Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امن مذاکرات، روس تعاون کے لیے تیار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال 8 ستمبر کو طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل کردیے تھے۔ فوٹو:اے ایف پی
افغان طالبان نے روس کی جانب سے طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں مدد دینے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ طالبان روس کی جانب سے امن مذاکرات کی بحالی میں مدد کی پیشکش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جو بھی ملک افغانستان میں امن کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا، ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی ملک کے ’مثبت کردار سے افغانستان پر غیر ملکیوں کا قبضہ ختم ہوتا ہے، ملک میں امن اور خطے میں استحکام آتا ہے، تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔‘
 

امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات معطل کیے جانے کے بعدافغان طالبان کے وفد نے ماسکو کا دورہ کیا تھا۔ فوٹو:اے یف پی

خیال رہے جمعرات کو روس کی وزارت خارجہ  نے کہا تھا  کہ روس امریکہ اور طالبان کے درمیان افغان امن مذاکرات کی دوبارہ بحالی کے لیے تعاون کرے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے روسی نیوز ایجنسی آر آئی اے کے حوالے سے کہا تھا کہ  روس ان مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال 8 ستمبر کو معطل کردیے تھے۔
واضح رہے کہ رواں سال 8 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کے ذریعے طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 
ٹرمپ نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’امن مذاکرات کابل میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد کی ہلاکت کے باعث معطل کیے گئے ہیں اور طالبان نے چھوٹے مفاد کے لیے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ ’کمیپ ڈیوڈ میں ان کی طالبان رہنماؤں کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات بھی فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہے۔‘
امریکی صدر کی اس ٹویٹ کے بعد مذاکرات معطل ہونے کی صورت میں طالبان نے افغانستان میں امریکی فوج کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر ٹرمپ بات چیت بند کرنا چاہتے ہیں تو ہم پہلا راستہ اختیار کریں گے اور جلد ان کو اس کا پچھتاوا ہو گا۔‘

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کو مردہ قرار دیئے جانے کے بعدافغان طالبان کے وفد نے ماسکو کا دورہ کیا تھا۔
روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے قطر میں موجود طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے حوالے سے بتایا تھا کہ طالبان کے وفد نے ماسکو میں روسی صدر پوٹین کے نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف سے مشاورت کی ہے۔

 

 ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ طالبان سے اب پہلے سے زیادہ سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ چند روز قبل روس کی جانب سے ایک بیان میں امریکہ اور طالبان پر افغان امن عمل کے لیے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا گیا تھا۔
روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ ’روس امریکہ اور طالبان تحریک کے مابین مذاکرات کی بحالی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔‘
مبصرین نے امریکہ طالبان مذاکرات ملتوی ہونے کے بعد افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ یاد رہے کہ افغانستان میں صدارتی الیکشن 28 ستمبر کو ہورہا ہے۔ 
 

شیئر: