Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران چار پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کے الزام میں دو افراد کو پھانسی

اکتوبر کے اوائل میں بھی ایرانی حکام نے اِس مقدمے میں ملوث دو افراد کو پھانسی دی تھی (فائل فوٹو: روئٹرز)
ایرانی حکام نے منگل کے روز دو افراد کو پھانسی دے دی ہے، جنہیں وسطی ایران میں جنوری کے دوران ہونے والے مظاہروں کے دوران چار پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ایرانی عدلیہ نے اِس کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق، جنوری 2026 میں اصفہان میں پیش آنے والے واقعے کے دو مسلح ملزموں امیرحسین ملِکی اور امیرحسین ابراہیمی کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ اِن دونوں پر چار پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا الزام تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ملزموں کی جانب سے سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کیے جانے کے بعد اِن پر قائم مقدمات کا مکمل قانونی جائزہ لیا گیا اور سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت برقرار رکھے جانے کے بعد پھانسی دی گئی۔‘
ایران میں دسمبر میں غیر ملکی کرنسی کی شرحِٔ تبادلہ میں غیر معمولی اضافے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا، اور یہ جلد ہی حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو گیا۔ یہ احتجاج 8 اور 9 جنوری کو اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا۔
ایرانی حکومت نے اِن مظاہروں کو ہوا دینے کا الزام اپنے بدترین مخالفین اسرائیل اور امریکہ پر عائد کیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت تین ہزار سے زیادہ افراد جان سے گئے، جبکہ بیرونِ ملک قائم انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہلاکتوں کی تعداد اِس سے کہیں زیادہ بتائی تھی۔
میزان آن لائن کے مطابق، دونوں افراد ’اِس واقعہ کے مرکزی ملزموں میں شامل تھے، وہ جائے وقوعہ پر موجود تھے اور مسلح تھے جب کہ متعدد مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔‘
عدلیہ کا کہنا ہے کہ دونوں کو قومی سلامتی کے خلاف کارروائیوں پر ’محاربہ (اللہ کے خلاف جنگ) اور زمین پر فساد پھیلانے‘ کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔
اکتوبر کے اوائل میں ایرانی حکام نے اِسی مقدمے میں ملوث ہونے کے الزام میں علیرضا سپاہی اور علیرضا رئیسی کو بھی پھانسی دی تھی۔
فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، چین کے بعد ایران دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والا ملک ہے۔

شیئر: