امریکی مڈ ٹرم الیکشن میں جب یہ واضح ہو گیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شب فوکس نیوز کو ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے مفاہمت کا لہجہ اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس نے ’اچھا کام کیا ہے‘ اور وہ ان کے ساتھ کئی معاملات پر مل کر کام کر سکتے ہیں۔ تاہم، اسی روز ایک دوسرے ٹی وی چینل کو ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے پاس ویٹو کا اختیار ہے، اور یہی میرا سب سے بڑا اختیار ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
امریکی مڈٹرم الیکشن: کیا ہونے جا رہا ہے؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 909995
-
ایران جنگ مِڈ ٹرم الیکشن میں شکست کی وجہ بنی: امریکی نائب صدرNode ID: 910107
انتخابات سے قبل ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت اپنی کم ترین سطح پر دکھائی گئی تھی۔ اس کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ غیر مقبول جنگ اور اس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔ بظاہر ان عوامل نے بڑی تعداد میں ووٹرز کو ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت پر آمادہ کیا۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا کہ ’میرے خیال میں اس کی ایک وجہ ایران بھی تھا، لیکن اس کے ساتھ ہی لوگوں نے یہ بھی سمجھا کہ میں نے ایران کے معاملے میں جو کچھ کیا، وہ کتنا اہم تھا۔‘
تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ایران کے معاملے میں ٹرمپ کے اقدامات کے باعث ریپبلکن پارٹی اگلے چھ برس کے لیے کانگریس کا کنٹرول کھو سکتی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ’ہماری شکست کی وجہ جنگ ہے۔‘
نائب صدر وینس نے مزید کہا کہ ’اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ اس قیمت کے قابل تھی اور اس کے لیے اگلے چھ برس تک سینیٹ کا کنٹرول کھونا بھی قابل قبول تھا تو کھل کر اس کا دفاع کریں۔ دلیل دیں کہ یہ قیمت ادا کرنا درست تھا۔ آپ اتفاق کریں یا اختلاف، کم از کم یہ ایک دیانت دارانہ مؤقف ہوگا۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ ہماری شکست کی وجہ کیا ہے۔‘
اس کے باوجود یہ دیکھنا باقی ہے کہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، دونوں کا کنٹرول کھونے سے صدر ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق پالیسی پر ان کی صدارتی مدت کے باقی دو برسوں میں کیا اثر پڑے گا۔

مشرقِ وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو برائن کٹولس کو یقین نہیں کہ کانگریس میں شکست کے بعد صدر ٹرمپ 2028 میں اپنی صدارتی مدت ختم ہونے تک کسی بڑی پابندی کا سامنا کریں گے۔
انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’فی الحال معاملات معمول کے مطابق ہی چلیں گے۔ قومی سلامتی اور جنگ کے اختیارات کے معاملے میں کانگریس کے مقابلے پر امریکی انتظامیہ نے یکے بعد دیگرے آنے والی ری پبلکن اور ڈیموکریٹک حکومتوں کے دوران اپنے اختیارات میں بہت زیادہ اضافہ کر لیا ہے۔‘
ان کے بقول، ’جنوری میں نئی کانگریس کے حلف اٹھانے تک، یعنی موجودہ کانگریس کے آخری اجلاسوں کے دوران، زیادہ تبدیلی کی توقع نہیں۔‘
برطانیہ میں مقیم لبنانی نژاد صحافی محمد شبرو کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور سفارت کاری کی رپورٹنگ کا 25 برس سے زیادہ تجربہ ہے، انہوں نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ ’کانگریس میں طاقت کا نیا توازن ٹرمپ کو آئندہ اقدامات سے نہیں روک سکے گا۔‘
تاہم ان کے مطابق فوری طور پر ’صورتِ حال انتہائی غیر یقینی رہے گی اور کئی امکانات موجود ہوں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر ٹرمپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو وہ ایسا کریں گے۔ کانگریس جتنا چاہے شور مچا لے، امریکی صدارتی نظام میں اختیارات کی تقسیم اور ایک دوسرے پر نگرانی کے آئینی طریقۂ کار کے باوجود اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔‘
محمد شبرو کے مطابق، ’ایسا بھی ممکن ہے کہ کانگریس میں موافق اکثریت نہ ہونے کی صورت میں ٹرمپ پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوں۔ ٹرمپ کی سیاست میں معقولیت ان کے ’آرٹ آف دی ڈیل‘ کا حصہ نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر ٹرمپ کو یہ محسوس ہوا کہ وہ اپنی صدارتی مدت میں توسیع نہیں کر سکتے یا کسی طاقتور ریپبلکن رہنما کے ذریعے اپنے سیاسی اقتدار کا تسلسل یقینی نہیں بنا سکتے تو وہ امریکا کو مشرقِ وسطیٰ میں مزید الجھا دیں گے اور اس بحران کو اپنے جانشین کے لیے چھوڑ جائیں گے۔‘

دوسری جانب، جنوری سے ڈیموکریٹس ری پبلکن پارٹی کے پیش کردہ قانون سازی کے اقدامات روکنے کی پوزیشن میں ہوں گے، تاہم اپنے مجوزہ بل منظور کرانا ان کے لیے مشکل ہوگا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ابتدائی 100 گھنٹوں میں متعدد بل منظور کرانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جن کا مقصد صدر ٹرمپ کی کئی پالیسیوں کو واپس لینا ہے۔
ان کی ترجیحات میں ایک مجوزہ بل بھی شامل ہے جس کے تحت صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے یا اسے جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے باضابطہ اجازت لینے کا پابند بنایا جائے گا۔ اس کا عملی مطلب بھی جنگ کا خاتمہ ہی ہوگا۔
اگرچہ عوامی مقبولیت کے حامل بعض بلوں کو حزبِ اختلاف کے ارکان کی حمایت ملنے کا امکان ہے لیکن ری پبلکن ارکان کی تائید کے بغیر ان میں سے بیشتر کی منظوری مشکل ہوگی۔
100 نشستوں پر مشتمل امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے دو آزاد ارکان کی حمایت سمیت 56 نشستوں کے ساتھ دوبارہ اکثریت حاصل کر لی ہے، جبکہ ری پبلکن پارٹی کے پاس 44 نشستیں ہیں۔ تاہم کسی بل کو سینیٹ سے منظور کرانے کے لیے 60 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
صدر کے ویٹو کے اختیار کو غیر مؤثر بنانے کے لیے اس سے بھی زیادہ حمایت درکار ہوتی ہے۔ امریکی صدر کسی بھی بل کو ویٹو کر سکتے ہیں، جب تک کہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں دو تہائی ارکان اس کی حمایت نہ کریں۔
اس کے باوجود ڈیموکریٹس کے زیرِ کنٹرول کانگریس کے پاس ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو روکنے کے دوسرے راستے بھی موجود ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک کوئنسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسپانسبل اسٹیٹ کرافٹ کے ایرانی نژاد سویڈش ایگزیکٹو نائب صدر تریتا پارسی کے مطابق، ڈیموکریٹس اب حکومتی اخراجات پر کنٹرول کے ذریعے جنگ رکوانے کی پوزیشن میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ڈیموکریٹس کے پاس اب مالی وسائل کی منظوری روک کر جنگ ختم کرانے کا اختیار ہے۔ انہیں نہ صرف عوامی مینڈیٹ حاصل ہے بلکہ امریکی عوام نے بھی انہیں یہی ذمہ داری سونپی ہے۔‘
تریتا پارسی نے خبردار کیا کہ ’اگر ڈیموکریٹس ایسا کرنے میں ناکام رہے یا انہوں نے اس کی کوشش ہی نہ کی تو جس عوامی غصے نے انتخابات میں ٹرمپ کو شکست سے دوچار کیا، اس کا رخ ڈیموکریٹس کی طرف بھی ہو جائے گا۔ عوام انہیں اس غیر قانونی جنگ میں شریکِ جرم سمجھیں گے۔‘
ان کے بقول، ’ٹرمپ کی عبرت ناک انتخابی شکست کی وجہ ڈیموکریٹس کا کوئی غیر معمولی سیاسی وژن نہیں تھا بلکہ ایران جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے بحران پر امریکی عوام کا شدید غصہ تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جنگ کے حامی حلقے ٹرمپ پر ایران کے خلاف جنگ جنوری سے پہلے دوبارہ شروع کرنے کے لیے بھرپور دباؤ ڈالیں گے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ کانگریس کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے پاس آنے کے بعد ایسا کرنے کا یہ ان کا آخری موقع ہو سکتا ہے۔‘

