منفرد فلکیاتی نظارہ: سعودی عرب کے آسمان پر چاند اور مشتری ایک ساتھ
یہ منفرد فلکیاتی نظارہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی دیکھا گیا ( فوٹو: ایس پی اے)
حدود الشمالیہ ریجن کے شہرعرعر میں منگل کی صبح طلوع آفتاب کے وقت ایک حسین فلکیاتی مظہر نے فوٹوگرافی کے شوقین اور فلکیاتی امور سے تعلق رکھنے والوں کو متوجہ کیا۔
چاند اور مشتری ایکدوسرے کے قریب نظر آئے۔ یہ منفرد فلکیاتی نظارہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی دیکھا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق فلکیات و خلائی کلب کے رکن عدنان خلیفہ بتایا چاند اور مشتری کا ملاپ ان نمایاں فلکیاتی مظاہر میں شمار ہوتا ہے جو اجرامِ فلکی کا مشاہدہ اور انکی تصویرکشی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
مشتری نظامِ شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہے اور آسمان پر اپنی غیرمعمولی چمک کے باعث نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ اسے بغیر کسی دوربین کے بھی باسانی دیکھا جاسکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی فلکیاتی اقتران اس وقت ہوتا ہے جب زمین سے دیکھنے والے کو آسمان پر دو اجرامِ فلکی ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ خلا میں حقیقتا بھی ایک دوسرے کے قریب آگئے ہوں۔
ان کا کہنا تھا ایسے مظاہر چاند اور سیاروں کی حرکت کا مشاہدہ کرنے اور ان کی فلکیاتی خصوصیات سے آگاہی حاصل کرنے کا اچھا موقع فراہم کرتے ہیں۔

عدنان خلیفہ نے مزید بتایا حدود الشمالیہ ریجن کا وسیع صحرائی علاقہ فلکیاتی مشاہدے کے لیے مثالی مقامات میں شمار ہوتا ہے اس علاقے کا صاف آسمان اور روشنی کی کم سے کم آلودگی ننگی آنکھ اور فلکیاتی دوربین کے ذریعے آسمانی مظاہر کا بہتر مشاہدہ کرنے اور انہیں کیمرے میں محفوظ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
