’وٹس ایپ سیکورٹی مسائل کی وجہ سے میسجنگ کے لیے محفوظ نہیں ہو سکتی‘

پاول دوروو کا دعویٰ ہے کہ ان کی تیار کردہ  ’ٹیلی گراف‘ زیادہ محفوظ میسجنگ ایپ ہے
مقبول میسجنگ ایپ ’ٹیلی گرام‘ کے روسی شریک بانی پاول دوروو  نے کہا ہے کہ وٹس ایپ نگرانی کے لیے ہمیشہ کھلی رہے گی۔‘  
پاول کا بیان ایسے وقت سامنے آیا جب فیس بک کی میسجنگ ایپ نے کہا کہ سپائی ویئر حملے میں واٹس ایپ صارفین کے ڈیٹا سکیورٹی کی خلاف ورزی ہوئی۔
پاول دوروو کی تیار کردہ  ٹیلی گراف زیادہ محفوظ میسجنگ ایپ ہے۔ پاول دوروو نے ایک بلاگ  ’ وٹس ایپ محفوظ کیوں نہیں ہو سکتی؟‘ کے عنوان سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ہے۔
بلاگ میں ان کا کہنا ہے کہ بغیر کسی انکرپشن کے شروعات سے لے کر نگرانی کے لیے آسان سکیورٹی اقدامات تک وٹس ایپ کی کمزور سکیورٹی  کی مسلسل ایک تاریخ ہے۔  
وٹس ایپ نے منگل کواپنے ایک ارب 50 کروڑ سے زائد صارفین پر زور دیا تھا کہ وہ کسی ممکنہ سکیورٹی بریچ سے بچنے کے لیے اپنی ایپ کو اپڈیٹ کریں۔ وٹس ایپ نے سکیورٹی فیچر میں خامی نے ایک ایسے مال ویئر (وائرس) کو وٹس ایپ  سسٹم میں داخل کرنے دیا جس سے صحافیوں اور انسانی اور شہری حقوق کے کارکنوں کی جاسوسی کی جا سکتی ہے۔


فیس بک کی میسجنگ ایپ کے مطابق حالیہ سپائی ویئر کے حملے میں وٹس ایپ صارفین کے ڈیٹا سکیورٹی کی خلاف ورزی ہوئی ہے

ٹیلی گرام کے بانی کا کہنا ہے کہ جب بھی وٹس ایپ اپنے سکیورٹی فیچرمیں سامنے آنے والی کسی خامی کو درست کرتی ہے تو اس کی جگہ نیا مسئلہ سامنے آتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایف بی آئی نے وٹس ایپ یا فیس بُک کو مجبور کیا ہو گا کہ وہ اپنی پروگرامنگ میں سکیورٹی سسٹم کو بائی پاس کرنے کے لیے بیک ڈور یا خفیہ طریقے شامل کریں۔
 پاول دوروو نے کہا کہ وٹس ایپ کو پرائیویسی کے حوالے سے محفوظ میسجنگ ایپ بننے کے لیے اپنے مارکیٹ شیئرز کا نقصان اور ملکی اتھارٹیز سے مقابلہ کرنا ہو گا۔
خیال رہے کہ ’ٹیلی گرام‘ حکام میسجنگ پرائیویسی کے حوالے سے وقتاً فوقتاً روسی حکام سے الجھتے رہتے ہیں۔ ٹیلی گرام کی بنیاد دو بھائیوں پاول اور نیخولائی دوروو نے رکھی تھی۔ دونوں بھائیوں نے اس سے پہلے روس کے مقبول ترین سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ سائٹ وی کونٹاکٹے کی بنیاد رکھی تھی۔


ٹیلی گرام کی بنیاد دو بھائی پاول اور نیخولائی دوروو نے رکھی تھی

2018 کے اعدادو شمار کے مطابق ٹیلی گرام کے صارفین کی تعداد 200 ملین ہے جن میں سے سات فیصد روسی ہیں۔ رواں برس مارچ میں ’ٹیلی گرام‘ نے اعلان کیا تھا کہ ان کے صارفین کی تعداد میں صرف چوبیس گھنٹے کے دوران 30 لاکھ صارفین کا اضافہ ہوا جب انسٹا گرام، فیس بک اور وٹس ایپ کو مشکلات درپیش تھیں۔
2018  میں روسی حکام نے کمپنی کی جانب سے صارفین کے پیغامات تک رسائی نہ دینے پر مقامی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ’ٹیلی گرام‘ کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔
روسی حکام کی جانب سے ’ٹیلی گرام‘ کو بند کرنے کی مہم ناکام ہوئی اور ابھی تک یہ ایپ روس میں کام کر رہی ہے۔ ’ٹیلی گرام‘ صارفین کو پیغامات، سٹکرز، تصویریں اور ویڈیوز کے تبادلے کی اجازت  دیتی  ہے اور اس پر دو لاکھ افراد تک پر مشتمل گروپ بنایا جا سکتا ہے۔

شیئر: