برطانیہ میں مستقل رہائش کے لیے قوانین مزید سخت، نئی شرائط کیا ہیں؟
برطانیہ میں مستقل رہائش کے لیے قوانین مزید سخت، نئی شرائط کیا ہیں؟
منگل 3 نومبر 2026 15:55
برطانیہ میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے خواہش مند تارکین وطن کے لیے نئے قوانین متعارف کرا دیے گئے ہیں، جن کے تحت عام طور پر مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے مدت 5 سے بڑھا کر 10 سال کر دی گئی ہے۔
تاہم زیادہ آمدن رکھنے والے افراد 3 سال جبکہ بعض شعبوں میں کام کرنے والے افراد 5 سال بعد مستقل رہائش کے اہل ہو سکیں گے۔
برطانوی وزارت داخلہ کی جانب سے پیر دو نومبر کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نئے ’ارنڈ سیٹلمنٹ‘ نظام کے تحت مستقل رہائش کے لیے صرف برطانیہ میں قیام کی مقررہ مدت پوری کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ تارکین وطن کی آمدن، معاشی و سماجی خدمات اور کردار کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پارلیمنٹ میں پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مستقل رہائش اب خودکار حق نہیں بلکہ اسے حاصل کرنا ہوگا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نئے قوانین کا اطلاق پہلے سے برطانیہ میں مقیم ان تارکین وطن پر بھی ہوگا جنہیں تاحال مستقل رہائش نہیں ملی۔ ان تبدیلیوں پر 2027 میں عمل درآمد متوقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق نئے نظام سے 2021 کے بعد برطانیہ آنے والے 5 لاکھ سے زیادہ افراد کی مستقل رہائش حاصل کرنے کی مدت بڑھ سکتی ہے۔
نئے نظام کے تحت سالانہ 50 ہزار 271 پاؤنڈ سے زیادہ آمدن رکھنے والے افراد 5 سال بعد مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکیں گے۔
اسی طرح صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز، نرسز اور اساتذہ بھی 5 سال بعد مستقل رہائش کے اہل ہوں گے۔
سالانہ ایک لاکھ 25 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ آمدن رکھنے والے افراد کے لیے مستقل رہائش حاصل کرنے کی مدت صرف 3 سال ہوگی۔ بعض اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کے لیے بھی 3 سالہ راستہ برقرار رکھا گیا ہے۔
امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مستقل رہائش کے لیے کم سے کم 20 سال انتظار کرنا پڑ سکتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سماجی نگہداشت کے شعبے میں کام کرنے والے بعض غیرملکی کارکنوں کے لیے بھی 5 سال بعد مستقل رہائش حاصل کرنے کا راستہ برقرار رکھا گیا ہے۔ اس سہولت کے لیے انہیں ویزے کی شرائط پوری کرنے کے ساتھ سالانہ کم سے کم 25 ہزار پاؤنڈ آمدن حاصل کرنا ہوگی۔ یہ رعایت ان کارکنوں کے لیے ہے جو مئی 2025 سے پہلے اس شعبے میں آئے تھے۔
حکومت کے مطابق جو کارکن ویزے کی شرائط پوری نہیں کر سکے، انہیں نئے آجر کے ساتھ مزید 5 سال کا ویزہ حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس ویزے کی مدت مکمل کرنے کے بعد وہ مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکیں گے۔
امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مستقل رہائش کے لیے کم سے کم 20 سال انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ محفوظ اور قانونی راستوں سے برطانیہ آنے والے پناہ گزین 5 سال بعد مستقل رہائش کے اہل ہوں گے، جبکہ دیگر پناہ گزینوں کے لیے یہ مدت 20 سال مقرر کی گئی ہے۔
تاہم ملازمت یا تعلیم اختیار کرنے والے ایسے پناہ گزین 10 سال بعد مستقل رہائش کے اہل ہو سکتے ہیں۔ غیر قانونی طریقے سے، مثلاً چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والوں کے لیے مزید 10 سال کا اضافہ کیا جائے گا، جس سے مستقل رہائش کے لیے انتظار کی مدت 30 سال تک پہنچ سکتی ہے۔
نئے قواعد کے تحت مستقل رہائش کے درخواست گزاروں کے لیے انگریزی زبان پر اعلیٰ سطح کی مہارت لازمی ہوگی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
نئے قواعد کے تحت مستقل رہائش کے درخواست گزاروں کے لیے انگریزی زبان پر اعلیٰ سطح کی مہارت لازمی ہوگی، جس کا معیار اے لیول کے برابر رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد مستقل رہائش حاصل نہیں کر سکیں گے۔
درخواست گزاروں کے ذمے برطانوی حکومت کے واجب الادا قرض نہیں ہونے چاہییں اور انہیں کم سے کم 3 سال کی نیشنل انشورنس ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی فراہم کرنا ہوگا۔
سرکاری مالی امداد (بینیفٹس) حاصل کرنے والے افراد کے لیے مستقل رہائش کی درخواست دینے سے پہلے مسلسل 5 سال تک ایسی امداد نہ لینے کی شرط رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب، جن افراد کو پہلے ہی برطانیہ میں مستقل رہائش مل چکی ہے، ان کا درجہ برقرار رہے گا۔ برطانوی شہریوں کے اہل خانہ، ہانگ کانگ برٹش نیشنل اوورسیز ویزہ رکھنے والوں اور مسلح افواج کے ارکان کے لیے بھی موجودہ قواعد برقرار رکھے گئے ہیں۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ نئے نظام کا مقصد ایسے تارکین وطن کو جلد مستقل رہائش دینا ہے جو ملکی معیشت اور معاشرے میں زیادہ کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے مستقل رہائش کا حصول مشکل بنایا جائے گا۔