پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ اسے انڈیا کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تہذیبی مکالمے کے فورم میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے تاہم اس میں شرکت کا فیصلہ مناسب وقت پر ملکی قیادت کرے گی۔
دوسری جانب دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان مذہبی سیاحت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے سکھ یاتریوں سمیت دیگر مذاہب کے پیروکاروں کا خیرمقدم کرتا رہے گا اور رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران تقریباً 4 ہزار سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد میں جمعے کو دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ایس سی او فورم میں شرکت کی دعوت موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دعوت نامہ مل چکا ہے اور قیادت اس حوالے سے مناسب وقت پر فیصلہ کرے گی۔
مزید پڑھیں
انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈیا نے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی کو ایس سی او کے پہلے تہذیبی مکالمے کے فورم میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ یہ فورم 20 سے 22 نومبر 2026 کے دوران نئی دہلی میں منعقد ہوگا، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان تہذیبی، ثقافتی اور علمی روابط کو فروغ دینا ہے۔ اس میں ایس سی او کے رکن ممالک کے علاوہ مبصر اور مکالمے کے شراکت دار ممالک کے نمائندوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔
یہ دعوت پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں مئی 2025 کے فوجی تصادم کے بعد ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔
ایس سی او سربراہ اجلاس 2027 میں اسلام آباد میں ہوگا
واضح رہے کہ نئی دہلی میں ہونے والا تہذیبی مکالمے کا فورم ایس سی او سربراہ اجلاس سے الگ سرگرمی ہے۔ پاکستان نے 2026-27 کے لیے تنظیم کی سربراہی سنبھال لی ہے اور 2027 میں ایس سی او کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد کرے گا۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے اس سربراہ اجلاس کی تیاریوں کے لیے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس بھی منعقد ہو چکا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ علاقائی روابط، اقتصادی تعاون اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔

سکھ یاتریوں کے لیے 4 ہزار ویزے، پاکستان مذہبی زائرین کا خیرمقدم
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے 2025 کے دوران انڈیا سے آنے والے مذہبی زائرین کو مجموعی طور پر 9 ہزار 248 ویزے جاری کیے جبکہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں تقریباً 4 ہزار سکھ یاتریوں کو ویزے فراہم کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سکھ یاتریوں سمیت دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے اور اس حوالے سے مذہبی مقامات تک رسائی اور سہولتوں کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
پاکستان سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیو جی اور سکھ تاریخ کی کئی اہم شخصیات سے وابستہ مقدس مقامات کا مرکز ہے۔ ننکانہ صاحب میں گوردوارہ جنم استھان بابا گرو نانک کی جائے پیدائش ہے، جبکہ نارووال میں گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور وہ مقام ہے جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری برس گزارے۔
اسی طرح حسن ابدال میں گوردوارہ پنجہ صاحب، لاہور میں گوردوارہ ڈیرہ صاحب اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی سمیت کئی اہم مذہبی و تاریخی مقامات بھی سکھ برادری کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
انڈیا سے سکھ یاتری عموماً بابا گرو نانک کے جنم دن، بیساکھی، گرو ارجن دیو جی کے یوم شہادت اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی سمیت مختلف مذہبی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان آتے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان نے نومبر 2019 میں کرتارپور راہداری بھی کھولی تھی، جس کے ذریعے انڈین سکھ یاتری بغیر ویزا گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی زیارت کر سکتے تھے۔ تاہم مئی 2025 میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے بعد اس راہداری سے آمدورفت معطل ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کا مؤقف ہے کہ راہداری پاکستان کی جانب سے بند نہیں کی گئی بلکہ انڈین حکام نے اس کے ذریعے یاتریوں کی آمدورفت روک رکھی ہے۔ دوسری جانب انڈین حکام نے سکیورٹی صورت حال کو اس کی بندش کی وجہ قرار دیا ہے۔
امریکی افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے واپس بھیجنے کے معاملے پر بات چیت جاری
امریکا کی جانب سے افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے افغانستان واپس بھیجنے سے متعلق اطلاعات پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس معاملے کے تمام پہلوؤں پر بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایسا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی جس پر تمام متعلقہ فریقوں کا اتفاق ہو۔
واضح رہے کہ امریکی میڈیا رپورٹس میں ایسے افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے افغانستان منتقل کرنے کے ممکنہ منصوبے کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں امریکہ سے ملک بدر کیا جانا ہے۔ اس معاملے میں افغان شہریوں کی قانونی حیثیت، تحفظ اور واپسی کے انتظامات اہم سوالات ہیں۔

ای سی او وزرائے کونسل کا اجلاس 15 اور 16 نومبر کو اسلام آباد میں ہوگا
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی وزرائے کونسل کا اجلاس 15 اور 16 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے اجلاس کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو قریبی رابطے اور باہمی تعاون کے ساتھ انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اقتصادی تعاون تنظیم کے ساتھ اشتراک اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور رکن ممالک کے وفود کو اسلام آباد میں خوش آمدید کہنے کا منتظر ہے۔
اجلاس میں علاقائی تعاون کے فروغ، اقتصادی روابط اور تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔












