’ہمارے قومی ادارے بھی چھوٹی بہن جیسے ہیں‘

’جو چیز چھوٹی بہن کے ہتھے چڑھ جائے پھر وہ سلامت نہیں رہتی ایسا ہی حال ہمارے اداروں کا ہے‘۔(فوٹو:اے ایف پی)
بچپن میں نیل پالش لگانے کا جس قدر شوق تھا، ابا کو اسی قدر اعتراض۔ اب نیل پالش لگانے میں کون سی قباحت آڑے آتی تھی، اس ضمن میں تاریخ خاموش ہے۔ عالم یہ تھا کہ  پتھر پر لکھا مٹانا آسان اور ہمارے ابا کے انکار کو اقرار میں بدلنا زیادہ مشکل، لیکن ہم بھی ڈٹے رہے اور پھر ایک معجزہ ہوگیا۔  ایک چاند رات ابا ہمارے لئے نیل پالش لے آئے۔ 22سالہ جدوجہد کے بعد اقتدار میں آنے کی کیا عمران خان کو خوشی رہی ہوگی جو اس رات ہم بہنوں کو تھی۔ خیر قصہ مختصر یہ کہ ایک روز شیشی چھوٹی بہن کے ہتھے چڑھی اور پھر فرش سنہرا ہوگیا (نیل پالش کراماتی نہیں تھی، اس کی رنگت سنہری تھی)۔ فرش کے دیگر حصوں کا احساس محرومی دور کرنے کیلئے وائپر کی مدد سے باقی کے حصوں تک بھی بخوبی نیل پالش پہنچائی گئی۔ اس واقعہ کے بعد کمرے کا یہ حصہ لمبے عرصے تک عزیزی مرحومہ نیل پالش کی یاد دلاتا رہا۔
ویسے ہمارے ملک میں کام کرنے والے قومی ادارے بھی چھوٹی بہن کے جیسے ہی ہیں۔ یہاں کچھ خواہشات ( منصوبے پڑھا جائے) محدود بجٹ کی بھینٹ چڑھتی ہیں تو کچھ کےلیے بڑی سرکار معترض ہوتی ہے۔ قسمت سے کہیں کوئی بہتری کی امید پیدا ہو تو بھی ایک عدد چھوٹی بہن سامنے آجاتی ہے جو نا صرف توڑ پھوڑ مچا ڈالتی ہے بلکہ الٹا وائپر سے صورتحال کو مزید بگاڑ ڈالتی ہے۔ پشاور بی آر ٹی، لاہور اورنج ٹرین لائن سے لے کر محلے کے پارک اور شہر کے نالوں تک ہر چھوٹا بڑامنصوبہ اسی افسرشاہی کا شکار ہے۔
گزشتہ دنوں سی ڈی اے کے تجاوزات کےخلاف  آپریشن کی خبریں خوب پڑھنے، سننے کو مل رہی تھیں۔ پھر ایک روز ان کی کرین ہماری گلی میں بھی آگئی۔ دل کو ایک کمینی سی خوشی ہوئی کہ اب گلی میں گارڈز کی چوکی کے نام پر بنی سب تجاوزات ختم ہوجائیں گی لیکن ہوا اس کے برعکس۔  آغاز سے تقریباً اختتام تک ایک بھی کھوکھا سی ڈی اے کی کرین کی زد میں نہ آیا۔ آیا بھی تو کیا؟  گلی کے اختتام پر بنے پارک میں تعمیر شدہ باسکٹ بال کورٹ، جو کسی زمانے میں حکومتی بجٹ سے ہی تعمیر ہوا تھا۔ سنا ہے کہ گلی میں کوئی سی ڈی اے کا افسر رہائش پذیر ہے۔ حضور کو اس کے چبوترے پر کرکٹ کھیلتے ناآموز کھلاڑیوں کا شور ناگوار تھا سو پورا چبوترہ ہی اکھاڑ دیا گیا۔ خیرایک چبوترے کو کیا رونا، یہاں تو ہر چند دن پر نو بجے کے بلیٹن میں سی ڈی اے کا کوئی نہ کوئی کارنامہ سننے کو ملتا ہے۔

آپریشن کے آغاز سے تقریباً اختتام تک ایک بھی کھوکھا سی ڈی اے کی کرین کی زد میں نہ آیا۔

لو بھئی ہم تو سی ڈی اے کو رونے بیٹھے تھے کہ خبر آگئی کہ کے ایم سی اربن فاریسٹ منصوبے کو اچانک یک طرفہ طور پر ختم کررہا ہے۔ سبزے سے محروم شہر میں اپنی مدد آپ کے تحت کامنصوبہ نوکرشاہی کی نذر ہوگیا۔ ایک رائے یہ بھی سامنے آئی کہ پارک شہریوں کی جانب سے گود لیے جانے کی وجہ سے کے ایم سی اس خطیر رقم سے محروم ہورہا تھا جو پارک کے نام پر مل رہی تھی۔ اس سے زیادہ تکلیف دہ وہ ویڈیو ہے جو پارک میں اگائے گئے پودے اکھاڑنے کی ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں کہ جب کراچی میں کوئی پروجیکٹ سیاست کی نذر ہوا ہو۔ کراچی کیا، پورے ملک میں یہی عالم دیکھنے کو مل رہا ہے۔

کراچی اربن فارسٹ منصوبہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں اہم پروگرام سمجھا جا رہا تھا۔

اب مزید کچھ لکھنے کی ہمت نہیں ہے۔ یہ کون سفاک لوگ ہیں جو ہم پر مسلط کردیے گئے ہیں؟ جنہیں عوام کا درد دور کرنے سے کوئی غرض نہیں کہ یہ درد ہی ان کی سیاست کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ حالت یہ ہے کہ معلوم ہوتا ہے جیسے ملک نہیں بچوں کا کھیل ہے، کھیل پسند نہ آئے یا مات ہوتی نظر آئے تو کھیل ہی بگاڑ دو، نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔

اردو نیوز کے کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: