ججوں کے سوشل میڈیا پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی

پابندی کا اطلاق ہائی کورٹ کے 80 ججوں پر ہوگا۔ فوٹو: اے ایف پی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججوں کے سوشل میڈیا استعمال پر فوری طور پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں خبردار کیا ہے کہ ٹویٹر اور فیس بک جیسی سروسز استعمال کرنے کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 20 ستمبر کو جاری کیے جانے والے ایک سرکلر میں ماتحت عدلیہ میں جوڈیشل افسران (ججز اور مسجٹریٹس وغیرہ) کے سوشل میڈیا پر متحرک ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
’اسلام آباد عدلیہ کے تمام جوڈیشل افسران کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال سے باز رہیں۔‘
سرکلر کے مطابق اس ہدایت پر عمل نہ کرنے کی صورت میں افسران کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی۔

نوٹیفیکیشن میں وٹس ایپ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ فوٹو: ٹویٹر

یہ ہدایت اسلام آباد کی ڈسٹرک اینڈ سیشن کورٹس کے تمام ججوں کے لیے جاری کی گئی ہے۔
سرکلر میں فیس بک اور ٹویٹر کا نام لے کر ذکر کیا گیا ہے تاہم سوشل میڈیا میسیجنگ ایپ وٹس ایپ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
اس پابندی کا اطلاق اسلام آباد کے ایسٹ اور ویسٹ ڈسٹرکٹ اور جوڈیشل کمپلیکس کے 80 ورکنگ ججز پر ہو گا۔ ان میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سینئر سول ججز سول ججز، جوڈیشل مجسٹریٹ اور فیملی ججز شامل ہیں۔
 
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ لاہور کی انسداد منشیات عدالت میں مسلم لیگ نواز کے گرفتار رہنما رانا ثنااللہ کیس کی سماعت کرنے والے جج نے کمرہ عدالت میں سماعت روکتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں وٹس ایپ پر تبادلے کی خبر ملی ہے۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر وٹس ایپ احکامات کے حوالے سے خاصی بحث چھڑ گئی تھی۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: