مرزا غالب کا خط مرزا گلبدن کے نام

بہت دنوں سے خیال تھا کہ را بطے کی کوئی شکل تم سے نکالی جائے، کچھ راہ و رسم تیز کیا جائے۔ مگر کوئی حل سمجھ میں آکے نہ دیتا تھا۔ میاں نہ تمہارا کوئی فون نمبر، نہ اتاپتا۔ بھائی کہاں رہتے ہو؟ ہم توجب تک رہے زمین ہی پر قدم رکھے رہے۔ چاند تو بہت پرے لگتاتھا۔ رسائی وہاں تک ہو نہیں سکتی تھی۔ تمہارے بارے میں یک نہ شد دو شد، دوخواب تمہاری نقل و حرکت کے مسلسل دکھائی دیے تو گمان گذرا کہ تمہاری سانس اب تک چل رہی ہے۔ تم جی رہے ہو۔
کتنی خوشی ہوئی تمہیں چلتا پھرتا دیکھ کر! بخدا الفاظ کم  پڑرہے ہیں۔ اگرچہ مابدولت کہہ چکے ہیں کہ ’ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں،‘ لیکن یہ بھی ہے کہ ’پر کیا کریں کہ ہوگئے ناچار جی سے ہم۔‘ بیان کرنہیں سکتے۔ سکتہ سا ہوجاتا ہے۔ سانس کی چلت پھرت اوپر نیچے ہوجاتی ہے۔
میاں یہاں آنے والا ایک ادیب ماجرا بیان کررہا تھا کہ اب حجاز و نجد کے لوگ بھی اردو زبان میں اخبار بنام ’اردو نیوز‘ نکالنے لگے ہیں۔ حد درجہ حیرت ہوئی۔ مگر کیا واقعی یہ خبرواقعی سچ ہے؟ مرزا کیا ہماری زبان وہاں تک بھی جاپہنچی ہے؟ ہمارے زمانے میں تو اردوئے معرا بس قلعہ معلیٰ تک ہی محدود ہوکررہ گئی تھی۔ 
سو خیال آیا کہ لاؤ پھر سے کوشش کرکے دیکھیں۔ دانا کہہ گئے۔۔ اور کہہ کے رخصت ہوگئے۔۔۔ کہ اما! ڈھونڈے سے توخدا بھی مل جاتا ہے۔ سو تمام پرپُرزے نکالے۔۔ ’مت جانو کہ تمہارے پر پرزے!‘ نہیں مرزا۔ بخدا کاغذات کے پر پرزے!
سو شکر کہ کہیں سے یکدم تمہارے نام کی لاٹری نکل آئی۔ مطلب اس جملے کو تمہاری خاطر آسان کیے دیتے ہیں۔ یعنی تمہارے نام کا گوروں کا دیا ہوا ای میل نکل آیا۔
سو قدرے قرار آیا! جان میں جان آئی!
اس واسطے کہ تم سے کچھ خط و کتابت اور رازو نیاز ہوسکے گا۔ مگر بایں ہمہ پھر بھی ’دل ِ بے قرار بھر آیا۔‘
بھائی گلبدن، کیوں نہ ہو کہ ’دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت۔ درد سے بھر نہ آئے کیوں؟‘
آنسو ٹپک ٹپک پڑے۔ تم سے بچھڑے ایک زمانہ ہوگیا۔ اب ہم تو میاں یہاں کے قاعدے قوانین کے باعث اوپر سے نیچے نہیں آسکتے۔ مگر تم تو مرزا ایساکرہی سکتے ہو۔ تمہی ہمت کر کے زمین سے آسمان پر آجاؤ۔ گھر بھی ماشاء اللہ بہت بڑا ہے اور سہولت بھی اس میں بے انتہا ہے۔

15 فروری 1869 کو 72 برس کی عمر میں انتقال کرنے والے مرزا غالب دہلی میں مدفون ہیں۔ فوٹو: وکیپیڈیا

میاں بس یہاں آکرہی سمجھ میں آیا کہ جوکچھ بھی زمین میں کرنا ہو، آسمان ہی کی خاطرکیا کرو۔ مگر میاں یہ تو نرے جذبات ہیں۔ نوکِ زباں پر آگئے۔ غم کا خار مِغیلاں بھلا کب چین سے بیٹھنے دیتاہے؟
ہم تو تائب ہوتے ہوئے اب یہی کہتے ہیں کہ اماں جہاں رہو، زمین پر رہو یا آسمان پر۔ اس واسطے کہ تم  نہیں مگر دماغ تو آسمان پر رہ ہی سکتاہے۔ پس خوش رہو، آباد رہو۔ مگر اپنے خرچے ہی پر رہو۔
تم توجانتے ہی ہو کہ ہم جب تلک جیے، قرض کی مے پیتے رہے۔ اور جب پلے کچھ نہ رہا تو سرکار اِنگلیشیہ کے کچھ قصیدے کہہ کر پنشن بحال کروالی۔
اور ہاں سنو، نیازی میاں کے نبیرے عمران خان کو دعا بھی دیتے رہو۔ اس واسطے کہ سنا ہے مہنگائی اس نیازی بچے نے چاند سے بھی اوپر کردی ہے۔
 رابطے میں ہرگزکمی نہ کرو۔ ’صورت‘ کو ترس گئے تو کیا ’صو‘ سے بھی ترساؤ گے؟
نہ بھولو کہ ہم اگر بہت سوں کے دادا ہیں تو بہت سوں کے دلدادہ ہیں۔ محفل کو ہمی سے رونق حاصل ہوتی ہے۔ جاتے ہیں تو شمعِ محفل کی لو تیز ہوتی ہے۔
سو دیکھو میاں مرزا گلبدن۔ ’اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا!‘
یوں تو تم بھی بہت اچھا لکھتے ہو مگر ’سنتے ہیں کہ اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا۔‘
معنی اس مصرعے کے آسان زبان میں یہ ہیں کہ ’اگلے زمانے میں کوئی غالب بھی تھا۔‘
تھوڑے لکھے کو زیادہ جانو۔ زیادہ لکھو تو جگر قاش ہوتاہے۔ ’مت سہل ہمیں جانو۔ پھرتا ہے فلک برسوں۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں۔‘
تمہاری آمد کا منتظر۔۔۔۔ تمہارا دادا، دلدادہ۔۔ دعاؤں کا طالب۔۔ غالب!

 

 

شیئر: