اپوزیشن کی طاقت کا مظاہرہ ، شہباز،ثناءاللہ سے استعفی کا مطالبہ

لاہور۔۔۔متحدہ اپوزیشن نے بدھ کو لاہور میں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا ۔ مال روڈ پر احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید نےقومی اسمبلی سے استعفیٰ دیدیا جبکہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ میں ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجرم کو اپنا سربراہ بنائے ۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کہا کہ سلطنت شریفیہ توڑ دونگا۔اپنے دھواں دار خطاب میں طاہر القادری نے کہا کہ آج قومی اور مذہبی قیادت تکریم انسانیت کیلئے جمع ہوئی ہے، آج کمزوروں کو طاقت دینے کیلئے سب جمع ہوئے ہیں۔ 
میرا مقصد کوئی عہدہ حاصل کرنا نہیں، چاہتا ہوں کہ کمزوروں کو آواز ملے لیکن پاکستان میں اس وقت انسانی حقوق کچلے اور قومی خزانہ لوٹا جا رہا ہے۔ نئے دور کے مجیب الرحمان سے ملک کو بچانا ہو گا، سلطنت شریفیہ نے آئین کو پامال کیا، ہم سلطنت شریفیہ کو توڑنا چاہتے ہیں۔طاہر القادری نے مزید کہا کہ ہم قانون ہاتھ میں لیتے تو آپ کا جاتی امراء  سے نکلنا مشکل ہو جاتا لیکن ہم آئین اور جمہوریت کی اصل شکل کی بحالی چاہتے ہیں، میں نے ہمیشہ دنیا میں امن کا پیغام پھیلایا، ہم چاہتے ہیں کہ ملک کا قانون سب کیلئے ایک جیسا ہو، شہباز شریف نے 14 بے گناہ لوگوں کو قتل کرایا،
پولیس عوام کی محافظ بننے کی بجائے جان لینے والی بن گئی ہے۔شہبازشریف اور ثناء اللہ استعفیٰ دیں۔ڈاکٹر طاہر القادری نے مزید کہا کہ آج سلطنت شریفیہ کے جرائم کے خلاف جمع ہوئے ہیں،
750 ارب صرف پنجاب پولیس کو دیئے گئے ہیں، پنجاب پولیس نے جاتی امراء  کو تحفظ دیا، عوام کو نہیں، شریف برادران رہے تو ملک میں جمہوریت اور خوشحالی نہیں آئے گی۔طاہر القادری نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف مجیب الرحمان کو اپنا نظریاتی قائد مانتے ہیں، نواز شریف نریندر مودی کو اپنا دوست مانتے ہیں، ہم جمہوریت کی حقیقی روح بحال کرنا چاہتے ہیں، ظلم برداشت کرنے والی قوموں کو تاریخ بھول جاتی ہے۔طاہر القادری نے کہا کہ ہم نے دھرتی کو ظلم سے بچانا ہے، یہ لوگ فوج کیخلاف نیوز لیکس کرتے ہیں، شیخ مجیب الرحمان کو اپنا نظریاتی قائد مانتے ہیں، نریندر مودی کو اپنا یار مانتے ہیں جبکہ ہم جمہوریت کی حقیقی روح کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سلطنت شریفیہ کا نون لیگ سیاسی لشکر ہے، انہوں نے بھٹو، محترمہ اور عمران خان کی بدترین کردارکشی کی، انہوں نے سیاسی مخالفین کیخلاف جھوٹے مقدمات بنائے اور دہشتگردی کا کلچر متعارف کرایا۔طاہر القادری نے مزید کہا کہ سسلین مافیا اور گاڈ فادر حکومت نہیں بنا سکے تھے، یہ سیسلن مافیا اور گاڈ فادر سے بھی آگے نکل گئے ہیں، انہوں نے اقتدار کو لوٹ مار کا ذریعہ بنایا ہے، آج کا اجتماع جمہوری جد و جہد کی ابتداء ہے۔لاہور میں منعقدہ عوامی تحریک کے جلسے سے خطاب کے دوران عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواہش ہے عمران خان پاکستان کے وزیراعظم ہوں لیکن میں کہتا ہوں عمران خان آپ بھی استعفیٰ دو، باہر آؤ لاٹھیاں اٹھاؤ جاتی امرا کی اینٹ سے اینٹ بجادو۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجرم کو اپنا سربراہ بنائے، شیخ رشید کا استعفی والا آئیڈیا اچھا ہے اس بارے میں پارٹی سے مشاورت کروں گا اور ممکن ہے جلد شیخ رشید کو جوائن کرلیں۔لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج کے دوران خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ احتجاج جمہوریت کا حسن ہے، اگر لوگوں کو انصاف مل جائے تو وہ احتجاج کیوں کریں گے؟
انہیں انصاف نہیں ملتا تب ہی وہ احتجاج کرتے ہیں، تمام جماعتوں کو یہاں جمع کرنے پر قادری صاحب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔عمران خان نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور زینب قتل کیس میں مماثلت ہے، ماڈل ٹاؤن کی طرح قصور میں بھی پولیس نے نہتے شہریوں پر گولیاں اس طرح چلائیں جس طرح دہشت گردوں پر چلائی جاتی ہیں، جب تک اوپر سے حکم نہ ہو پولیس کبھی شہریوں پر گولیاں نہیں برساتی،
اگر پولیس نے اپنی مرضی سے گولیاں چلائی ہوتیں تو آج سارے اہلکار جیل میں ہوتے، اگر آج ہم ان کے خلاف نہ نکلے تو یہ آئندہ بھی شہریوں کو قتل کرتے رہیں گے۔دریں اثناء جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے کارکنوں کی کثیر تعداد پہنچی مسلم لیگ ہائوس سے روانہ ہونے والی ریلی کی قیادت مسلم لیگ ق کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کر رہے تھے ۔ پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکن ایک مرکزی ریلی کی شکل میں جلسہ گاہ پہنچے جس کی قیادت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کر رہے تھے ۔ ان کے ہمراہ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک ، قائد حزب اختلاف  خورشید شاہ اور دیگر رہنما تھے ۔ کارکنوں نے بے نظیر بھٹو ، آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں ۔
اپوزیشن کے جلسے کیلئے 30ہزار کرسیاں پنڈال میں لگائی گئی تھیں ۔ یہ کرسیاں فیصل چوک سے ریگل چوک مسجد شہدا تک لگائی گئی تھیں ۔ جلسے کیلئے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے ۔ 6ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات تھے ۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ماتحت حساس اداروں نے جلسہ شروع ہونے سے پہلے متعدد مرتبہ سرچ اور سوئپنگ کی ۔ 2ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار پنجاب کے مختلف اضلاع سے بلائے گئے تھے ۔ جلسے کی وجہ سے مال روڈ پر معمولات زندگی معطل رہے ۔

شیئر: