شرم ’ہم‘ کو مگر نہیں آتی

دنیا میں ماحولیاتی آلودگی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے لیکن اس سے نمٹنے میں زیادہ عملی اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ فوٹو: pixabay
ہم جیسے بڈھوں کے لیے کس قدر شرم ناک بات ہے کہ اب کرہِ ارض کو بچانے کی ذمہ داری سویڈن کی سولہ سالہ طالبہ گریٹا تھمبرگ جیسے ہزاروں عالمی بچوں نے اٹھا لی ہے۔
گریٹا اکیس تا تئیس ستمبر کو نیویارک میں ماحولیاتی تبدیلی کی روک تھام کی عالمی کانفرنس سے خطاب کر کے اس دنیا  کے بے حس بڑوں کو غیرت دلانے کی اپنی سی کوشش کرے گی جن کی مجرمانہ ماحولیاتی بے اعتدالیوں نے گریٹا کی نسل اور اس سے اگلی نسلوں کے لیے سوائے بربادی کی علامات کے ترکے میں کچھ نہ چھوڑا۔
ان بچوں کی اپیل پر دنیا بھر میں اکیس تا ستائیس ستمبر ’کلائمٹ سٹرائیک‘ ہو گی۔ جس میں عام شہریوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت ضروری ہے  تاکہ ہمارے فیصلہ ساز شاید تھوڑی بہت غیرت دکھاتے  ہوئے اقوامِ متحدہ  کے اس ماحولیاتی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے بارے میں سوچ سکیں  جس کے تحت اس صدی کے آخر تک موجودہ درجہ حرارت  کم ازکم ڈیڑھ سینٹی گریڈ کم کرنا پڑے گا۔
مگر اس کے لیے 2050 تک کاربن کا اخراج زیرو فیصد تک لانا لازمی ہے۔ اس دنیا کے ٹرمپ اور بولسونارو (برازیل کے انتہائی دائیں بازو کے صدر) تو شاید اس دنیا کو جھلسانے کے بعد کسی اور سیارے پر جا بسیں مگر گریٹا تھبمرگ اور میرے اور آپ کے بچے کہاں جائیں؟
سٹیفن ہاکنز  کرہِ ارض  کے عظیم  ماہرِین فلکیات میں شامل ہیں۔ مرنے سے نو برس پہلے  (2009) میں انہوں نے بنا لاگ لپیٹ  خبردار کر دیا تھا  کہ انسان جس طرح اپنے پاؤں پر ماحولیاتی بربادی کی کلہاڑی مسلسل مار رہا ہے۔ اس کے بعد بس اتنی مہلت  ہے کہ  نسلِ انسانی کو اپنی بقا  کے لیے  اگلے ایک سو برس میں یہ کرہِ ارض ترک کر کے کسی اور سیارے یا سیاروں پر ہجرت کرنا پڑے گی ورنہ فلم ختم شد۔
سٹیفن ہاکنز کے بقول اپنے سر پر روایتی قیامت توڑنے کے لیے انسان شاید خدا  کو بھی زحمت دینا پسند نہ کرے کیونکہ یہ معجزہ تو ہونے سے رہا  کہ انسان آج سے درخت کاٹنا بند کر دے، حیاتیاتی نسل کشی سے باز آ جائے، جنگوں سے توبہ کر لے، ایٹمی ہتھیاروں کا وجود زیرو کر دے،  ٹیکنالوجی کا غلام بننے اور اپنی باگیں روبوٹک آلات  کے ہاتھوں میں دینے کے ممکنہ بھیانک نتائج  کے بارے میں بھی سوچے اور زندگی کے دائرے کی تیزی سے ٹوٹتی کڑیوں کو بکھرنے سے بچانے میں اپنا کردار سنجیدگی سے ادا کرے۔ ظاہر ہے  پچھلے آٹھ ہزار برس کی معلوم تہذیب میں یہ نہ ہو سکا تو اگلے سو برس میں کیسے ہو گا۔
سٹیفن ہاکنز نے تو جو کہنا تھا کہہ  کے رخصت ہوئے مگر اگلے سو برس میں کوئی سیارہ تلاش کر کے وہاں منتقل ہونے کا نوٹس زمینی کیلنڈر کے اعتبار سے ایسے ہی ہے  جیسے حکومت وارننگ دے دے کہ اگلے ایک گھنٹے میں تمام ڈھائی کروڑ شہری کراچی سے نکل جائیں ورنہ ہم  ذمہ دار نہ ہوں گے ۔

پاکستان کا شمار ان سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے جو ماحولیاتی آلودگی سے زیادہ متاثر ہیں: فوٹو اے ایف پی

فلکیات دان پچھلے پچاس برس سے اسی تگ و دو میں ہیں  کہ اتنی بڑی کائنات میں زمین جیسا کوئی انسان دوست سیارہ ہاتھ آجائے تو مزہ آ جائے۔ اب تک اس بابت سب کوششیں ناکام رہی ہیں۔
زمین پر حیات کی موجودہ شکل  اس لیے  برقرار ہے کہ اس کا سورج سے فاصلہ نہ بہت کم ہے نہ زیادہ، یعنی کوئی ترانوے ملین میل کا فاصلہ۔حالانکہ یہ فاصلہ سال بہ سال کم ہو رہا ہے لیکن جس رفتار سے کم ہو رہا ہے تو فلکیاتی شماریات کے لحاظ سے ابھی سورج کی قربت کی حدت سے تمام سمندروں کو بخارات بننے میں تین ارب سال درکار ہیں اور خود سورج کو اپنی ساری توانائی خرچ  کر کے نابینا ہونے میں کم ازکم چھ ارب سال لگیں گے۔
مگر ہمیں اس لیے خوش ہونے کی ضرورت نہیں کہ ہم تو اگلے چند سو یا ہزار برس میں اجتماعی خود کشی کر چکے ہوں گے یا جن کے پاس سرمایہ اور ٹیکنالوجی کی طاقت ہے وہ شاید کسی اور سیارے کو رہنے کے لیے  ڈھونڈھ چکے ہوں گے۔
سٹیفن پیٹرنک شہرہ آفاق سائنسی ادیب اور ماہرِ فلکیات ہیں۔ انہوں نے اپنا نام نیدر لینڈ میں پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے کھولے گئے ’مارس ون مشن‘  میں لکھوایا ہے۔ اس کمپنی کا دعوٰی ہے کہ وہ دو ہزار ستائیس تک مریخ پر پہلی انسانی کالونی قائم کر دے گی جس کی آبادی سو کے لگ بھگ ہوگی۔
بالکل ایسے جیسے اب سے چار سو برس پہلے امریکہ کے مشرقی ساحل پر پہلی یورپی کالونی بنائی گئی۔ اس پہلے آباد کاری مشن کی تکمیل پر لگ بھگ چھ ارب ڈالر خرچ ہوں گے اور  ٹکٹ یک طرفہ ہوگا۔ یعنی مریخ سے واپسی کی کوئی گنجائش نہیں، گئے تو گئے۔

فلکیات دان پچھلے پچاس برس سے اسی تگ و دو میں ہیں  کہ اتنی بڑی کائنات میں زمین جیسا کوئی انسان دوست سیارہ ہاتھ آجائے تو مزہ آ جائے: فوٹو pixabay

سٹیفن پیٹرنک کی شائع  حالیہ کتاب ’ہم مریخ پر کیسے رہیں گے‘  کے مطابق پہلا بیس کیمپ ایسے گنبد نما خیموں پر مشتمل ہوگا جنہیں پھلایا جا سکے اور ان کے اندر درجہ حرارت ویسے ہی برقرار رکھا جا سکے جیسے تیس چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنے والے طیاروں  کے کیبن میں برقرار رکھا جاتا ہے۔
مگر آکسیجن کا کیا ہوگا؟  مریخ پر نہ ہوا ہے نہ آکسیجن ؟ اس کے لیے سٹیفن پیٹرنک کا خیال ہے کہ وہاں جمی برف کے مالیکیولز کی جنیٹک انجینیئرنگ کر کے آکسیجن پیدا کرنا ممکن ہے۔
سٹیفن کو پکا یقین ہے کہ 2050 تک مریخ پر کم  ازکم پچاس ہزار انسان رہ رہے ہوں گے۔ اس اعتبار سے اگلے سو برس میں ایک لاکھ انسان مریخ پر بس چکے ہوں گے مگر  تب تک زمین پر انسانی آبادی بیس ارب کے لگ بھگ ہو چکی ہو گی۔
تو پھر کیا کریں؟ اگر یہ سارے پیسے جو خلا میں نئی بستیوں کی تلاش میں اڑائے جا رہے ہیں اسی کرہِ ارض نامی گھر کا خیال رکھنے پر صرف ہو جاتے تو آج ہم کائنات میں یوں خوار نہ ہو رہے ہوتے۔
سٹیفن ہاکنز اور سٹیفن پیٹرنک جیسی بلند پایہ شخصیات کی پیش گوئیاں، انتباہات اور خوش گمانیاں انتہائی قابلِ احترام اور قابلِ غور سہی، مگر مجھ جیسے مٹھی بھر قنوطیوں کا خیال ہے کہ ٹرین چھوٹ چکی ہے ہم نے تو اپنے اور فطرت کے ساتھ جو ہاتھ کرنا تھا کردیا اور وہ بھی جائے پناہ ڈھونڈے بغیر۔
اردو نیوز میں شائع ہونے والے کالم، تجزیے اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: