’جاسوس طیارے اب سوشل میڈیا پر‘

اگر یہ جاسوس ’میسنے‘ قسم کے ہوں تو گھر آ کر شکایت لگا دیتے ہیں۔ فائل فوٹو: بشکریہ وومن ہیلتھ
اگر آپ نے یہ مضمون اس لیے پڑھنا شروع کیا ہے کہ اس میں آپ کو جاسوسی اور عسکری طیاروں کے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی تو میں آپ کو مایوس کرنے کے لیے معذرت چاہتی ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ مضمون ایسے جاسوسی طیاروں کے متعلق ایک جامع تحریر ہے جن کی کارکردگی پر مضمون تو کیا، کتابیں  بھی لکھی جاسکتی ہیں۔ لیکن آپ کے وقت کی کمی اور میری ٹائپنگ سپیڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں پر صرف تین سے چار اقسام کے جاسوسی طیارے ہی زیر بحث لائے جا سکیں گے۔
سابقہ دور میں جاسوسی طیاروں کے خدوخال مختلف ہوا کرتے تھے۔ یہ جاسوسی طیارے عموماً گلی کی نکڑ، گھر کی چھت کے اوپر، دروازے کے ساتھ یا تھڑے کے گرد و نواح میں پائے جاتے تھے۔ جو ان طیاروں میں سب سے زیادہ تربیت یافتہ ہوا کرتے تھے وہ زیادہ تر ڈبیوں والی دھوتی پہنے، گلی میں موجود چائے یا پان کی دکان پر حقے کی چلم بھرتے اور گڑگڑاتے دکھائی دیتے تھے۔ یہ طیارے بہت احتیاط سے اپنے "مورچے" کا انتخاب کرتے تھے کیونکہ اچھی "پوزیشن" انہیں اپنی معاشرتی ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دینے میں مدد فراہم کرتی تھی۔

یہ طیارے بہت احتیاط سے اپنے "مورچے" کا انتخاب کرتے تھے۔ فائل فوٹو: سوشل میڈیا

ان طیاروں کا کام ہوتا تھا کہ گلی،  بازار، محلے کے ہر گھر اور ہر گھر کے ہر فرد یعنی بچے، بوڑھے، جوان، مرد اور عورت سب پر نظر رکھیں۔ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک طرح کی سی آئی ڈی ہوا کرتے تھے ۔ چونکہ اب زمانہ بدل گیا ہے، تو نہ کوئی چائے اور پان کی دکان کے باہر چارپائی بچھا کر ادھر سے ادھر آنکھیں مٹکاتا ہے نہ لوگ چھتوں پر چڑھ کر دوسروں کے گھروں میں جھانکتے ہیں۔
اصل میں یہ سب کچھ نوکیا کے 3310 کی طرح پرانا ہو کر متروک ہو گیا ہے۔ فی زمانہ، حقے کی جگہ موبائل فون اور نکڑ کی جگہ کمروں کے کونوں کھدروں نے سنبھال لی ہے۔
جاسوسی طیارے اب سوشل میڈیا کے ذریعے آپریٹ کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ جاسوسی طیارے جو آج کے مضمون میں سرفہرست ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کو سوشل میڈیا پر جاسوسی کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کو پہچاننے کی سب سے پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ یہ کرہ ارض پر پائے جانے والی ہر کمپیوٹرائزڈ مشین کی ہر ایپلیکیشن پر موجود ہوتے ہیں اور نا صرف موجود ہوتے ہیں بلکہ ہمہ وقت دستیاب بھی ہوتے ہیں۔

جاسوسی طیارے اب سوشل میڈیا کے ذریعے آپریٹ کرتے ہیں۔ فائل فوٹو: ان سپلیش

پنٹرسٹ، فیس بک، انسٹاگرام، ورڈ پریس، ٹوئٹر وہ چیدہ چیدہ نام ہیں جو ان کی انگلیوں کی ٹپس پر رہتے ہیں۔ ان کے علاوہ وہ ٹیلی فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ پر جتنی بھی ایپس انسانی دماغ کو ماؤف کرنے کے لئے کافی ہیں، وہاں سائن اپ بھی کرتے ہیں اور ایک نام سے نہیں بلکہ دسیوں آئی ڈیز سے اکاؤنٹ بنا لیتے ہیں۔
جاسوسی کے کاموں کے لئے دس آئی ڈیز کا ہونا بہت ضروری ہے۔ انہی آئی ڈیز کی بنا پر یہ جاسوس آپ کا ہر جگہ تعاقب کریں گے یا فالو کریں گے۔ اب آپ کو تو معلوم ہی ہے، فالور ہو یا سٹاکر، کرتا تو آپ کا پیچھا ہی ہے، یعنی جاسوسی۔ یہ جاسوس آپ کی ہر بات ریکارڈ کریں گے، ہر چیٹ کو سکرین شاٹ کریں گے تاکہ وقت آنے پر مؤثر سکرین شاٹ ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکے اور طعنہ زنی کی جا سکے۔ آپ کی پوسٹس کو لائک بھلے نہ کریں، نظر بھر کر دیکھیں گے ضرور۔ شائد کسی محفل میں ہو ہائے بھی کریں۔  یعنی جاسوسی کی جاسوسی، اور سسرال کی سسرال۔ برا نہ منائیے گا، اسلم رئیسانی صاحب سے معذرت کے ساتھ، سسرال تو سسرال ہوتا ہے، لڑکی کا ہو یا لڑکے کا۔
اگر یہ جاسوسی طیارے بادل ناخواستہ اور آپ کی نہایت بدقسمتی سے آپ کے رشتے دار  ہوں تو پھر تو سونے پہ سہاگہ۔  یہاں سے شروع ہوتا ہے ہمارے دوسری قسم کے جاسوسی طیاروں کے خدوخال کا تذکرہ۔ دوسری قسم کے جاسوسی طیارے ، تھوڑے "نیکسٹ لیول" ہوتے ہیں جن کا تعلق آپ کے دور و نزدیک کے رشتے دادوں سے بھی ہو سکتا ہے اور آپ کے محلے سے بھی، جو روز آپ کو ملتے ہیں تو بتیسی نکال کر ایسے احوال پوچھتے ہیں جیسے صبح انھوں نے آپ کو گڈ مارننگ کا میسج نہیں بھیجا تھا اور آپ نے جواب میں ناشتے کی تھالی کی تصویر روانہ نہیں کی تھی!

