مسئلہ کشمیر: انڈین افسران استعفے پر مجبور

انکا کہنا تھا جموں کشمیر میں لوگوں کے بنیادی حقوق پامال کیے جا چکے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
بھارتی ریاست کی جانب سے جمہوری اقدار پر مسلسل حملوں اور ملکی آئین کی شق 370 کا خاتمہ کرکے کشمیر کے خاص رتبے کو ختم کرنے کے خلاف بھارت میں اب تک کم از کم تین سرکاری افسران اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے لیے استعفیٰ دے چکے ہیں۔
سسی کانتھ سینتھل کناڈہ میں ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ انڈین اخبار دی ہندو کے مطابق اپنے ایک خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ وہ اپنی نوکری کو جاری رکھنا اس لیے اب غیر اخلاقی سمجھتے ہیں کیونکہ بھارت میں مستقل طور پر بنیادی جمہوری اقدار پر سمجھوتہ ہورہا ہے۔
’آنے والے دن قوم کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہونگے۔ لہذٰا بہتر یہی ہوگا کہ میں سرکاری نوکری سے دور رہ کر سب انسانوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کوشش کروں۔‘
سسی کانتھ نے 2009 میں سرکاری نوکریوں کے لیے امتحانات میں اول پوزیشن حاصل کی تھی اور آپ ابھی 2017 میں ہی ڈپٹی کمشنر تعینات ہوئے تھے۔

 

اس سے قبل ماہِ اگست میں کنان گوپی ناتھن نامی افسر نے کشمیر میں ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف استعفیٰ دیا تھا۔ وہ بھارت کے ایک اہم ادارے کے ساتھ منسلک تھے اور دادرا و نگر حویلی میں تعینات تھے۔
انکا کہنا تھا کہ پچھلے کئی روز سے جموں کشمیر میں لوگوں کے بنیادی حقوق پامال کیے جا چکے ہیں اور انڈیا کی اکثریت کو اس سے کوئی فرق ںہیں پڑ رہا۔ ’مجھے معلوم ہے کہ میرے استعفیٰ سے زیادہ کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر مجھے اپنے ضمیر کو جواب دینا ہے۔‘ انہوں نے بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ایک سابق انڈین افسر شاہ فیصل کو ہوائی اڈے سے حراست میں لیا گیا اور بعد میں نظر بند کردیا گیا، تب بھی انڈیا کی سول سوسائٹی خاموش رہی۔
خیال رہے کہ شاہ فیصل وہ مسلمان انڈین افسر تھے جہوں نے رواں سال جنوری میں جموں کشمیر میں دن بہ دن بڑھتی ہوئی جارحیت کے خلاف استعفیٰ دیا اور سیاست میں حصہ لینے کا قدم اٹھایا۔
ان خبروں کے بعد سوشل میڈیا پر بھی جہاں لوگ ان افسران کو آواز بلند کرنے پر سراہ رہے ہیں وہیں، انکو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
 
پریانک نامی صارف نے لکھا ہے کہ انہوں نے سینتھل کا کام دیکھا ہے اور وہ انہیں بخوبی جانتے ہیں۔ ’بہت افسوس کی بات ہے کہ یہ افسران نوکری چھوڑ رہے ہیں۔ امید ہے کہ یہ اچھا کام جاری رکھیں گے۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ایک افسر نے انڈیا پر فسطائیت کا الزام لگایا جب کہ وہ یہی الزام قریب سات دفعہ آرام سے ہر چینل پر لگاتے رہے۔ جب کہ ایک اور صارف نے لکھا کہ یہ افسر اس وقت کیوں خاموش تھے جب آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگ مارے جارہے تھے۔

 

شیئر: