داعش کے لیے بطور ’سنائپر‘ کام کرنے والے امریکی پر مقدمہ

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ یا داعش کے لیے سنائپر کے طور کام کرنے والے امریکی شہری کو شام سے گرفتار کر کے امریکہ لایا گیا جہاں ان پر شدت پسند گروہ کی مدد کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
امریکی جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق قازقستانی نژاد رسلان ماراٹو وچ اسیا نو نے سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے پہلے شام میں داعش کے لیے پانچ برس تک جنگ لڑی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 43 سالہ اسیانو کو داعش میں سنائپر کے طور پر کام کرنے کے بعد ترقی ملی اور اسے ہتھیاروں کی تربیت کے لیے اسے بطور ’امیر‘ تعینات کر دیا گیا۔

43 سالہ اسیانو کو سنائپر کے طور پر کام کرنے کے بعد ترقی ملی۔ (فوٹو اے ایف پی)

وہ جنگ کے دوران امریکہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہے اور میدان جنگ سے پیغامات اور اپنی تصاویر بھی بھیجتے رہے۔
داعش کے رکن نے 2015 میں پیغام بھیجا ’ہم دنیا کی خطرناک ترین دہشت گرد تنظیم ہیں۔‘
اسیانو نے امریکہ سے ایک اور شخص کو داعش میں بھرتی کرنے کی کوشش کی، لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ جس آدمی کو وہ پیشکش کر رہے تھے وہ نیو یارک پولیس کا جاسوس تھا۔
امریکی جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان ڈیمرز نے کہا کہ ’امریکہ دولت اسلامیہ کے لیے کام کرنے والے امریکی شہریوں کو سزا دینے کے لیے پرعزم ہے۔‘

امریکہ نے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شدت پسند گروہ کے لیے کام کرنے والے اپنے شہریوں کو واپس لائیں۔ (فوٹو:اے ایف پی)

خیال رہے کہ اسیانو پہلے امریکی شہری نہیں ہیں جنہیں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت امریکہ واپس لایا گیا ہے۔
اس سے قبل داعش کے شدت پسندوں سے شادی کرنے والی خواتین کو لایا گیا، ایک آدمی جو اس گروہ کے لوگوں کو انگریزی سکھاتا تھا اسے لایا گیا، ایک سابق یونیورسٹی سٹوڈنٹ کو لایا گیا جو اس گروپ میں شامل ہونے کے فوری بعد امریکی حکومت کا جاسوس بن گیا اور ایک ایسے نوجوان کو امریکہ لایا گیا جسے اس گروہ میں شامل ہونے سے پہلے ہی پکڑ لیا گیا تھا۔
امریکہ نے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شدت پسند گروہ کے لیے کام کرنے والے اپنے شہریوں کو واپس لائیں اور انہیں مقامی قوانین کے تحت سزائیں دیں، لیکن برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے۔

شیئر: