سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض اور مملکت کے جنوبی علاقوں کی طرف داغے گئے کروز اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا۔
عرب نیوز کے مطابق اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ریاض اور جنوبی علاقوں کی جانب آنے والے دو کروز میزائلوں کو فضا میں تباہ کیا گیا، جبکہ دارالحکومت کو نشانہ بنانے والے دو بیلسٹک میزائل بھی مار گرائے گئے۔ نومبر کے آغاز سے مختلف سعودی علاقوں کو فضائی خطرات کا سامنا ہے اور یہ سلسلے کی تازہ ترین کارروائی ہے۔
اس سے قبل سعودی فضائی دفاع نے مشرقی صوبے کو نشانہ بنانے والے ایک اور میزائل کو بھی تباہ کر دیا تھا۔
مزید پڑھیں
-
عرب اتحاد نے مکہ ریجن میں حوثیوں کا ڈرون مار گرایاNode ID: 909936
سعودی سول ڈیفنس نے ابتدا میں ریاض شہر اور نجران صوبے کے لیے ممکنہ خطرے کے انتباہات جاری کیے تھے، تاہم صورتحال قابو میں آنے کے بعد انہیں واپس لے لیا گیا۔ اسی طرح بقیق، الاحساء اور دمام کے لیے بھی الرٹس جاری کیے گئے جو بعد میں ختم کر دیے گئے۔
اتحاد کے مطابق رواں ماہ اب تک مملکت بھر میں کم از کم 15 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنایا جا چکا ہے۔
سنیچر کو بھی ریاض ریجن کی طرف داغا گیا ایک کروز میزائل فضا میں تباہ کر دیا گیا تھا۔ اس سے ایک روز قبل نجران کو نشانہ بنانے والے دو بیلسٹک میزائل مار گرائے گئے تھے، جن کا ملبہ مختلف مقامات پر گرا اور حکام نے ممکنہ نقصانات کا جائزہ لیا۔
6 نومبر کو ریاض اور مکہ ریجن کی طرف آنے والے دو ڈرونز بھی تباہ کر دیے گئے تھے۔ اس سے قبل 5 نومبر کو مدینہ ریجن کو نشانہ بنانے والا ایک بیلسٹک میزائل تباہ کیا گیا، جبکہ 3 نومبر کو جنوبی، مشرقی اور مکہ ریجنز کی سمت آنے والے تین ڈرونز مار گرائے گئے تھے۔ 2 نومبر کو ریاض اور جنوبی علاقے کو نشانہ بنانے والے دو ڈرونز اور ایک بیلسٹک میزائل بھی روک لیے گئے تھے، جبکہ یکم نومبر کو جنوبی علاقے کی طرف آنے والا ایک ڈرون اور ایک بیلسٹک میزائل تباہ کیا گیا تھا۔
التحالف: اعتراض وتدمير صاروخين طواف (كروز) بمنطقتي الرياض والجنوبية. https://t.co/pUlP8Fe4g7
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) November 8, 2026
فضائی اڈوں پر حملوں سے فضائی آپریشن متاثر
تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حوثیوں کی جانب سے سعودی ہوائی اڈوں، توانائی تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حالیہ حملوں نے شہری فضائی سفر کو متاثر کیا ہے۔
اکتوبر میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد وہاں آپریشنز معطل کر دیے گئے تھے۔ ان حملوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ بعد ازاں حفاظتی معائنے مکمل ہونے کے بعد محدود پیمانے پر فضائی سرگرمیاں بحال کی گئیں۔
کئی بین الاقوامی ایئر لائنز نے نومبر تک ریاض کے لیے اپنی پروازوں کی معطلی میں توسیع کی، جبکہ دمام، ابہا اور نجران کے ہوائی اڈے بھی متاثر ہوئے۔
علاقائی تنازع کے تناظر میں حملے
حوثیوں کی یہ نئی مہم ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری جنگ کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جس نے پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔
التحالف: الدفاع الجوي اعترض ودمر صاروخين باليستيين أطلقتهما الميليشيا الحوثية الإرهابية باتجاه الرياض. https://t.co/ssHlmSisv2
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) November 8, 2026
ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی اہداف پر حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے شہری تنصیبات، توانائی کی سپلائی اور سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یکم نومبر کو میجر جنرل ترکی المالکی نے اعلان کیا تھا کہ اتحادی افواج نے حوثیوں کے ان اہم وسائل کے خلاف ایک درست فوجی کارروائی کی جنہیں گروپ اپنی عسکری سرگرمیوں، خصوصاً بیلسٹک میزائل اور ڈرون پروگرام، کی معاونت کے لیے استعمال کر رہا تھا۔
ان کے مطابق حوثی ان وسائل کو یمن اور سعودی عرب میں شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور جنوبی بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اتحاد نے خبردار کیا ہے کہ مملکت اور خطے کے امن و استحکام کے تحفظ کے لیے مزید حملوں کی روک تھام اور دفاعی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔












