بنگلہ دیش میں صحافیوں پر بڑھتے حملے، حکومت سے تحفظ کا مطالبہ
ملک میں میڈیا اداروں پر حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے (فوٹو: اے پی)
بنگلہ دیش میں صحافیوں، مدیران اور میڈیا اداروں کے مالکان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے اور آزادی صحافت کو یقینی بنائے۔
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ملک میں میڈیا اداروں پر حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ یہ مطالبہ دسمبر میں دو بڑے قومی اخبارات پر مشتعل ہجوم کے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
سنیچر کو صحافتی حلقوں نے کہا کہ نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت کے دور میں میڈیا کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت دارالحکومت ڈھاکہ میں قائم انگریزی روزنامہ ڈیلی سٹار اور بنگلہ زبان کے سب سے بڑے اخبار پروتھم آلو پر ہونے والے حملوں کو روکنے میں ناکام رہی، حالانکہ پیشگی اطلاعات اور مدد کی درخواستیں دی گئی تھیں۔
دسمبر میں ایک معروف اسلام پسند کارکن کی ہلاکت کے بعد مشتعل عناصر نے دونوں اخبارات کے دفاتر پر دھاوا بول دیا، عمارتوں کو نذر آتش کیا اور شدید توڑ پھوڑ کی۔ حملوں کے دوران کئی صحافی اور عملے کے ارکان عمارتوں میں پھنس گئے، جبکہ چند صحافیوں نے ڈیلی سٹار کی عمارت کی چھت پر پناہ لی، جہاں سے انہیں کئی گھنٹوں بعد بحفاظت نکالا گیا۔ دفاتر کو لوٹا گیا اور ایڈیٹرز کونسل کے ایک سینیئر رکن کو موقع پر پہنچنے پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
اسی روز ڈھاکہ میں متعدد لبرل ثقافتی مراکز پر بھی حملے کیے گئے جس سے شہری آزادیوں اور اظہارِ رائے پر بڑھتے دباؤ کے بارے میں خدشات مزید گہرے ہو گئے۔ اگرچہ حملوں کی واضح وجہ سامنے نہیں آ سکی، تاہم حالیہ مہینوں میں اسلام پسند گروہوں نے اخبارات پر انڈیا سے روابط کے الزامات لگاتے ہوئے احتجاج کیے تھے۔
ایڈیٹرز کونسل اور نیوز پیپرز اونرز ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش کے زیرِ اہتمام منعقدہ مشترکہ کانفرنس میں ملک بھر سے صحافیوں اور یونین رہنماؤں نے شرکت کی۔ مقررین نے فروری میں متوقع انتخابات سے قبل آزادی صحافت کے تحفظ اور صحافیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
ایڈیٹرز کونسل کے صدر نورل کبیر نے کہا کہ میڈیا اور جمہوری اداروں کو خاموش کرانے کی کوششیں ایک خطرناک رجحان کی عکاس ہیں اور صحافیوں کو اس کا مقابلہ متحد ہو کر کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کی ایک ماہر نے بھی میڈیا اور ثقافتی مراکز پر حملوں کو جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
