'امریکی وزیر خارجہ ایرانی صحافی کو انٹرویو دے سکتے ہیں'

مرضیہ ہاشمی ایرانی انگریزی چینل پریس ٹی وی کی اینکر پرسن ہیں۔
ایران نے امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کو ایرانی میڈیا پر انٹرویو کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایرانی عوام سے گفتگو کے لیے ان کی انگریزی چینل کی اینکر پرسن ’مرضیہ ہاشمی‘ کو انٹرویو دے سکتے ہیں۔
خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے گذشتہ جمعرات کو بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خوشی سے ایران جائیں گے اور ایرانی ٹیلی ویژن پر ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کی وجوہات کی وضاحت دیں گے۔
ایرانی حکومتی ترجمان علی ربیعی نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا کہ ’ہماری صحافی مرضیہ ہاشمی امریکی وزیرخارجہ کا انٹرویو کرنے جا سکتی ہیں تاکہ امریکی وزیر خارجہ جو کچھ کہنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ کہہ سکیں۔‘

ایرانی ترجمان کے مطابق امریکی وزیرخارجہ جو کہنے کا ارداہ رکھتے ہیں وہ ایرانی ٹی وی انٹرویو کو میں کہہ سکتے ہیں (فوٹو:اےف ایف پی)

مرضیہ ہاشمی سیاہ فام امریکی ہے انہوں نے اسلام قبول کیا تھا، وہ ایران کے انگریزی چینل پریس ٹی وی کے لیے بطور اینکر کام کرتی ہیں۔
ان کو رواں برس جنوری  میں ایک امریکی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جس کے مطابق کسی کو بھی مجرمانہ مقدمات میں ممکنہ گواہوں کے شک میں پکڑا جاسکتا ہے۔
ان کو دس دن تک حراست میں رکھا گیا تھا۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کا نام میلانی فرینکلن تھا۔
فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے مطابق وہ بعد میں ایران آگئی تھیں اور امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ مسلمانوں اور سیاہ فاموں کے ساتھ امتیازی سلوک رکھتا ہے۔

مرضیہ ہاشمی رہائی کے بعد ایرانی ائیرپورٹ پر صحافیوں سے چیت کرتے ہوئے (فوٹو:اے ایف پی)

ایرانی حکومتی ترجمان علی ربیعی نے مزید کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو انٹرویو دینے پر اس لیے مجبور ہوئے کہ حالیہ دنوں میں ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے امریکی میڈیا کو انٹرویوز دیے تھے۔
واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے 2015 کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے اعلان کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کشیدہ ہے۔
اہم یورپی ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات پر زور دیا تھا۔

شیئر: