Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ورلڈ ٹریول مارکیٹ 2026: سعودی لینڈ پویلین میں سیاحتی اور ثقافتی ورثہ متعارف

مملکت میں نئے سیاحتتی تجربات سے متعارف کرایا جا رہا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزیر سیاحت احمد بن عقیل الخطیب نے ورلڈ ٹریول مارکیٹ لندن 2026 میں سعودی لینڈ پویلین کا افتتاح کیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی سیاحتی اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹیو عقیل الشیبانی اور سعودی سیاحتی شعبے کے 37 اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے جس کا مقصد مملکت میں بڑھتے ہوئے سیاحتی مواقع کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔
اس تین روزہ ایونٹ میں سرکاری اور نجی شعے کے شراکت دار بین الاقوامی ٹور آپریٹرز، ایئرلائنز اور ٹریول ڈسٹری بیوٹرز کے ساتھ رابطے کریں گے۔ اس کا مقصد جدہ، العلا، بحیرۂ احمر اور امالا جیسے مقامات ہر نئے سیاحتتی تجربات متعارف کرانا ہے تاکہ مملکت میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔
سعودی وزیرِ سیاحت احمد الخطیب نے کہا کہ ’سعودی سیاحت نے رواں برس عالمی سطح پر اپنی مستحکم حیثیت ثابت کی ہے۔ رواں برس کی پہلی ششماہی کے دوران مملکت میں تقریباً چھ کروڑ 12 لاکھ سیاح آئے جو گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً ایک فیصد زیادہ ہیں جبکہ سیاحتی اخراجات کاحجم 151.9 ارب ریال تک پہنچ گیا۔‘
وزیر سیاحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سعودی عرب 2030 تک سالانہ 15 کروڑ سیاحوں کی میزبانی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

سعودی ٹورازم اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹیو عقیل الشیبانی نے کہا کہ عالمی سیاحتی شعبے کے شراکت دار مملکت کی سیاحت کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔
لندن کے اس ایونٹ میں بحیرۂ احمر کے لگژری ریزوٹس، صحرائی کیمپنگ، ریاض سیزن، العلا کے فیسٹیول، القدیہ شہر میں سکس فلیگز اور اکواریبیا سمیت متعدد سیاحتی منصوبوں اور تفریحی سرگرمیوں کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔
سعودی پویلین میں پہلے دن امالا سیاحتی مقام کو خصوصی طور پر متعارف کرایا گیا جو مملکت کے جدید ترین پرتعیش ساحلی سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ بین الاقوامی سیاحتی شراکت داروں کو مہمان نوازی کے شعبے میں ہونے والی پیشرفت اور نئی سہولتوں سے آگاہ کیا گیا۔

رواں برس امالا کے سات ریزوٹس نے مہمانوں کا استقبال شروع کر دیا ہے جن میں فور سیزنز، سکس سینسز اور روزوڈ کے ریزوٹس شامل ہیں۔
سعودی پویلین اس ایونٹ میں روایتی موسیقی، رقص، عربی خطاطی اور مملکت کے مختلف مقامات سے متاثرہ انٹرایکٹیو تجربات کے ذریعے ثقافتی ورثے کو بھی متعارف کرا رہا ہے۔

 

شیئر: