Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی کابینہ: مملکت نے چیلنجز کے باوجود توانائی کی فراہمی کا تسلسل برقرار رکھا

بین الاقوامی صورتحال اور سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی کابینہ نے حالیہ بین الاقوامی صورتحال اور سعودی عرب کی ان مسلسل سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا جو وہ برادر اور دوست ممالک کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے ذریعے جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس منگل کو  ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت دارالحکومت ریاض میں ہوا ہے۔
اجلاس کے آغاز میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کابینہ کو شاہ سلمان کو ملائیشیا کے فرمانروا سلطان ابراہیم کی جانب سے پیغام اور چیینی صدر شن جن پنک کو اپنے پیغام کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
 وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے بتایا کابینہ نے خلیج تعاون کونسل اور گروپ 20 کے تحت منعقدہ اجلاسوں میں مملکت کی شرکت کے نتائج کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مملکت اپنے دفاع، خود مختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی۔ اپنی سرزمین، شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے یا جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

 مملکت کثیر الجہتی تعاون کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے جن کا مقصد مختلف شعبوں میں مشترکہ تعاون کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا، باہمی مفادات کا تحفظ اور دنیا کو درپیش موجودہ چیلنجوں کا پائیدار اور موثر حل تلاش کرنا ہے خصوصا آبی گزر گاہوں کی سکیورٹی، توانائی کا تحفظ، فوڈ سکیورٹی، عالمی تجارت اور سپلائی چینز کےایشوز شامل ہیں۔
کابینہ نے جہاز رانی اور عالمی توانائی کی رسد کو خطرے میں ڈالنے والی تمام خلاف ورزیوں کو مسترد کیے جانے کا اعادہ کیا۔ بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ  بحری سلامتی اور بین الاقوامی تجارت کی روانی  کویقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

 کابینہ نے کہا سعودی عرب خطے کو درپیش چیلنجز کے باوجود عالمی مارکیٹ کو توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی کا تسلسل برقرر رکھا ہے۔ مملکت نے انفرا سٹرکچر، ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور سپلائی چینز میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی ہے۔

 

شیئر: