جازان میں مقامی سرخ مٹی سے گھریلو استعمال کی اشیا تیار کرنے کا روایتی ہنر
مٹی کے برتن بنانے میں کئی مراحل شامل ہیں جس کی ابتدا سرخ مٹی نکالنے سے ہوتی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
جازان ریجن میں مٹی کے برتن بنانے کا فن صدیوں طویل عرصے سے روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ رہا ہے۔ مقامی ہنر مند علاقے میں دستیاب سرخ مٹی کو ضروری گھریلو اشیا میں تبدیل کر رہے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق جازان ریجن کا یہ ہنر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا رہا اور نت نئے طریقے ایجاد کیے جاتے رہے۔
مٹی کے یہ برتن صرف گھریلو استعمال کے لیے نہیں بنائے جاتے تھے بلکہ ان میں مقامی ماحول کی خصوصیات اور قدرتی وسائل سے استفادے کے صدیوں پر محیط تجربے کی جھلک بھی نمایاں تھی۔
مختلف ضروریات کے مطابق ان کی ساخت اور استعمال میں تنوع پایا جاتا تھا۔ ان میں ’جرہ‘ قابلِ ذکر ہے جسے پانی محفوظ رکھنے اور ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ میفا یا تندور روایتی کھانے پکانے کے کام آتا تھا۔
اسی طرح جبنہ (مٹی سے تیارہ کردہ کافی کا برتن)، مٹی کے پیالے، مرکب (چولہا) اور مشہاف شامل تھے جسے کافی کے دانے بھونے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
مٹی کے برتن بنانے میں کئی مراحل شامل ہیں۔ اس کی ابتدا سرخ مٹی نکالنے اور اسے قابلِ استعمال بنانے سے شروع ہوتی ہے پھر مٹی کو گوندھا جاتا ہے۔ اس مرکب کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال کر برتنوں کی شکل دی جاتی ہے۔

یہ تمام مراحل اس روایتی ہنر مندی کی عکاسی کرتے ہیں جو نسلوں سے منتقل ہوتی آئی ہے۔ برتنوں کی تیاری میں صرف خوبصورتی کو مدنظر ہی نہیں رکھا جاتا تھا بلکہ ان کی ساخت اور افادیت کے درمیان توازن قائم کرنا بھی ضروری مانا جاتا تھا۔
جدید دور میں کھانا پکانے کے نئے آلات متعارف ہونے اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے باعث مٹی کے برتنوں کے بعض روایتی استعمال کم ہوگئے تاہم یہ ہنر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
علاقے کے بعض دیہات آج بھی اس ہنر کے پرانے طریقوں کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں جبکہ مقامی بازار ان مصنوعات کی خرید و فروخت اور ان کے تعارف کے اہم مراکز ہیں۔

اگرچہ کھانا پکانے کے جدید سامان کے باعث روایتی مٹی کے برتنوں کے استعمال میں کمی آئی ہے لیکن ورکشاپ اور روایتی بازار اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ دور میں ’سرامکس‘ کی تکنیک سے استفادہ کیا جا رہا ہے تاہم جازان کے اس ورثے کو جدید ڈیزائن کے ساتھ ملا کر نئے امکانات متعارف کرائے گئے ہیں۔
آج جازان میں مٹی کے برتن ثقافتی شناخت، روایت، تخلیقی صلاحیتوں اور پائیدار دستکاری کا ایک متحرک اظہار ہیں۔

ستمبر 2026 میں جازان کے ’ہیریٹج ہاؤس‘ میں کلب برائے ثقافتی دستکاری کے تحت مٹی کے برتن بنانے کی ایک تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی جس میں مختلف عمر کے تقریباً 50 افراد نے حصہ لیا۔ اس سرگرمی میں بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں نے قدیم ہنر سیکھنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔