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (آر یو ایس آئی) میں مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور ترکیہ کی سلامتی سے متعلق امور کی سینئر ریسرچ فیلو برجو اوزچلیک بھی اس امکان کو انتہائی سنجیدہ قرار دیتی ہیں۔
انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جنوری سے ڈیموکریٹس کی بھاری اکثریت کے باعث ٹرمپ کو کانگریس کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
تاہم، ان کے بقول اس صورتِ حال میں یہ امکان بھی موجود ہے کہ ٹرمپ آئندہ دو ماہ کے دوران، حتیٰ کہ اگلے دو ہفتوں میں بھی ایران پر دوبارہ حملے کا حکم دے دیں۔
برجو اوزچلیک کے مطابق، اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ٹرمپ ایران کے معاملے میں اپنی سیاسی میراث کس طرح تشکیل دینا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’کیا ٹرمپ ایران کے خلاف مزید سخت اور وسیع فوجی مہم پر توجہ مرکوز کریں گے تاکہ یہ مؤقف برقرار رکھ سکیں کہ ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش روکنے کے لیے جنگ ضروری تھی؟‘
’یا وہ سفارتی کامیابی کو ترجیح دیں گے جسے اپنی ذاتی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں، حالانکہ اس کے لیے خلیجی ممالک، ترکیہ اور پاکستان زیادہ عملی کوششیں کر رہے ہیں؟‘

برجو اوزچلیک کے خیال میں ممکن ہے کہ ٹرمپ ان دونوں راستوں کے درمیان کوئی درمیانی راستہ اختیار کریں۔ ان کے مطابق، اس صورت میں ٹرمپ ایران کی جوہری تنصیبات اور بیلسٹک میزائلوں کے مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے محدود اور انتہائی درست فوجی حملوں کی اجازت دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اس طرح کی کارروائی کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہوگا، تاہم اسے اس حد تک محدود رکھا جائے گا کہ خلیجی ممالک پر ایران کے شدید ردعمل کا خطرہ پیدا نہ ہو۔‘
ان کے مطابق، ’خطرہ یہ ہے کہ تہران واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ سخت اور غیر متناسب ہوگا۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ اس انتباہ کو سنجیدگی سے لیں گے یا ایک بار پھر خطرہ مول لے کر اپنے خلیجی اتحادیوں کو مشکلات سے دوچار کریں گے؟ فی الحال یہی ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔‘
دریں اثنا، ڈیموکریٹس نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز، جن کے ایوان کے پہلے سیاہ فام سپیکر بننے کا امکان ہے، نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت ’پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔‘
پیٹ ہیگسیتھ کے مواخذے کی تجویز پہلے ہی ایک ریپبلکن رکنِ کانگریس پیش کر چکے ہیں۔
رکنِ کانگریس تھامس میسی نے ستمبر میں ایوانِ نمائندگان میں اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف 90 روز سے زیادہ فوجی کارروائیوں میں ملوث رہ کر وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور انہیں اس کا جواب دہ ہونا چاہیے۔‘
یہ قرارداد منظور نہیں ہو سکی تھی۔ اس سے قبل مارچ میں بھی تھامس میسی نے ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ امریکی فوج کو ’ایران میں غیر مجاز فوجی کارروائیوں‘ سے واپس بلائیں، تاہم وہ قرارداد بھی ناکام رہی تھی۔
اس کے باوجود امکان ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں کامیاب ہونے والے بعض ریپبلکن ارکان اب ایران جنگ سے متعلق حکومتی اقدامات کے خلاف ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔
تھامس میسی نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’میں سوچ رہا ہوں کہ میرے کتنے ساتھی ارکان اب ایران جنگ سے متعلق میرے اختیاراتِ جنگ کے بل پر اپنی سابقہ ووٹنگ تبدیل کرنے کا موقع حاصل کرنا چاہیں گے؟‘

عرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے صدر جیمز زوگبی کا خیال ہے کہ ٹرمپ اور ان کے قریبی ساتھی ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے طریقے تلاش کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں اس صورتِ حال کا موازنہ 1994 کے وسط مدتی انتخابات میں صدر بل کلنٹن کی شکست سے کر رہا تھا، جب ریپبلکنز نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا تھا۔‘
ان کے مطابق، ’کلنٹن نے صورتِ حال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ اگر انہیں اپنی صدارت کے دوران کچھ کرنا ہے تو انہیں ان لوگوں کے ساتھ حکومت چلانے کا طریقہ تلاش کرنا ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے قانون سازی کے لیے راستہ نکالا اور کئی معاملات میں ریپبلکنز کے مطالبات بھی تسلیم کیے۔‘
تاہم، جیمز زوگبی کے بقول، ’ٹرمپ، کلنٹن نہیں ہیں۔ انہوں نے اب تک کوئی ایسا اشارہ نہیں دیا کہ وہ سیاسی محاذ آرائی کے بجائے حکومت چلانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ وہ اس انتخابی نتیجے کو حکومت چلانے کے موقع کے بجائے ایک چیلنج سمجھیں گے اور اشتعال انگیز اقدامات جاری رکھیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’مجھے حیرت نہیں ہوگی اگر اس وقت وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے نائب چیف آف اسٹاف برائے پالیسی اسٹیفن ملر کانگریس کی منظوری کے بغیر کیے جا سکنے والے اقدامات کی گنجائش تلاش کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہوں۔‘
وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کئی مرتبہ اشارہ دے چکے تھے کہ ایران کے ساتھ فوجی محاذ آرائی انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
جیمز زوگبی نے کہا کہ ’انتخابات کے باعث ٹرمپ محتاط تھے، لیکن اب ان پر یہ پابندی نہیں رہی۔‘
ان کے بقول، ’اب معاملہ ان کی سیاسی میراث کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی؟ ایران کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا اور سوال یہ ہے کہ کیا ایران پر ایک اور حملہ یا حملوں کا سلسلہ اس مسئلے کو حل کر سکتا ہے، جبکہ ماضی میں ایسے اقدامات کامیاب نہیں ہوئے؟‘
ان کے مطابق، دوسرا راستہ وہی ہے جس پر سعودی عرب، عمان، پاکستان اور ترکیہ عمل کر رہے ہیں، یعنی ’آئیں بیٹھ کر بات کریں اور ایسا قابلِ عمل حل تلاش کریں جو خلیجی خطے میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنا سکے۔‘

جیمز زوگبی نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ایک بات یقینی ہے اور وہ یہ کہ ان کے اگلے اقدام کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔‘
ایران کا مڈٹرم الیکشن کے نتائج پر ردعمل بھی غیر یقینی ہے۔
برجو اوزچلیک کے مطابق، ’تہران میں انتخابی نتائج کو اپنی پالیسیوں کی درستگی کے ثبوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور وہاں اس حوالے سے واضح اطمینان پایا جاتا ہے۔‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’کیا ایرانی مذاکرات کار اب علاقائی ثالثوں کے ذریعے ٹرمپ کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے زیادہ گنجائش محسوس کریں گے، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس محاذ آرائی میں ان کا پلڑا بھاری رہا ہے؟ یا وہ اس کے برعکس اپنے مطالبات میں مزید سختی اختیار کریں گے اور کسی نئے مفاہمتی سمجھوتے سے پہلے امریکا سے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کریں گے؟‘
ان کے مطابق، ’اس بارے میں بھی صورتِ حال واضح نہیں۔ البتہ ایک بات طے ہے کہ ٹرمپ اب ایران کے معاملے سے پہلو تہی نہیں کر سکتے، خواہ وہ ایسا کرنا چاہیں۔ آبنائے ہرمز کا بحران اب بھی حل طلب ہے اور حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بھی برقرار ہے۔‘












