رابی پیرزادہ نے ویڈیوز کے بارے میں کیا کہا؟

یرزادہ نے ویڈیوز اور تصاویر کے حوالے سے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی درخواست دی ہے۔ فوٹوئٹر
پاکستانی گلوکارہ اور اداکارہ رابی پیرزادہ کے نام سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ یہ ٹرینڈ بننے کی وجہ پاکستانی اداکارہ کی وہ برہنہ ویڈیوز اور تصاویر ہیں جو مختلف اکاؤنٹس سے شئیر کی جا رہی ہیں۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے رابی پیرزادہ نے بتایا کہ وہ ان ویڈیوز اور تصاویر کے حوالے سے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی درخواست دے دی ہے۔

* رابی پیرزادہ کا اردو نیوز کا اںٹرویو یہاں دیکھیے

انہوں نے بتایا کہ ان کی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز ان کے سمارٹ فون میں موجود تھیں جو انہوں نے کچھ عرصہ پہلے فروخت کر دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں انہوں نے یہ موبائل فروخت کیا ان کے خلاف بھی درخواست دے دی ہے۔

رابی پیرزادہ گذشتہ دنوں سانپوں کے ساتھ ویڈیوز بنانے پر بھی خبروں میں رہ چکی ہیں۔ فوٹو: ٹویٹر

یاد رہے کہ پاکستان کی معروف اداکارہ رابی پیرزادہ نے سوشل میڈیا پر گذشتہ دنوں سانپوں کے ساتھ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی تھی جس کے بعد انڈین ذرائع ابلاغ نے اداکارہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ان ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان میں جنگلی حیات کا محکمہ بھی کافی متحرک رہا اور ان کے خلاف عدالتی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔
رابی پیر زادہ نے سوشل میڈیا پر حالیہ ٹرینڈ کی وجہ بننے والی ویڈیو کو بھی اس مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف آواز اٹھانے پر محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے کارروائی کے بعد یہ ان کی ذات پر دوسرا حملہ ہے۔
وقاص علی خان نامی ایک صارف نے ٹویٹ کی کہ ’خواہ یہ (ویڈیو) اصلی ہے یا جعلی لیکن کسی کو بھی محض مذاق اڑانے یا کسی دوسرے کو بدنام کرنے کے لیے اس کی رازداری پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ سوشل میڈیا ایک عجیب دنیا ہے۔ یہاں لوگ بے دل ہیں جو دوسروں کی زندگی دکھی/مشکل بناتے ہیں تاکہ وہ خود لطف اندوز ہو سکیں۔‘
ایک صارف حیدر ریاض رانجھا نے کہا کہ ’بحیثت قوم ہم اخلاقی پستی کا شکار ہو چکے ہیں۔ اگر آپ نے ویڈیوز دیکھ ہی لیں ہیں تو ان کو شئیر کرنے کی کیا منطق ہے۔ غیر اخلاقی چیزیں شئیر کرنا گناہ کرنے کے برابر ہے۔‘
محسن ظفر نامی صارف نے ٹویٹ کی کہ ’اس میں سب کے لیے سبق ہے۔ اینڈرائیڈ پر کبھی بھروسہ نہ کریں۔ کبھی غیر ضروری ایپس ڈاون لوڈ نہ کریں۔ کبھی بھی موبائل ڈیٹا مکمل طور پر ڈیلیٹ کرنے سے پہلے اسے مرمت کرنے کے لیے مت دیں حتی کہ ڈیلیٹ کیا گیا ڈیٹا بھی دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے اور کبھی ’دیکھ کر ڈیلیٹ کر دوں گا‘ پر یقین نہ کریں۔

 

شیئر: