اس تیل کے حصول کے قدیم طریقے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس طریقے میں تیل کے بیج لکڑی کے ایک برتن میں ڈالے جاتے تھے اور ان کے درمیان روایتی آلہ جسے ‘قطب‘ کہا جاتا ہے، گھمایا جاتا تھا۔ ماضی میں یہ کام اونٹ کے ذریعے کیا جاتا تھا اب اس کی جگہ مشینوں نے لے لی ہے۔
علاقے کے ایک کسان نے بتایا کہ تل کی کاشت کے لیے مناسب تجربہ اور صلاحیت اہم ہے۔ مقامی باشندوں میں یہ کام ان سے مخصوص ہے جو نسلوں سے اس سے جڑے ہوئے ہیں۔

ان کے نزدیک جازان کی زرعی تاریخ اور اجتماعی یادداشت کے ایک اہم حصے کو محفوظ رکھنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق ہر زرعی سیزن کا اپنا وقت ہوتا ہے۔ ہر مرحلے کا اپنا نام اور ہر کام کے لیے مخصوص آلات ہوتے ہیں۔
ان تمام مراحل کے تسلسل سے مقامی تجربات اور مہارتوں پر مبنی ایک ایسا علم تشکیل پاتا ہے جسے لوگوں نے برسوں کی محنت سے پروان چڑھایا ہے۔

جازان کے پکوانوں میں تل کا تیل بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ خصوصاً مچھلی کے پکوانوں اور ستو میں اس کا استعمال عام ہے۔
تلوں کی کاشت کا یہ پائیدار ورثہ زمین، مقامی پکوانوں اور کمیونٹی کی شناخت کو جوڑتا ہے جبکہ قیمتی مہارت آئندہ نسلوں تک پہنچاتا ہے۔
