مشرق وسطیٰ کو نئے تنازعات سے بچانا اولین ترجیح ہے: چینی حکام
صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو بڑی طاقتوں کی کشمکش کا میدان نہیں بننا چاہیے (فوٹو: اے ایف پی)
چین کے حکام نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ شروع ہونے سے روکنا سفارتی کوششوں میں اولین ترجیح ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دو روز قبل ایک بار پھر صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو حملوں کی دھمکی دیے جانے کے بعد بیجنگ نے تنازع کے حل کے حوالے سے کوششیں تیز کر دی ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤننگ نے بدھ کو پریس کانفرنس میں کہا کہ ’سب سے اولین ترجیح مشرق وسطیٰ میں جنگ کو پھر سے شروع ہونے سے روکنا ہے کیونکہ اس سے خطے کے عوام کے لیے تباہی آئے گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ بیجنگ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی حمایت کرے گا جبکہ یمن کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کے علاوہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے بھی ایک مناسب اور جامع حل تک پہنچنے میں مدد دے گا۔‘
ایران کے اہم اقتصادی شراکت دار چین کے حکام نے پیر کو بیجنگ میں سعودی، عمانی اور ایرانی حکام کے ساتھ یکے بعد دیگرے ملاقاتیں کیں اور فریقوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے سعودی قومی سلامتی کے مشیر مساعد بن محمد العیبان اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی سے الگ الگ ملاقاتوں میں بحری راستوں کے تحفظ اور تنازعات کے حل کے لیے افہام و تفہم کا راستہ اپنانے پر زور دیا۔
اسی طرح چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی رواں ہفتے بیجنگ میں عمان کے سلطان سے ملاقات کی اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کو بڑی طاقتوں کی کشمکش کا میدان نہیں بننا چاہیے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ رواں ماہ کے آخر میں بیجنگ اپنا مشرق وسطیٰ کا خصوصی ایلچی ایران، عمان اور سعودی عرب بھیجے گا۔
بیان کے مطابق ان دوروں کا مقصد ’مذاکرات کے ذریعے امن کو فروغ دینا اور کشیدگی کم کرنا ہے۔