دوسری قسم کے جاسوسی طیارے ، تھوڑے "نیکسٹ لیول" ہوتے ہیں۔ فائل فوٹو: ان سپلیش

کبھی کبھی دوسری قسم کے جاسوسی طیارے یعنی آپ کے رشتے دار محلے دار اور سسرالی وغیرہ اگر آپ کی کسی بات سے خائف ہوں تو سوشل میڈیا پر ہی بدلہ لینے پہنچ جاتے ہیں۔ اور اگر یہ جاسوس میسنی قسم کے ہوں تو بس چپکے سے گھر آ کر شکایت لگا دیتے ہیں کہ "خالہ، آپ کی لڑکی تو نکل گئی ہاتھ سے۔"  اجی یہ تو ایسا ہی ہو گیا کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے، تو مریں کیا نہ کریں، بلاک کر ڈالیے سب کو! جہاں اتنے پریشرز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایک پریشر یہ بھی سہی! 

 

کچھ جاسوسی طیارے عموما چھپ کر وار کرتے ہیں۔ کبھی کبھی فیک آئی ڈیز سے آپ کا پیچھا کرتے ہیں اور آپ کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے کے بجائے آپ کی پبلک پوسٹ پر جاسوسی کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ اب فرینڈ ریکوئسٹ نہ بھیجنے کا یا فالو نہ کرنے کا ایک ہی جواز ہو سکتا ہے کہ کہیں ان کی فرینڈ لسٹ میں شامل ہو کر آپ ان کی جاسوسی نہ شروع کر دیں۔ چنانچہ، دور سے دور بین لگا کر تکتے رہتے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے، اے دل ناداں! آرزو کیا ہے؟ جستجو کیا ہے؟ الغرض، او بھائی،  تیرا مسئلہ کیا ہے؟
تیسری قسم کی جاسوس وہ ہیں جو ہر دم، ہر پل آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ وہ ہیں جنہیں آپ اپنا ہم نوا، ہم نوالہ، ہم سفر کہتے ہیں، یعنی آپ کے جیون ساتھی۔ ہر شوہر اپنی بیوی کے فون اور بیوی شوہر کے فون کی عزت تو بہت کرتے ہیں لیکن دونوں کی دل ہی دل میں خواہش ہوتی ہے کہ پاسورڈ ہیک کرکے پتہ کیا جائے وٹس ایپ پر کیا چل رہا ہے اور کس کے ساتھ چل رہا ہے؟ اگر آپ بادل نخواستہ چیٹ کرتے وقت کسی بات پر مسکرا دیں اور وہ مسکراہٹ ایک لمحے سے بڑھ کر چند لمحوں تک پھیل جائے تو پھر تو کھد بدھ شروع ہوجاتی ہے۔
علاوہ ازیں، ایک ہم سفر دوسرے کو چیٹ کرتا دیکھ کر یوں ہی جھوم کر صوفے یا کرسی کے پیچھے سے گزرے گا جیسے کہ رقص کا کوئی نیا سٹیپ آزمانا ہو۔ کن انکھیوں سے دیکھ کر، تسلی کر کے، واپس مڑ جائیں گے۔  اب سالہا سال سے جاسوسی جاری ہو، تسلی بھی ہو چکی ہو تو بھی  روزانہ جھوم کر کرسی کے پیچھے ضرور جائیں گے، کبھی بیگم گلے میں بانہیں ڈالے، کبھی میاں یونہی انگڑائی لے کر، مگر صوفے کے پیچھے کا سفر ضرور کیا جائے گا۔

جاسوسی طیاروں کی چوتھی قسم

چوتھی قسم کے جاسوسی طیارے آج کی دنیا میں صرف ایک ملک میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وہ جاسوسی طیارے ہیں جن کا نہ کبھی کسی نے سوچا نا ان کے متعلق کبھی کسی نے سنا۔  ایسے جاسوسی طیاروں میں پاکستانی کبوتر، پاکستانی غبارے اور پاکستانی سیب سرفہرست ہیں۔ بس اب اور کتنا بلوائیں گے، آگے آپ خود سمجھدار ہیں۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: