بلوچستان کے پتھروں سے تراشی گئی ’تافو‘

روایتی اوزاروں کے ساتھ پتھر کو بڑی مہارت کے ساتھ کاٹ کر ’تافو‘ بنایا جاتا ہے۔
بلوچستان حیرت انگیز تہذیبوں کا امین ہے، اس کا رہن سہن اور زندگی کے معمولات بھی دیگر افراد کے لیے حیرت اور استعجاب کی وجہ بنتے ہیں۔ مثلاً ایک اہم شے تافو کو ہی لیجیے جو باورچی خانے کا ایک جزو ہے لیکن اس کا استعمال بہت ہی منفرد بھی ہے۔
نوشکی سے تقریباً 50 کلو میٹر جنوب کی طرف جاتے ہوئے آپ کو طوفانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بلند و بانگ سرمئی پہاڑ ملیں گے۔ ان پہاڑوں کے بیچوں بیچ جب آپ سیر وتفریح کے لیے نکلتے ہیں تو تافوئی نامی پہاڑ کا سامنا ہوتا ہے۔ یہاں پہنچتے ہی ایک نئی تہذیب اور طرزِ زندگی سے شناسائی ہوتی ہے۔ 
یہاں آپ کو  پتھروں سے بنے عارضی کمروں میں بیٹھے ہوئے سادہ لوح لوگ ملیں گے جو کہ پتھروں کو گول دائروں میں تراشتے نظر آئیں گے۔ انہی پتھروں کو 360 درجے پردائروں میں ڈھالتے ہیں اور گھر کی ایک جانب رکھ دیتے ہیں۔ اس سنگی توے کو تافو کہا جاتا ہے۔
تافوئی کے پہاڑی سلسلے اس تافو کی وجہ سے مشہور ہوئے ہیں۔ یہاں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ تافو براہوئی زبان کا لفظ ہے، یہ اس سطح یا برتن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس پر روٹی پکائی جاتی ہے، بلوچی زبان میں اسے تاپگ کہتے ہیں۔ یہاں تافو سازی کا کام کئی دہائیوں سے جاری ہے۔
تافو توا کا کام دیتاہے جس پر لوگ روایتی چپاتی پکاتے ہیں لیکن اس میں بہت سی خصوصیات ہیں۔ اسے دستی ہینڈل کے بغیر ایک فرائی پین سمجھا جاسکتا ہے جس کے کنارے نہیں ہوتے۔ لیکن اس خطے میں اس کا ایک بہت اہم کردار ہے۔
تافو کو موٹا کاٹا جاتا ہے، سینڈ سٹون سے بنا یہ برتن نہ روٹی جلاتا ہے اور نا ہی اسے چپکاتا ہے۔ اس پر ایک خاص قسم کا پراٹھا بنایا جاتا ہے، جسے ’روگن پخت‘ یا ’ڈکو‘ کہتے ہیں۔ یہ بلوچستان کی مشہور روایتی خوراک ہے۔
روگن پخت میں روگن یعنی گھی ( دیسی) اور چینی ڈالی جاتی ہے، اس کو تھوڑا موٹا کرکے تافو پر پکایا جاتا ہے، جو بہت نرم اور خستہ تیار ہوتا ہے۔ اسے ناشتے میں  چائے یا بغیر چائے کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چاول کی روٹی کو بھی خصوصی طور پرتافو پر پکایا جاتا ہے۔
تافو وافر مقدار میں اندرون سندھ کے مارکیٹوں میں بھی فروخت ہوتے ہیں۔ تاجر ان پہاڑوں کا رخ کر کے ان محنت کشوں سے بڑی تعداد میں تافو خرید کر لے جاتے ہیں اور پھر انہیں اندرون سندھ، نوشکی، کوئٹہ اور بلوچستان کے دوسرے شہروں میں فروخت کرتے ہیں۔

تافو پر ویسے تو روایتی چپاتی پکائی جاتی ہے لیکن اس کو فرائی پین اور مصالحے پیسنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

تافو کے لیے پتھر کاٹنے والے سخت جان ہوتے ہیں، ان کے ہاتھو ں میں پڑے  چھالے  خود اس کی  گواہی دیتے ہیں۔ جب  آپ ان کے  کمرے میں جھانکیں گے تو آپ کو ان کے اردگرد پتھر کے گول ٹکڑے  پڑے ہوئے ملیں گے۔ ان کے بقول کبھی دن میں 2 کبھی 3 یا ایک تافو بمشکل بنا پاتے ہیں۔ کیوں کہ پتھر کافی سخت ہوتا ہے اور روایتی اوزاروں کا سہارا لے کر انھیں کاٹا جاتا ہے۔
یہ ہنرمند جب روایتی اوزاروں کے ساتھ پتھر کو بڑی مہارت کے ساتھ کاٹ کر انہیں مکمل دائرے کی شکل میں ڈھالتے ہیں تو بندہ دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے، لیکن ان کی مہارت کا صلہ انھیں بہت ہی کم ملتا ہے۔ تاجر اور  ٹھیکے دار بڑے تافو کو 100 اور چھوٹے تافوں کو 80 روپے میں خریدتے ہیں۔
قدیم زمانے میں یہ کاریگر گندم پیسنے کی چکیاں بھی بنایا کرتے تھے اور ان سے دالیں اور مصالحے وغیرہ بھی پیسے جاتے تھے۔ لیکن جدید دور میں چونکہ چکیوں کا استعمال ختم ہوچکا ہے اس لیے اب یہ نہیں بنائی جاتیں۔
جب بھی آپ اس پہاڑی سلسلے میں داخل ہوں گے تو مختلف عمر کے کاریگر پوری تندہی سے پتھر تراشتے ملیں گے۔ یہ کام ایک طرح کے زنجیری عمل یا پروڈکشن چِین کے تحت ہوتا ہے۔ اب بھی ہنرمند نسل در نسل اس کام کو سینے سے لگائے تافو سازی کے فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ایک جہاں ان جفاکشوں کی مہارت اور ہنرمندی سے یکسر بے خبر ہے۔
تافو کو تراشنا یا اسے تراشتے دیکھنا تو دلچسپ ہے ہی لیکن تافو پر پکی گرم اور لذیذ اشیا کھا کر اس کی اہمیت سے مزید آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ تبھی کہا جاتا ہے کہ جو بھی تافو پر بنی کوئی سوغات کھائے گا اسے ذائقہ کے ساتھ لازمی طور پر تافو کی اہمیت کا اندازہ بھی ہوگا۔

 

شیئر: