پاکستان میں پابندیوں کے باوجود ٹک ٹاک پر 'لائیو سٹریمنگ' کا رُجحان کیوں فروغ پا رہا ہے؟
پاکستان میں پابندیوں کے باوجود ٹک ٹاک پر 'لائیو سٹریمنگ' کا رُجحان کیوں فروغ پا رہا ہے؟
جمعہ 6 نومبر 2026 5:41
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان میں غیر ملکی سمز کا استعمال کرتے ہوئے ٹک ٹاک پر 'لائیو سٹریمنگ' کا رُجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان میں قانونی اور تکنیکی بندشوں کے باوجود غیر ملکی سمز کا استعمال کرتے ہوئے ٹک ٹاک پر 'لائیو سٹریمنگ' کا رُجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
مالیاتی فائدے کے اس فیچر نے ملک میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی ایک نئی کلاس کو جنم دیا ہے، جس نے محض موبائل سکرین کے ذریعے نہ صرف مقبولیت کی حدوں کو چُھو لیا ہے بلکہ مختصر وقت میں کروڑوں روپے کے اثاثے بھی بنا لیے ہیں۔
رجب بٹ ایسے وائرل انفلوئنسرز ہوں یا سیالکوٹ کے حالیہ واقعے کے بعد سُرخیوں میں آنے والے انصر جٹ المعروف مسٹر پتلو، پاکستان میں سوشل میڈیا شخصیات اب اپنی ذاتی تقریبات کو بھی بڑے عوامی اجتماعات میں تبدیل کر رہی ہیں۔
جن میں ایک طرف لائیو سٹریمنگ کے دوران 'گفٹنگ' کے ذریعے بھاری آمدن حاصل کی جاتی ہے، تو دوسری طرف ایونٹ میں شریک مداحوں کو کروڑوں روپے کے قیمتی تحائف بھی دیے جاتے ہیں۔
تاہم ٹک ٹاک لائیو اور انفلوئنسرز کی جانب سے اس طرح کے عوامی اجتماعات کا انعقاد اُس وقت سنگین سوالات کی زد میں آیا جب سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر ’مسٹر پتلو‘ کی مہندی ایک خونی حادثے میں بدل گئی جہاں شدید بھگدڑ کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک جبکہ 18 کے قریب شہری زخمی ہوئے۔
ٹک ٹاکرز کی جانب سے اپنی ذاتی تقریبات کو عوامی شوز میں بدلنے کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی مختلف ٹک ٹاکرز اپنی سالگرہ کی پارٹیوں اور شادیوں میں ہزاروں کے ہجوم اکٹھے کرتے رہے ہیں۔
سیالکوٹ واقعے کے بعد اب سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ بنیادی سوالات شدت سے اٹھائے جا رہے ہیں کہ ٹک ٹاکرز کی جانب سے اپنی ذاتی خوشیوں کو عوامی شو بنانے کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟
مزید یہ کہ پاکستان میں ’لائیو سٹریمنگ‘ کا یہ کلچر کیسے مقبول ہوا اور ورچوئل گفٹنگ کے ذریعے کروڑوں روپے کی آمدن کا یہ معاشی ماڈل آخر کام کیسے کرتا ہے؟
پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو کا بڑھتا ہوا کلچر محض آن لائن تفریح تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک باقاعدہ معاشی نظام اور وائرل ڈرامے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
شہری اور دیہی دونوں طبقات میں اس کلچر کے تیزی سے فروغ نے جہاں کئی عام افراد کو راتوں رات کروڑ پتی بنایا، وہیں اس نے کئی تنازعات کو بھی جنم دیا۔
سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر ’مسٹر پتلو‘ کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ سے 2 افراد ہلاک جبکہ 18 زخمی ہوئے (فائل فوٹو: سکرین گریب)
اب اگر ملک میں ٹک ٹاک لائیو کلچر پر نظر ڈالیں تو ماہرین کے مطابق اس کے پیچھے چند اہم معاشی و نفسیاتی عوامل کارفرما ہیں۔
ان میں سب سے اہم ’پی کے بیٹلز‘ ہیں جہاں دو یا دو سے زیادہ کریئیٹرز کا آپس میں ریئل ٹائم مقابلہ ہوتا ہے اور فینز کو اُکسایا جاتا ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ ٹک ٹاکر کو جتانے کے لیے ورچوئل گفٹس بھیجیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ’پیرا سوشل‘ تعلق بھی اس مقبولیت کا ایک بنیادی سبب ہے، جس کے تحت عام صارفین کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کسی معروف شخصیت کی زندگی کا براہِ راست حصہ بن چکے ہیں۔
لائیو سیشنز میں مداحوں کا نام پکارنا، تبصروں کے فوری جواب دینا اور نجی زندگی کو سکرین پر لانا صارفین کو جوڑے رکھتا ہے، جبکہ ملک میں روزگار کی کمی کے باعث یہ پلیٹ فارم نوجوانوں کے لیے تیز ترین اور براہِ راست آمدن کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹک ٹاک لائیو سے اتنی بھاری کمائی کیسے ممکن ہے؟
ٹک ٹاک لائیو کا پورا معاشی ماڈل ورچوئل گفٹنگ پر چلتا ہے جس سے انفلوئنسرز بے تحاشا آمدن حاصل کرتے ہیں۔
صارفین پہلے ایزی پیسہ، جیز کیش یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ٹک ٹاک کوائنز خریدتے ہیں اور لائیو سیشن کے دوران ’روز‘، ’لاپتہ شیر‘ یا ‘ٹک ٹاک یونیورس‘ ایسے اینیمیٹڈ گفٹس اپنے پسندیدہ کریئیٹر کو بھیجتے ہیں۔
پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو کے کلچر نے کئی افراد کو کروڑ پتی بنایا تو کئی تنازعات کو بھی جنم دیا (فائل فوٹو: آئی سٹاک)
یہ گفٹس کریئیٹر کے اکاؤنٹ میں ’ڈائمنڈز‘ کی صورت میں جمع ہوتے ہیں جن کی مالیات ہزاروں سے لاکھوں روپے تک ہوتی ہے۔
ٹک ٹاک اپنا 50 سے 60 فیصد حصہ کاٹنے کے بعد بقایا رقم کریئیٹرز کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دیتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ برینڈز اور مقامی دکان دار بھی براہِ راست پروڈکٹس دکھانے کے الگ پیسے دیتے ہیں۔ تقریبات میں ہجوم اکٹھا کرنے کا رجحان
مالیاتی فائدے اور لائیو کیمرے کا یہ چسکہ اب صرف موبائل سکرین تک محدود نہیں رہا بلکہ نجی زندگی اور شادی بیاہ کی تقریبات کو بھی بڑے عوامی شوز اور معاشی منصوبوں میں تبدیل کر رہا ہے۔
انفلوئنسرز اپنی نجی تقریبات جیسے شادی، مہندی، برتھ ڈے پارٹی یا سٹور اوپننگز پر لائیو آکر اور گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا نقد انعامات کا لالچ دے کر ہزاروں کا غیر منظم ہجوم اکٹھا کر لیتے ہیں۔
اتنے بڑے ہجوم کی موجودگی سے ٹک ٹاک کا الگورتھم ویڈیو کی ’ریچ‘ بڑھا کر اسے وائرل کر دیتا ہے، جس سے برینڈ سپانسرشپ میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ان ایونٹس کے دوران فینز میں قیمتی تحائف بھی تقسیم کیے جاتے ہیں، لیکن مناسب سکیورٹی، اجازت ناموں اور کراؤڈ مینجمنٹ کے بغیر ایسے اجتماعات کا انعقاد سیالکوٹ جیسے دردناک سانحے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
لائیو سٹریمنگ کے لیے پاکستانی سمز کے بجائے دبئی یا برطانیہ کی سمز استعمال کی جاتی ہیں (فائل فوٹو: پِکسابے)
ٹک ٹاکرز زیادہ پیسہ کیسے کماتے ہیں؟
ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ آمدن بڑے گفٹس مثلاً ’ٹک ٹاک یونیورس’، ’لاین‘ اور ’ڈریگن‘ بھیجنے سے ہوتی ہے۔ ایک ’ٹک ٹاک یونیورس‘ گفٹ کی قیمت پاکستانی روپے میں قریباً 1 لاکھ 20 ہزار سے 1 لاکھ 50 ہزار روپے تک ہوتی ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کی گفٹنگ
ٹک ٹاکرز کی اصل اور سب سے بڑی کمائی بیرونِ ملک (بالخصوص خلیجی ممالک، برطانیہ اور امریکہ) میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجے گئے گفٹس سے ہوتی ہے۔
وہاں کی کرنسی (ریال، درہم، پاؤنڈ، ڈالر) مضبوط ہونے کے باعث جب گفٹس بھیجے جاتے ہیں تو ان کی پاکستانی روپوں میں قدر بہت زیادہ بن جاتی ہے۔
دو ٹک ٹاکرز کے درمیان مقابلے کے دوران ان کے ’ٹاپ سپورٹرز‘ اور فینز اپنے کریئیٹر کو جتانے کے لیے چند منٹوں میں لاکھوں روپے کے گفٹس برسا دیتے ہیں۔ کیا ٹک ٹاک سے حاصل ہونے والی رقم پر ٹیکس لگتا ہے؟
پاکستان میں ٹک ٹاکرز کی اس غیر معمولی اور اچانک بڑھتی ہوئی آمدن پر ایف بی آر اور مالیاتی اداروں کے تحفظات ہیں لیکن جب ٹک ٹاک سے کمائی گئی رقم ’ڈائمنڈز‘ سے ڈالرز یا روپوں میں بدل کر کریئیٹر کے پاکستانی بینک اکاؤنٹ یا پے پال/پائنیئر میں منتقل ہوتی ہے۔
ایف بی آر کی نظر میں یہ ’انکم فرام اَدر سورسز‘ یا فری لانسنگ/انفلوئنسر انکم کے زُمرے میں آتی ہے۔ اگر رقم کی حد سالانہ حد سے تجاوز کرے تو اس پر باقاعدہ انکم ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔
پاکستان میں ٹک ٹاکرز کی بڑھتی ہوئی آمدن پر ایف بی آر اور مالیاتی اداروں کے تحفظات بھی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں کچھ ٹک ٹاکرز ’نان فائلر‘ بھی ہیں یا وہ اپنی اس رقم کو بینکوں کے بجائے صرافہ بازار، ہونڈی/حوالہ یا کیش کے ذریعے وصول اور استعمال کرتے ہیں تاکہ ایف بی آر کی گرفت سے بچ سکیں۔
دوسری جانب مالیاتی اداروں ایف بی آر/سٹیٹ بینک کی طرف سے بھی اکثر ان اکاؤنٹس پر خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ گفٹنگ کے نام پر بیرونِ ملک سے آنے والی بھاری رقم کا غلط استعمال بھی سکتا ہے۔
ان اداروں کے مطابق بیرون ملک سے آنے والی یہ رقم منی لانڈرنگ، بلیک منی کو وائٹ کرنے، یا غیر قانونی ذرائع کی منتقلی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ اسی وجہ سے کئی بڑے ٹک ٹاکرز کو ایف بی آر نوٹسز اور ایف آئی اے انکوائریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لائیو سٹریمنگ پر ٹک ٹاک کا مؤقف؟
اُردو نیوز نے رواں سال جولائی میں جب اس حوالے سے پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لیے ٹک ٹاک انتظامیہ سے ان کا مؤقف جانا تھا تو ای میل کے ذریعے بتایا گیا تھا کہ ’ٹک ٹاک لائیو فی الحال پاکستان میں دستیاب نہیں ہے اور جو بھی صارفین لائیو تک رسائی حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں، وہ غیر رسمی طریقوں کے ذریعے ایسا کر رہے ہیں۔‘
ٹک ٹاکرز کی لائیو سٹریمنگ سے منی لانڈرنگ سمیت بہت سے سنگین خدشات بھی منسلک ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ٹک ٹاک کی جانب سے بھیجی گئی ای میل میں مزید کہا گیا تھا کہ ’پلیٹ فارم کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اور ٹک ٹاک اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے مواد کو فعال انداز میں ہٹانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
اس حوالے سے ہم نے پاکستان کے معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور کونٹینٹ کریئیٹر امتنان احمد سے بات کی، جن کے مطابق یہ کلچر بنیادی طور پر بحیثیت قوم ہماری ترجیحات اور فکری معیار کا عکاس ہے۔
جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز اتنی بڑی تعداد میں مداحوں کو کیوں اکٹھا کرتے ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ فینز سے ملنا کوئی بُری بات نہیں اور دنیا بھر میں ڈیجیٹل رابطوں کے ساتھ ساتھ فزیکلی بھی مداحوں سے ملا جاتا ہے۔
تاہم، ان کے نزدیک یہ واقعہ مکمل طور پر انتظامی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ اگر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو مدعو کیا جا رہا تھا تو وہاں سکیورٹی اور بھگدڑ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات کا ہونا لازمی تھا۔
ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی جانب سے انسانی مدد کے دعوے پر گفتگو کرتے ہوئے امتنان احمد کا کہنا تھا کہ فلاحی کاموں کے لیے اور بھی کئی ذرائع موجود ہیں، محض ہجوم اکٹھا کرنا ہی اس کا حل نہیں ہے۔
صارفین لائیو سیشن کے دوران ’روز‘، ’لاپتہ شیر‘ یا ‘ٹک ٹاک یونیورس‘ ایسے اینیمیٹڈ گفٹس اپنے پسندیدہ کریئیٹر کو بھیجتے ہیں (فائل فوٹو: ٹک ٹاک)
ان کے مطابق چونکہ اس عمل میں امداد کے ساتھ ساتھ دونوں اطراف سے ذاتی مفادات بھی جُڑے ہوتے ہیں، اس لیے ایسے طریقے اپنائے جاتے ہیں۔
امتنان احمد کے مطابق اس حادثے کا سب سے بڑا قصوروار وہ نظام ہے جس نے ٹک ٹاک کو بغیر کسی ضابطے یا مانیٹرنگ کے چلنے دیا ہے۔
ان کے نزدیک سنسرشپ کا مطلب ایپ پر پابندی لگانا ہرگز نہیں، بلکہ اپنی اخلاقی و ثقافتی اقدار کو نقصان پہنچانے والے رجحانات پر نظر رکھنا ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے مداحوں کے رویے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان فینز کا بھی قصور ہے جو صرف تحائف کے لالچ میں سکیورٹی اور حالات کو بالائے طاق رکھ کر اتنی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ’گفٹ اور لاٹری کلچر‘ کو ختم ہونا چاہیے اور نوجوانوں کے اس رویے میں میڈیا اور انفلوئنسرز دونوں برابر کے قصوروار ہیں۔ قابلِ اعتراض مواد، گفٹس اور بلیک منی
ٹک ٹاک لائیو کے اس بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے اثرات پر ’اردو نیوز‘ نے چند ماہ قبل معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ڈیجیٹل میڈیا ماہر عبد الہادی صدیقی سے بھی تفصیلی گفتگو کی تھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ٹک ٹاک پر کونٹینٹ کریئیٹرز مختلف موضوعات پر کام کر رہے ہیں۔ کوئی ٹرینڈنگ مسائل پر بات کرتا ہے تو کوئی ٹیکنالوجی پر مواد بناتا ہے، اور جب ٹک ٹاکرز زیادہ مشہور ہو جاتے ہیں تو وہ لائیو سٹریمنگ بھی شروع کر دیتے ہیں۔‘
لائیو کیمرے کا چسکہ اب شادی بیاہ کی تقریبات کو بھی بڑے عوامی شوز اور معاشی منصوبوں میں تبدیل کر رہا ہے (فائل فوٹو: گیٹی)
انہوں نے وضاحت کی تھی کہ ’وہ لوگ جو لائیو سٹریمنگ کرتے ہیں، وہ پاکستانی سمز کے بجائے دبئی یا برطانیہ کے سم کارڈز استعمال کرتے ہیں۔‘
عبدالہادی صدیقی نے لائیو سٹریمنگ سے جُڑے خدشات پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ انفلوئنسرز ایک تو قابلِ اعتراض مواد بناتے ہیں اور دوسرا نازیبا حرکتیں بھی کرتے ہیں۔‘
’اس کے ساتھ ساتھ اس لائیو سٹریمنگ سے منی لانڈرنگ سمیت بہت سے سنگین خدشات بھی منسلک ہیں۔ مزید برآں، ان ٹک ٹاکرز کو بعد میں دبئی یا کسی اور بیرونِ ملک بلایا جاتا ہے جہاں ان کے لیے خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اور قیمتی تحائف دیے جاتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ان تمام وجوہات کی بنا پر یہ لائیو سٹریمنگ یا تو متنازع رہی ہے یا اس پر مسلسل سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
عبدالہادی صدیقی نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ’ اس لائیو سٹریمنگ پر مکمل پابندی لگانا ممکن نہیں ہے، کیونکہ یہ پہلے سے ہی پاکستانی نیٹ ورکس کے بجائے بیرونِ ملک کی سموں پر چل رہی ہے۔ ‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ٹک ٹاک کمیونٹی بھی ان انفلوئنسرز کو بہت زیادہ سراہتی ہے، خواہ ان کا مواد کسی بھی نوعیت کا ہو۔‘
انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ’حالیہ دنوں میں پاکستان کے کچھ مشہور ٹک ٹاکرز اور انفلوئنسرز کے خلاف آن لائن جُوئے کی ایپس کی تشہیر کرنے پر این سی سی آئی اے نے کارروائی کی تھی اور انہیں حراست میں بھی لیا تھا، لیکن اب وہ دوبارہ وہی سلسلہ زور شور سے چلا رہے ہیں اور ان پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق ایسا مواد پی ٹی اے کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا کیونکہ ان ایپس کا نیٹ ورک انڈیا، ملائشیا یا دیگر ممالک سے منسلک ہوتا ہے۔
ان سے آخر میں جب یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ لائیو سٹریمنگ اگر پاکستان میں چل ہی رہی ہے تو پھر ٹک ٹاک اس فیچر کو پاکستانی سموں پر آن کیوں نہیں کرتا؟
ان کا اس سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’اس میں پاکستانی حکومت کا کردار لگتا ہے جنہوں نے شاید ٹک ٹاک کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی، کیونکہ لائیو سٹریمنگ پر پہلے ہی ایسا مواد چل رہا ہے جس پر اعتراضات اٹھتے ہیں۔ یہ فیچر اگر پاکستانی سموں پر باضابطہ طور پر فعال ہو جائے تو شاید یہ متنازع مواد اور زیادہ بڑھ جائے۔‘