Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حوثیوں کے مطالبات: سعودی عرب نے وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کی تردید کر دی

یمن میں پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت موجود ہے ( فائل فوٹو: اے ایف پی)
سعودی وزارت خارجہ کے ایک آفیشل نے جمعرات کو وال سٹریٹ جرنل میں شائع ایک رپورٹ کی ’قطعی طور پر تردید‘ کی ہے جس میں دعوی کیا گیا کہ یمن کی حوثی ملیشیا نے دشمنی ختم کرنے کے بدلے سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر اور اسے ملک کا حکمراں تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔
ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ میں وزارت خارجہ میں پبلک ڈپلومیسی کے نائب وزیر رائد کریملی نے کہا ’اس رپورٹ کی ’کوئی حقیقت نہیں‘ ہے۔ ان دعوؤں کو اخبار کے رائٹرز یا ان کے مبینہ ذرائع کی من گھڑت کہانی قرار دیا۔‘
انہوں نے حوثیوں پر یمن کی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے، اس کے عوام کو بھوک کا شکار بنانے، ملک کو ایسے تنازعات اور ایجنڈوں کی طرف دھکیلنے کا الزام لگایا جو یمن کے مفاد میں نہیں تھے۔
انہوں نے حوثی ملیشیا پر بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے ساتھ شہری اور اقتصادی تنصبات کو نشانہ بنانے اور امن کوششوں کو مسترد کرنے کا بھی الزام لگایا۔
انہوں نے زور دیا کہ یمن میں پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت موجود ہے۔

 

شیئر: