سعودی عرب میں موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ ہی مختلف علاقوں میں روایتی پکوانوں کی تیاری شروع کر دی جاتی ہے۔ ہر علاقے میں اپنی ثقافتی روایت کے مطابق پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔
مملکت کے حدود الشمالیہ ریجن میں بھی دیسی گھی کا استعمال قدیم دور سے چلا آ رہا ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ روایتی گھی کی تیاری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مقامی خواتین نے دیسی گھی کی روایتی انداز میں تیاری کی اس مہارت کو نسل درنسل زندہ رکھا ہوا ہے۔ یہ نہ صرف مقامی خوراک کا اہم ذریعہ ہے بلکہ گھریلو انڈسٹری سے وابستہ خاندانوں کو معاشی موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
عہدِ رفتہ میں اہل علاقہ بھیڑوں کے دودھ سے تیار ہونے والی مصنوعات پر انحصار کرتے تھے جبکہ خواتین ضرورت سے زیادہ دودھ کو ایسی غذائی مصنوعات میں تبدیل کرتی تھیں جنہیں طویل عرصے تک محفوظ کرکے استعمال کیا جا سکے۔
عام طور پر دیسی گھی کی تیاری ان موسموں میں عروج پر ہوتی ہے جب دودھ وافر مقدار میں دستیاب ہوتا ہے۔

خاص طورپر بارشوں کے بعد جب چراگاہیں سبزے سے بھر جاتی ہیں اور موشیوں کو وافر خوراک میسر آتی ہے۔
دیسی گھی کی تیاری کئی مراحل پر مشتمل ہوتی ہے۔ سب سے پہلے دودھ جمع کرکے اسے دہی میں تبدیل کیا جاتا ہے بعدازاں روایتی طریقے سے اسے بلویا جاتا ہے تاکہ مکھن کو اس سے جدا کیا جائے۔
حاصل ہونے والے مکھن کو نتھار کر اسے ہلکی آنچ پر گرم کیا جاتا ہے یہاں تک کہ چکنائی دودھ کے باقی ماندہ اجزا سے الگ ہو جاتی ہے۔ آخرمیں اسے چھان لیا جاتا ہے۔

ان تمام مراحل کے لیے مہارت اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے خصوصاً مکھن بلونے کے عمل اور حرارت کی مناسب حد برقرار کھنے میں یہ اہم ہے۔ دودھ کا معیار اور تیاری کا طریقہ بھی حتمی مصنوعات کی خصوصیات پر اثرا انداز ہوتا ہے۔
آج بھی علاقے کے بعض خاندان تیاری اور محفوظ رکھنے کے ایسے روایتی طریقے اپنائے ہوئے ہیں جو خواتین نے برسوں کی عملی مشق کے ذریعے اپنے بڑوں سے سیکھے تھے۔
دیسی گھی کی اہمیت محض روزمرہ خوراک کے ایک جزو تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق مہمان نوازی اور سماجی تقریبات سے بھی رہا ہے۔

یہ علاقے کے متعدد روایتی کھانوں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے اور خطے کی غذائی شناخت کا حصہ بھی بن چکا ہے۔
حدود الشمالیہ ریجن میں دیسی گھی کی یہ روایتی صنعت آج بھی اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ خواتین نے اس کی تیاری کے ہنر کو محفوظ رکھنے اور نئی نسلوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔











