نیویارک میراتھن میں 24 سالہ خاتون کی ’رہیبڈومائیولائسز‘ سے موت، اس بیماری کی علامات کیا ہیں؟
نیویارک میراتھن میں 24 سالہ خاتون کی ’رہیبڈومائیولائسز‘ سے موت، اس بیماری کی علامات کیا ہیں؟
بدھ 4 نومبر 2026 20:49
نیویارک میراتھن میں 24 سالہ خاتون کی موت کے بعد ’رہبڈومائیولائسز‘ نامی خطرناک بیماری زیرِ بحث ہے۔(فوٹو:اے ایف پی)
امریکہ میں نیویارک سٹی میراتھن میں حصہ لینے والی 24 سالہ خاتون ریچل آپا کی موت کے بعد ایک خطرناک طبی کیفیت ’رہبڈومائیولائسز‘ توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
یہ بیماری جسمانی سرگرمی کے دوران پٹھوں کو نقصان پہنچنے سے لاحق ہو سکتی ہے اور بعض صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’اے بی سی نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق ریچل آپا یکم نومبر کو ہونے والی 2026 کی ٹی سی ایس نیویارک سٹی میراتھن میں شریک تھیں۔
دوڑ کے دوران انہیں ریس کے راستے پر زندگی بچانے کے لیے طبی امداد فراہم کی گئی اور بعد ازاں ایمبولینس کے ذریعے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی موت ہو گئی۔
نیویارک روڈ رنرز، جو نیویارک سٹی میراتھن کا منتظم ادارہ ہے، نے منگل کو اے بی سی نیوز کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم اتوار کی دوڑ میں شرکت کے بعد ریچل کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔‘
’ہماری ہمدردیاں اور دلی تعزیت ان کے اہل خانہ، دوستوں اور دوڑ کے شعبے سے وابستہ تمام افراد کے ساتھ ہیں۔‘ تاہم نیویارک روڈ رنرز نے ان کی موت کی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔
ریچل کے والد اسٹیو آپا نے منگل کو اے بی سی نیوز کو بتایا کہ ان کی بیٹی کی موت ’رہبڈومائیولائسز‘ کے باعث ہوئی، جو ایک جان لیوا طبی کیفیت ہے اور جسمانی سرگرمی کے دوران لاحق ہو سکتی ہے۔
والد کے مطابق ریچل کو پہلے صحت کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا اور انہوں نے میراتھن کے لیے باقاعدہ تیاری بھی کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ دوڑ کے دوران اپنی بیٹی سے ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے مسلسل رابطے میں تھے، تاہم 24ویں میل کے قریب ان کا رابطہ منقطع ہو گیا۔
ریچل نے بکنیل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی تھی۔ یونیورسٹی نے بھی منگل کو اے بی سی نیوز کو دیے گئے ایک بیان میں ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں اپنی فیلڈ ہاکی ٹیم کی ’چار سال تک رکن اور اہم کھلاڑی‘ قرار دیا۔
والد کے مطابق ریچل کو پہلے صحت کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا اور انہوں نے میراتھن کے لیے باقاعدہ تیاری بھی کی تھی۔(فوٹو:اے بی سی نیوز)
رہبڈومائیولائسز کیا ہے؟
رہبڈومائیولائسز، جسے مختصراً ’رہابڈو‘ بھی کہا جاتا ہے، ایک سنگین اور جان لیوا طبی کیفیت ہے جس میں پٹھوں کے متاثرہ خلیے ٹوٹنے لگتے ہیں اور ان سے پروٹین اور الیکٹرولائٹس خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔
امریکی ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق اس کیفیت کے نتیجے میں متلی، قے، جسمانی اعضا کو نقصان، دورے، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور بعض صورتوں میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
اس بیماری میں گردے خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ عام طور پر گردے خون کو فلٹر کرکے اس میں موجود فاضل مادے خارج کرتے ہیں، لیکن رہبڈومائیولائسز کی صورت میں خون میں پروٹین اور الیکٹرولائٹس کی زیادہ مقدار جمع ہونے کے باعث گردے انہیں بروقت فلٹر نہیں کر پاتے۔ اس سے گردوں کو اچانک نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سی ڈی سی کے مطابق رہبڈومائیولائسز کسی بھی شخص کو ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ ’بہترین جسمانی فٹنس رکھنے والے افراد‘، کھلاڑیوں اور میراتھن میں حصہ لینے والوں کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس بیماری کا خطرہ ان افراد میں زیادہ ہوتا ہے جنہیں شدید گرمی یا جسمانی چوٹ کا سامنا ہو یا جن کے کام میں بہت زیادہ جسمانی مشقت شامل ہو۔
ان میں ہنگامی امدادی کارکن، فائر فائٹرز، فوجی اہلکار اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔ ایسے حالات میں زیادہ استعمال، گرمی، حادثات یا دیگر وجوہات سے پٹھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
رہبڈومائیولائسز کی علامات بعض اوقات گرمی سے ہونے والی دیگر بیماریوں، مثلاً پٹھوں میں کھچاؤ اور شدید تھکن سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
امریکی ادارے نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے طبی اشاعتی پلیٹ فارم ’میڈلائن پلس‘ کے مطابق ایمفیٹامینز اور کولیسٹرول کم کرنے والی بعض ادویات (اسٹیٹنز) استعمال کرنے والے افراد، پٹھوں کی موروثی بیماریوں میں مبتلا افراد، انفیکشن کا شکار ہونے والے، خون میں فاسفیٹ یا پوٹاشیم کی کمی رکھنے والے اور طویل سرجری سے گزرنے والے افراد میں بھی اس بیماری کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
رہبڈومائیولائسز کی علامات کیا ہیں؟
رہبڈومائیولائسز کی علامات بعض اوقات گرمی سے ہونے والی دیگر بیماریوں، مثلاً پٹھوں میں کھچاؤ اور شدید تھکن سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں۔
سی ڈی سی کے مطابق اس کی عام علامات میں جسم میں درد، جوڑوں میں شدید تکلیف، پٹھوں میں کھچاؤ، پیشاب کا رنگ گہرا ہونا، تھکن، کمزوری اور جسمانی مشقت برداشت نہ کر پانا شامل ہیں۔
بعض اوقات متاثرہ شخص کوئی ایسا کام یا ورزش بھی مکمل نہیں کر پاتا جسے وہ پہلے آسانی سے انجام دے سکتا تھا۔
سی ڈی سی کے مطابق علاج کا طریقہ پٹھوں کو پہنچنے والے نقصان اور جسمانی اعضا کی متاثرہ حالت کی شدت پر منحصر ہوتا ہے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
رہبڈومائیولائسز کا علاج کیسے ہوتا ہے؟
رہبڈومائیولائسز کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
سی ڈی سی کے مطابق علاج کا طریقہ پٹھوں کو پہنچنے والے نقصان اور جسمانی اعضا کی متاثرہ حالت کی شدت پر منحصر ہوتا ہے۔ کم شدت کے کیسز میں مریض کو بائی کاربونیٹ والے محلول سمیت مناسب سیال پینے، شدید گرمی سے دور رہنے اور آرام کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
زیادہ سنگین صورتوں میں گردوں کی ڈائلیسس، ادویات، رگوں کے ذریعے سیال کی فراہمی اور ہسپتال میں علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
میڈلائن پلس کے مطابق علاج کے ذریعے اس بیماری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں، مثلاً بلڈ پریشر میں کمی، گردوں کی خرابی، خون میں کیمیائی اجزا کا عدم توازن، دورے، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، پٹھوں کے اندر دباؤ بڑھنے کی کیفیت اور خون میں پوٹاشیم کی زیادتی کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