کرکٹر یووراج سنگھ کی نئے شعبے میں انٹری، 32 اجزا پر مشتمل سپلیمنٹ متعارف کروا دیا
کمپنی کے مطابق یہ سپلیمنٹ روزانہ استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے (فوٹو: یووراج سنگھ انسٹاگرام)
ورلڈ کپ فاتح سابق انڈین کرکٹر یووراج سنگھ نے صحت اور فلاح و بہبود کے شعبے میں قدم رکھتے ہوئے اپنا نیا سپلیمنٹ برانڈ پروٹوکول 32 لانچ کیا ہے۔
اس پراڈکٹ کا مقصد 32 مختلف اجزا کو ایک ہی ساشے میں یکجا کر کے روزانہ سپلیمنٹس کے استعمال کو آسان بنانا ہے۔
انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق 30 اکتوبر کو متعارف کرایا گیا یہ 8.5 گرام کا ساشے وٹامنز، منرلز، امینو ایسڈز، ہربل ایکسٹریکٹس، پروبائیوٹکس اور ہاضمے کے انزائمز پر مشتمل ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ روزانہ استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے اور جسم کی 10 اہم صحتی ضروریات کو سپورٹ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، جن میں توانائی، دماغی کارکردگی، تناؤ اور نیند، جلد، ہاضمہ، قوتِ مدافعت، جوڑ، آنکھیں، دل اور جگر کی صحت شامل ہیں۔
پروٹوکول 32 میں شامل نمایاں اجزا میں کریٹین مونوہائیڈریٹ، گلائسین، این-ایسٹائل سسٹین، بیٹین، کولین بائیٹریٹ، ڈی ایچ اے، میگنیشیم، کوانزائم ، وٹامن سی، وٹامن ای، زنک، کاپر، وٹامن ڈی3، بی کمپلیکس وٹامنز اور فولک ایسڈ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اشوگندھا، کرکومن، بوسویلیا، ملک تھیسل، امریکن جنسینگ، باکوپا، ادرک اور زعفران جیسے نباتاتی اجزا بھی شامل کیے گئے ہیں۔ سپلیمنٹ میں ایل-تھیانین، لیوٹین، زیاکسانتھین، فائبر، پروبائیوٹکس اور اینٹی آکسیڈنٹس بھی موجود ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اجزا مجموعی صحت، توانائی، یادداشت، ہاضمے اور مدافعتی نظام کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی اجزا کی موجودگی محض اس بات کی ضمانت نہیں ہوتی کہ حتمی پراڈکٹ تمام دعویٰ کردہ فوائد فراہم کرے گی۔
ممبئی کے ٹاٹا میموریل ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سی ایس پرمیش نے سوشل میڈیا پر ان دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق دستیاب شواہد ان تمام فوائد کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ انہوں نے یووراج سنگھ سے ان دعوؤں کے حق میں سائنسی ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اسی طرح اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر نشانت رایزادا کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ سپلیمنٹ میں کتنے اجزا شامل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ صارف کو اس سے کیا فائدہ ہوگا، کتنی مقدار میں ہوگا اور کیا اس مخصوص فارمولا کے فوائد سائنسی طور پر ثابت ہیں۔
ماہرین کے مطابق سپلیمنٹس کا انتخاب کرنے سے پہلے غذائی عادات، طبی تاریخ، علامات اور ممکنہ غذائی کمیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ خون کے ٹیسٹ بعض کمیوں جیسے وٹامن ڈی یا وٹامن بی 12 کی نشاندہی کر سکتے ہیں، لیکن ہر غذائی ضرورت کو صرف ٹیسٹ کے ذریعے جانچنا ممکن نہیں۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جگر یا گردوں کے مریض، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، کینسر کے مریض یا مستقل ادویات استعمال کرنے والے افراد ایسے سپلیمنٹس لینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلیمنٹس متوازن غذا، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش اور طبی علاج کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ پروٹوکول 32 سہولت فراہم کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے، لیکن اس کی افادیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا اس کے اجزا درست مقدار میں موجود ہیں اور آیا واقعی صارف کو ان کی ضرورت ہے یا نہیں۔
