نیب حراست میں آصف علی زرداری کس حال میں ہیں؟

نیب تین مختلف مقدمات میں آصف زرداری سے تحقیقات کر رہا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ان دنوں جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب کی تحویل میں ہیں۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جمعے کو ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 11 روز کی توسیع کر دی ہے۔
کچھ عرصہ قبل نیب کی تحویل سے واپس آنے کے بعد سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران نے نیب حوالات کی حالت زار، قیدیوں سے نا مناسب سلوک اور واش رومز میں کیمرے نصب ہونے کی شکایت کی تھی جس کی نیب نے تردید کی تھی۔
دوسری جانب اردو نیوز کو دستیاب معلومات کے مطابق سابق صدرآصف زرداری کو ایسی کوئی شکایت نہیں ہے اور انہوں نے جمعے کو نیب کے رویے کو سراہا تھا۔
 ذرائع کے مطابق آصف زرداری کی گرفتاری سے چند ہفتے قبل نیب راولپنڈی میں اے کلاس قیدیوں کے لیے سہولیات سے مزین ایک خصوصی کمرہ تیار کیا گیا تھا۔ نیب راولپنڈی کی جانب سے آصف زرداری کو اے کلاس دی گئی ہے اورعدالت کے حکم پر انہیں اپنے ساتھ دو تیماردار رکھنے کی بھی اجازت ہے۔
عدالت کی اجازت سے اے کلاس ملزمان گھر سے کھانا بھی منگوا سکتے ہیں اور آصف زرداری کا کھانا بھی گھر سے آتا ہے۔ آصف زرداری کے نسبتاً کشادہ کمرے میں اٹیچ باتھ روم کے علاوہ ایئر کنڈیشنر اور دو صوفے بھی رکھے گئے ہیں۔

آصف علی زرداری کو نیب کی حراست میں چہل قدمی کی سہولت بھی میسر ہے تاہم وہ ہر روز واک نہیں کرتے (فوٹو: اے ایف پی)

ذرائع کے مطابق آصف زرداری کونیب کی حراست میں چہل قدمی کی سہولت بھی میسر ہے تاہم وہ ہر روز واک نہیں کرتے۔  
تاہم نیب کی حراست میں سابق صدر کو لکھنے کے لیے قلم اور پیڈ یا پڑھنے کے لیے کتابوں کی سہولت میسر نہیں۔
نیب راولپنڈی میں سابق صدر کے خون میں شوگر کی مقدار چیک کرنے کے لیے ہمہ وقت پولی کلینک ہسپتال کی ایک نرس بھی ڈیوٹی پر مامور ہے۔ 
نیب تین مختلف مقدمات میں آصف زرداری سے تحقیقات کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے تین تفتیشی افسران دن میں کئی مرتبہ ان سے سوال و جواب کرتے ہیں۔
گذشتہ دنوں سابق صدر سے بلاول بھٹو زرداری ایک بار اور بیٹیاں آصفہ زرداری اور بختاور زرداری دو بار مل چکے ہیں۔
نیب ذرائع کے مطابق ادارے کی تاریخ میں پہلی بار ایک سابق صدر کو حراست میں رکھا گیا ہے اور اسی لیے انہیں اے کلاس کی سہولیات دی گئی ہیں۔

نیب کے تین تفتیشی افسران روزانہ آصف زرداری سے سوال و جواب کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اے کلاس کمرہ نیب حوالات کے احاطے میں ہے مگر یہ سب سے الگ تھلگ ہے۔
دوسری طرف عام حوالات میں بیس قیدیوں کے لیے صرف دو واش رومز ہوتے ہیں جبکہ ایئر کنڈیشنر کی سہولت بھی نہیں ہوتی۔ تاہم تمام قیدیوں کو سرکاری میس سے کھانا دیا جاتا ہے جہاں سے نیب کا عملہ اور افسران بھی کھانا کھاتے ہیں۔

نیب کا موقف

اس حوالے سے تبصرے کے لیے نیب ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ گرفتار ملزمان کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ نیب تمام ملزمان کی عزت نفس کا خیال رکھتا ہے اور کبھی بھی زیرحراست ملزمان کے حوالے سے تشدد کی شکایت سامنے نہیں آئی۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق غیر مطمئن
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے رواں ماہ ریٹائر ہونے والے رکن شفیق چوہدری نے بتایا کہ کمیشن نے چند ہفتے قبل نیب حوالات میں غیر انسانی سلوک کی شکایات کے بعد نیب کی مختلف حوالات کا دورہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن نیب کی حوالات میں موجود سہولیات سے مطمئن نہیں اور اس حوالے سے رپورٹ جلد منظر عام پر لائی جائے گی۔ یاد رہے کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایک سرکاری ادارہ ہے۔

شیئر: