چوراہے پر ٹریفک خلاف وزری پر بھاری جرمانہ

چوراہوں میں جو گاڑی پہلے داخل ہوگی اسے کراس نہیں کیاجاسکتا.فوٹو ۔ المدینہ نیوز
ٹریفک چالان کے بارے میں محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے اس بات کااعادہ کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ چوراہے میں پہلے داخل ہونے والی گاڑی کو راستہ نہ دینا خلاف ورزی شمار ہوگی ۔
محکمہ ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ قوانین لوگوں کی جان و مال کی حفاظت و سلامتی کے لیے وضع کیے جاتے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے ۔

شاہراہوں پر قائم چوراہوں کو عبور کرنے کے قوانین واضح ہیں. گرافک ۔ ادارہ ٹریفک پولیس 

عربی ویب مز مز نیوز کی جانب سے  کیے جانے والے استفسار کا جواب دیتے ہوئے  ٹریفک پولیس کے ذمہ دار نے کہا کہ " شاہراہوں پر قائم چوراہوں کو عبور کرنے کے قوانین واضح ہیں ،وہ گا ڑیاں جو چوراہے میں پہلے داخل  ہوتی ہیں انکا حق ہے کہ وہ راستے کو پہلے عبور کریں"۔
 ایسے راستے جہاں پر قائم چوراہوں میں  مختلف سمتوں  سے گاڑیاں داخل ہوتی ہیں وہاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے حوالے سے ٹریفک پولیس کے ذرائع کا کہنا تھا کہ" چوراہے کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں پر 300 سے 500 ریال تک چالان کیا جاسکتا ہے"۔
واضح رہے ٹریفک قوانین میں اس امر کی تاکید کی گئی ہے کہ حادثات سے بچنے کے لیے چوراہوں کے دائرے میں جو گاڑی پہلے داخل ہوگی اسے کراس نہیں کیاجاسکتا ۔ ایسا کرنے والے ڈرائیور وں پر قانون شکنی کی شق نافذ کی جاتی ہے ۔ 
مملکت میں قانون کے مطابق ٹریفک پولیس اہلکار کو یہ اختیار ہے کہ وہ چوراہے کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیور کا اسی وقت روک کر چالان کرے یا کمپیوٹرائز طریقے سے  آئی ڈی نمبر جو کہ گاڑی کی نمبر پلیٹ سے منسلک ہوتی ہے چالان بھیج دے ۔
ٹریفک کے بڑھتے ہوئے حادثات کی روک تھا م کے لیے سعودی عرب میں جرمانوں کی رقم میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ ریڈ سگنل توڑنے پر جرمانہ 3000 ریال ہوتا ہے جبکہ رفتار کی حد تجاوز کرنے پر 150 ریال چالان کیاجاتا ہے ۔ 
سعودی عرب کے متعدد شہروں میں خودکار چالان سسٹم کافی عرصے سے نافذ کیا گیا ہے جسے " ساھر " کہا جاتا ہے ۔ اس سسٹم کے کیمرے شہروں کی اہم شاہراہوں پر نصب کیے گئے ہیں۔

  حادثات کی روک تھا م کے لیے جرمانوں کی رقم میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا.فوٹو ۔ اخبار 24   

خودکار کیمروں سے کیے جانے والے چالانز میں تمام تفصیلات درج ہوتی ہیں ۔ وہ ڈرائیور جنہیں خودکارچالان پراعتراض ہوتا ہے وہ اس کے خلاف محکمہ ٹریفک پولیس میں اعتراض داخل کراسکتے ہیں جہاں موجود اہلکارکمپیوٹر میں محفوظ تصاویر یا وڈیوانہیں دکھانے کے پابند ہیں۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر:

متعلقہ خبریں