سعودی عرب روس کے کردار کا معترف

کابینہ خبردار کیا کہ شام پر ترک حملے سے علاقائی امن و سلامتی خطرے میں ہے۔
سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ شام پر ترک حملے سے علاقائی امن و سلامتی خطرے میں ہے۔
 منگل کو ریاض کے قصر یمامہ میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت اجلاس میں کابینہ نے اعتراف کیا کہ مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں روس موثر کردارادا کررہا ہے۔
سعودی میڈیا کے مطابق سعودی کابینہ نے شام کے شمال مشرقی علاقوں پر ترک حملے کی مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے کے امن و استحکام پر منفی اثرات پڑیں گے۔

شاہ سلمان نے کابینہ کو روسی صدر کے ساتھ  مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کیا۔
 

سعودی کابینہ نے توجہ دلائی کہ شام پر ترکی کا حملہ اقوام متحدہ کے منشور اورسلامتی کونسل کی ان قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے جن میں شام کے اتحاد و سالمیت کے تحفظ کی تاکید کی گئی ہے۔
 کابینہ کے مطابق عرب وزرائے خارجہ نے ہنگامی اجلاس میں سلامتی کونسل سے جو مطالبہ کیا تھا کابینہ اس کی تائید و حمایت کرتی ہے۔ عرب وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا تھا کہ ترک حملہ رکوانے کے لیے سلامتی کونسل ضروری اقدامات کرے۔
شاہ سلمان نے اجلاس کے آغاز میں کابینہ کے ارکان کو روسی صدر ولادیمیر پوٹین کے ساتھ اپنے مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف شعبوں میں روس اور سعودی عرب دوست ممالک کے درمیان منفرد تعلقات ہیں۔ سعودی عرب ، مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں روس کے موثر کردار کو قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

سعودی عرب ہمیشہ امن و استحکام  کے لیے کام کرتا رہا ہے۔

شاہ سلمان نے کہا کہ’ سعودی عرب ہمیشہ امن و استحکام کے لیے کام کرتا رہا ہے۔ چاہتے ہیں کہ سب لوگ مل کر انتہا پسندی کا مقابلہ اور اقتصادی شرح نمو کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ روس اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ تجارتی و سرمایہ کاری کے امکانات سے استفادہ کیا جائے۔ اس سے دونوں ملکوں کے مفادات پر خوشگوار اثرات پڑیں گے‘۔
سعودی کابینہ نے توانائی کے شعبے میں روس کے ساتھ شراکت، تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان تعاون کے منشور پر دستخط، روس اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کے پروگراموں او رمفاہمتی یادداشتوں کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے ترقیاتی شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تر تعاون کا نیا مرحلہ شروع ہورہا ہے۔
سعودی کابینہ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ سعودی عرب اور روس توانائی کے شعبے سے لیکر ترقیاتی ، اقتصادی اور مالیاتی شعبوں تک میں تعاون کا دائرہ وسیع کرنے کا ہدف حاصل کرلیں گے۔ روسی اسٹراٹیجک اسکیموں اور سعودی وژن 2030کے اہداف اور مقاصدمیں بڑی مطابقت پائی جاتی ہے۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: