سعودی کابینہ: علاقائی استحکام کے فروغ میں مکہ معاہدے کے ممالک کے اہم کردار پر زور
منگل 27 اکتوبر 2026 17:07
قطر اور پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کی سپورٹ کا اعادہ کیا ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی کابینہ نے منگل کو علاقائی استحکام کے فروغ میں مکہ معاہدے میں شامل ممالک کے اہم کردار پر زور دیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ریاض میں ہونے والے اجلاس میں تہران میں اعلی ایرانی حکام اور مکہ معاہدے میں شامل ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نکات کا جائزہ لیا گیا۔
کابینہ نے کہا کہ یہ مذاکرات علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی اور استحکام کے حوالے سے مملکت کے موقف کا اعادہ کرتے ہیں۔ قطر اور پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں اور امن کے حصول کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔
کابینہ نے مملکت کے فضائی دفاعی نظام کی صلاحیتوں، مکہ، مدینہ اور سعودی عرب کے دیگر حصوں کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے بار بار حملوں کو روکنے میں اس کی کامیابی کو سراہا۔
اجلاس نے ان مجرمانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے مملکت کی خود مختاری، اسلامی مقدس مقامات کے تقدس کے خلاف سنگین جارحیت اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کے خلاف کھلی اشتعال انگیزی قرار دیا۔
کابینہ نے کہا مملکت کو یہ جائزحق حاصل ہے کہ وہ حرمین شریفین، اس کے زائرین، شہریوں اور رہائیشیوں کی سلامتی کا پورے عزم کے ساتھ دفاع کرے۔

سعودی ولی عہد نے اجلاس کو مصر اور قازقستان کے صدور کی جانب سے موصول ہونے والے خطوط کے مندرجات کے ساتھ فرانسیسی صدر اور یونانی وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے نتائج سے بھی آگاہ کیا جس میں دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تاریخی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم پر زور دیا گیا۔
کابینہ نے فوجی اخراجات کی لوکلائزیشن کی شرح میں اضافے کو سراہا۔ 2025 کے اختتام تک یہ شرح 27.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو 24 فیصد کے سالانہ ہدف سے زیادہ ہے جبکہ مقامی مواد کا حصہ 40.9 فیصد تک بڑھ گیا۔
کابینہ نے سعودی عرب اور دیگر ملکوں کے درمیان ایک ماڈل ایگریمنٹ کی منظوری دی۔ اس معاہدے کے تحت سفارتی یا خصوصی پاسپوٹ ہولڈرز کو ویزے سے استثنی حاصل ہوگا۔ وزیر خارجہ یا ان کے نمائندے کو مذاکرات اور دستخط کا اختیار دیا گیا ہے۔
سعودی عرب اور انڈیا کے درمیان کسٹمز کے امور میں تعاون و باہمی معاونت کے معاہدے کی منظوری دی گئی۔
سعودی ریاستی سلامتی کے ادارے اور بنگلہ دیش کی نیشنل سکیورٹی انٹیلی جنس کے درمیان دہشت گردی اور اس کی مالی معاونت سے نمنٹے کے لیے تعاون کے معاہدے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
