سپاٹ فکسنگ کے الزام میں دو انڈین کھلاڑی گرفتار

وکٹ کیپر بیٹسمن سی ایم گوتم اور ابرار قاضی کو کرناٹکا پریمیئر لیگ میں مبینہ سپاٹ فکسنگ پر گرفتار کیا گیا ہے۔ فوٹو کرک انفو
انڈین پریمیئر لیگ کھیلنے والے دو سابق کھلاڑی سکینڈلز سے بھرپور علاقائی ٹورنامنٹ کے دوران مبینہ طور پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر گرفتار ہو گئے ہیں۔  
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ وکٹ کیپر بیٹسمن سی ایم گوتم اور ابرار قاضی کو کرناٹکا پریمیئر لیگ میں کرپشن اور میچ فکسنگ کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے خصوصی یونٹ نے بنگلور سے گرفتار کیا ہے۔
’بیلاری ٹسکر‘ کے سابق 33 سالہ کپتان گوتم اور ساتھی کھلاڑی ابرار قاضی نے مبینہ طور پر ٹورنامنٹ کے اس سال کے فائنل میں ’ہبلی ٹائیگرز‘ کے خلاف میچ میں 28 ہزار ڈالر فی کس سست بیٹنگ کرنے کے عوض وصول کیے۔
 
’بیلاری ٹسکر‘ نے فائنل آٹھ رنز سے ہارا تھا۔ پولیس کے جوائنٹ کمشنر سنڈیپ پٹیل نے اے ایف پی کو بتایا کہ سینٹرل کرائم برانچ نے دو اہم گرفتاریاں کی ہیں۔ گرفتار ہونے والوں کے کے نام انہوں نے گوتم اور ابرار قاضی بتائے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کھلاڑیوں نے کے پی ایل 2019 کے فائنل میں سپاٹ فکسنگ کی۔ ان کو سست بیٹنگ کے لیے 28 ہزار ڈالر ادا کیے گئے۔
پولیس کمشنر کا کہنا تھا کہ کہ مذکورہ کھلاڑیوں نے بنگلور کے خلاف میچ میں بھی فکسنگ کی۔ ان کے مطابق تفتیش جاری ہے اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
حالیہ دنوں کے اندر سپاٹ فکسنک کے خلاف جنگ میں کرکٹ ایک اہم میدان بن گیا ہے۔
کے پی ایل اس وقت سے شکوک و شہبات کی زد میں ہے جب اس لیگ اور دبئی ٹی20 لیگ میں ایک فرنچائز کے مالک اشفاق علی تھارا کو میچ فکسنگ کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔
دنیا کی سب سے بڑی اور دولت مند لیگ، انڈین پریمیئر لیگ بھی 2013 میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل سے متاثر ہوئی تھی جس کے بعد دو ٹیموں پر دو سال کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔

حال ہی میں شکیب الحسن پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ فوٹو آئی سی سی

گوتم نے آئی پی ایل مین رائل چیلنجرز بنگلور، ممبئی انڈینز اور دہلی ڈیر ڈیولز کی نمائندگی کی ہے جبکہ قاضی نے 2011 میں بنگلور کی طرف سے آئی پی ایل کا ایک میچ کھیلا تھا۔
خیال رہے ماضی میں دنیا بھر کی ٹی20 لیگز بشمول پاکستان سپر لیگ، بنگلہ دیش پریمیئر لیگ اور دبئی لیگ بھی سپاٹ فکسگ سیکنڈل کا شکار ہوئی ہیں۔
حال ہی میں بنگلہ دیش کے کپتان شکیب الحسن پر دو سال کے لیے پابندی بکیز کی جانب سے رسائی کو رپورٹ نہ کرنے پر لگائی گئی ہے۔
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: