Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: فلمیں دیکھ کر 20 کروڑ کی بینک ڈکیتی کرنے والے تین یونیورسٹی طلبہ گرفتار 

بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کی پولیس نے ایک سرکاری بینک سے 20 کروڑ روپے سے زائد کی ڈکیتی کے الزام میں تین ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واردات میں پانچ افراد ملوث تھے جو لسبیلہ یونیورسٹی کے موجودہ یا سابق طالب علم ہیں۔
ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’فروری 2015 میں ہونے والی ڈکیتی کے مبینہ ماسٹر مائنڈ زوہیب بھی لسبیلہ یونیورسٹی کا طالب علم ہے۔‘
ان کے مطابق پولیس نے تحقیقات کے دوران پانچ ملزمان کی شناخت کی جن میں زوہیب، بلال اکرم، مرتضیٰ، جواد اور بلال حمید شامل ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان پانچوں نے ڈکیتی کی منصوبہ بندی بھی خود کی اور اسے انجام بھی خود دیا۔
ایس ایس پی کے مطابق تین ملزمان پکڑے گئے ہیں جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری اور لوٹی گئی رقم کی مزید برآمدگی کے لیے کارروائی جاری ہے۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ ’زوہیب کو خفیہ اطلاع پر حراست میں لیا گیا اور ان کے قبضے سے ایک بندوق برآمد ہوئی جس پر الگ مقدمہ درج کیا گیا۔‘ ان کے مطابق بعد ازاں تفتیش کے دوران زوہیب نے ڈکیتی میں ملوث دیگر افراد اور رقم کی تقسیم کی تفصیلات بتائیں۔
ایس ایس پی کے مطابق ’زوہیب کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات پولیس کے لیے اہم ثابت ہوئیں۔ ڈکیتی سے پہلے ان کے اکاؤنٹ میں چند ہزار روپے کے لین دین ہوتے تھے لیکن گزشتہ ڈیڑھ سال میں تقریباً 17 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’رقم کی منتقلی میں کرشنا نامی مقامی کاروباری شخص کا اکاؤنٹ بھی استعمال ہوا جس کے ذریعے تقریباً پونے تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئیں۔‘
 ایس ایس پی کے مطابق ’کاروباری شخص نے ان ٹرانزیکشنز کا اعتراف کیا ہے اور مجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرایا ہے۔‘
واضح رہے کہ ’اس دفعہ کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیا گیا بیان عدالت میں شہادت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔‘
پولیس کے مطابق ’ملزمان کے موبائل فونز سے چیٹس اور دیگر تکنیکی شواہد بھی ملے ہیں جنہیں مزید فرانزک تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھیجا جا رہا ہے۔‘

واردات کیسے ہوئی؟

یہ ڈکیتی فروری 2025 میں کراچی سے تقریباً 120 کلومیٹر دور ضلع لسبیلہ کے شہر اوتھل میں صبح تقریبا ساڑھے آٹھ سے نو بجے کے درمیان ہوئی۔ پولیس کے مطابق مسلح افراد نے نیشنل بینک اوتھل کو لوٹا اور فرار ہو گئے۔
ایس ایس پی کے مطابق ملزمان نے واردات کے لیے پہلے سرخ رنگ کی سرف گاڑی حاصل کی جس کا رنگ واردات سے ایک رات قبل تبدیل کرکے سیاہ کر دیا گیا۔ 
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے ڈکیتی کے دوران فرنٹیئر کور (ایف سی) کی وردیاں پہن رکھی تھیں جو مبینہ طور پر آن لائن بیرون ملک سے منگوائی گئی تھیں۔

ڈکیتی فروری 2025 میں کراچی سے تقریباً 120 کلومیٹر دور ضلع لسبیلہ کے شہر اوتھل میں ہوئی (فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

 ’میں نے 15 کلومیٹر تک تعاقب کیا‘

اس وقت اوتھل پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او یار محمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ڈکیتی کی اطلاع ملنے پر وہ بینک پہنچے تو ملزمان فرار ہو چکے تھے۔ وہ فوری طور پر ان کے پیچھے گئے اور تقریباً 15 کلومیٹر تک تعاقب کیا۔‘
ان کے مطابق ’ایک جنگلی علاقے میں درختوں کے قریب گھات لگائے ملزمان نے ان پر فائرنگ کی۔ انہیں دو گولیاں لگیں جن میں سے ایک آنکھ کے قریب لگی اور وہ ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے۔‘
 یار محمد کے مطابق ’اس کے بعد ملزمان نے اپنی گاڑی کو آگ لگا دی اور قریبی پہاڑوں کی طرف فرار ہو گئے۔‘

’فلمیں دیکھ کر منصوبہ بندی کی‘

لسبیلہ پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو کیس کی تفتیش سے متعلق مزید تفصیلات بتائیں۔ ان کے مطابق ’گرفتار ملزمان زوہیب، بلال اکرم اور مرتضیٰ آپس میں رشتہ دار ہیں۔ بلال اکرم اور مرتضیٰ، زوہیب کے ماموں زاد اور خالہ زاد ہیں۔‘
افسر کے مطابق ’زوہیب اور مرتضیٰ یونیورسٹی کے طالب علم ہیں جبکہ بلال اکرم بی بی اے کی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔ باقی دو ملزمان زوہیب کے بچپن کے دوست ہیں اور وہ بھی لسبیلہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم رہے ہیں۔‘
پولیس افسر کے مطابق ’ابتدا میں پولیس کو شبہ تھا کہ اس واردات میں کوئی کالعدم تنظیم ملوث ہو سکتی ہے جو اس سے قبل صوبے میں مختلف بینکوں میں ڈکیتیاں کر چکی ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ چند یونیورسٹی طلبہ کی واردات ہے جو آپس میں رشتہ دار اور دوست ہیں۔‘
افسر کا کہنا ہے کہ ’اس منصوبے کے مرکزی کردار زوہیب تھے جنہوں نے باقی افراد کو یکجا کرکے منصوبہ بنایا۔‘
ان کے مطابق ’زوہیب نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ وہ بینک ڈکیتی پر بننے والی ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلمیں اور ویب سیریز دیکھ کر متاثر ہوئے اور ان سے آئیڈیاز لے کر واردات کا منصوبہ بنایا۔‘
افسر کا کہنا تھا کہ ’ملزم شاید خود کو منی ہائسٹ کا پروفیسر سمجھتا تھا۔‘
واضح رہے کہ ’منی ہائسٹ‘ ہسپانوی زبان کی مقبول ویب سیریز ہے جو نیٹ فلکس پر دکھائی گئی۔ اس میں ’پروفیسر‘ کے نام سے معروف کردار ڈاکوؤں کے ایک گروہ کو سپین کے رائل منٹ یعنی کرنسی چھاپنے والے سرکاری ادارے میں ڈکیتی کے لیے منظم کرتا ہے اور پوری کارروائی کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔
پولیس افسر کے مابق مرکزی ملزم تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے گھر کے کئی افراد اعلی سرکاری عہدوں پر بھی فائز ہیں۔

افسر کا کہنا تھا کہ ’ملزم شاید خود کو منی ہائسٹ کا پروفیسر سمجھتا تھا‘ (فائل فوٹو: نیٹ فلکس)

رقم سے گاڑیاں اور پیٹرول پمپ خریدے گئے‘

پولیس افسر کے مطابق ملزمان نے لوٹی گئی رقم صرف ذاتی اخراجات اور عیش و عشرت پر خرچ نہیں کی بلکہ مختلف کاروباروں میں لگائی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس رقم سے گاڑیاں اور پیٹرول پمپ خریدے گئے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں بھی سرمایہ لگایا گیا۔
ایس ایس پی لسبیلہ نجیب پندرانی نے بھی پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ ’رقم کا بڑا حصہ مختلف مقامات پر منتقل اور سرمایہ کاری میں لگایا گیا اس لیے مکمل برآمدگی میں وقت لگ سکتا ہے۔‘ ان کے مطابق پولیس نے بعض گاڑیاں برآمد کی ہیں اور مزید ریکوری کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’زوہیب کے بھائی سمیت بعض دیگر افراد کے کردار کی بھی تفتیش ہو رہی ہے تاہم فی الحال مزید تفصیلات بتانا مناسب نہیں۔‘
’جرم کا داغ زندگی بھر رہے گا‘
ایس ایس پی نجیب اللہ پندرانی نے یونیورسٹی طلبہ کے مبینہ طور پر اس جرم میں ملوث ہونے کو تشویشناک قرار دیا۔ ان کے مطابق ’ملزمان کی عمریں تقریباً 24 سے 26 سال ہیں اور انہیں اپنی توانائیاں تعلیم اور محنت پر صرف کرنی چاہییں تھیں لیکن انہوں نے مبینہ طور پر ایسا راستہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں اب انہیں جیل جانا پڑ رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ممکن ہے ملزمان نے ڈکیتی کی رقم سے ڈیڑھ سال تک بہتر زندگی گزاری ہو لیکن اس جرم کا داغ ان کے ساتھ زندگی بھر رہے گا۔‘
 انہوں نے کہا کہ ’نوجوانوں کو اس واقعے سے سبق لینا چاہیے کہ محنت اور جائز طریقے سے زندگی گزارنا ہی بہتر راستہ ہے۔‘
ایس ایس پی کے مطابق ’لسبیلہ پولیس نے اس مقدمے پر تقریباً ڈیڑھ سال کام کیا اور بالآخر ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔‘

شیئر: