عنیزہ کے باغات اور فارمز سیاحتی مقامات میں تبدیل
قدیم کنویں اور مٹی و گارے سے بنی عمارتیں ماضی کی داستانیں سناتی ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
قصیم ریجن میں عنیزہ شہر کے تاریخی علاقے میں موجود فارمز ایک بھر پور زرعی اور تعمیراتی ورثے کی منفرد علامت ہیں۔ ماضی میں یہ باغات خوراک کی فراہمی اور روزگار کا اہم ذریعہ تھے اور علاقے کی معاشی و سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ان فارمز میں سے کئی اب سیاحتی، ثقافتی اور زرعی ورثے کے مراکز بن چکے ہیں جہاں کھجور کے درخت، قدیم کنویں اور مٹی و گارے سے بنی عمارتیں ماضی کی داستانیں سناتی ہیں۔
عنیزہ شہر کے مشہور تاریخی فارمز میں حرکان، البدیع، الامیر، ملیحان، قلیب ثابت، السالمیہ، العوجا، الضریبات، المزادہ اور الردامہ شامل ہیں۔ یہ فارمز سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔
آثار قدیمہ کے ماہر محمد ابراہیم الزنیدی نے بتایا کہ ماضی میں ان فارمز کے گرد چار دیواری بنائی جاتی تھی۔ اسی باعث انہیں ’حیطان‘ (دیوار کی جمع) کہا جاتا تھا جبکہ مقامی طور پر انہیں ’الفلاح‘ بھی کہا جاتا ہے۔
ان کے نام عموماً جغرافیائی محل وقوع، مالکان یا ان کے خاندانوں کے ناموں اور فارمز میں موجود قدرتی و زرعی خصوصیات سے منسوب تھے۔

عنیزہ شہر کی 80 سے 90 فیصد آبادی براہ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ تھی۔ یہ فارمز نہ صرف روزگار اور معاش کا اہم ذریعہ تھے بلکہ باہمی تعاون، سماجی روابط اور زرعی تجربات و روایات کو نسل در نسل منتقل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے تھے۔
شہری علاقے میں ہونے والے پھیلاؤ اور معاشی سرگرمیوں کی توسیع سے ان فارمز کی اہمیت زرعی شعبے سے زیادہ سیاحتی اور ثقافتی حوالے سے ہونے لگی۔ یہاں موجود قدیم کنویں، مٹی کی عمارتیں اور تاریخی آثار ماضی کے طرزِ زندگی اور کام کی نوعیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

ماضی کے ان فارمز میں سے کئی کو اس وقت کیفے اور ریستورانوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس سے سیاحت کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ یہاں قدیم زرعی اور تعمیراتی خصوصیات کو بڑی حد تک برقرار رکھا گیا ہے۔
اس سے سیاحوں کو روایتی زرعی ماحول کو قریب سے دیکھنے اور دیہی سیاحت سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل رہا ہے۔ عنیزہ کے یہ فارمز زرعی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ تاریخی مقامات کو سیاحتی مراکز کے طور پر استعمال کرنے کی ایک بہترین مثال بن گئے ہیں۔
