سندھ میں ڈاکٹرز کی پھر ہڑتال، مریض پریشان

کراچی: سندھ میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے سرکاری اسپتالوں میں ایک بار پھر تمام او پی ڈیز کا بائیکاٹ کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن تاحال جاری نہ کئے جانے کے خلاف احتجاج کی وجہ سے مریضوں اور ان کے تیمار داروں کو شدید پریشانی اور مسائل کا سامنا ہے۔ کراچی کے سول اسپتال، جناح اسپتال، این آئی سی ایچ، این آئی سی وی ڈی سمیت دیگر اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈی کا بائیکاٹ جاری ہے جبکہ اندرون سندھ سکھر، بدین، گولارچی، ماتلی، ٹنڈو باگو اور تلہار سمیت دیگر شہروں میں بھی اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی احتجاجی ہڑتال کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے تنخواہ اور دیگر مراعات پنجاب اور خیبرپختونخوا کے برابر کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی، لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق دوسری جانب خالی اسامیوں پر تقرر کے مطالبات پر بھی حکومت کی جانب سے ابھی تک عمل نہیں کیا گیا ہے۔ احتجاجی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومتی یقین دہانی پر ہڑتال ختم کرکے مہلت دی لیکن کچھ نہیں کیا گیا، لہٰذا تمام او پی ڈیز کے ساتھ او ٹیز بھی بند رہیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کے لیے کئی روز تک احتجاج کیا تھا، جس کے بعد 29 جنوری کو سندھ حکومت نے ہڑتال پر بیٹھے ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات منظور کرتے ہوئے ان کے الاﺅنسز میں اضافہ کردیا تھا۔
 
 

شیئر: