بابری مسجد فیصلے کے بعد گرفتاریاں

سنیچر کو فیصلہ سنائے جانے سے قبل پولیس نے بدامنی اور ہنگاموں سے بچنے کے لیے سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا تھا (فوٹو:اے ایف پی)
انڈیا میں بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹس کرنے اور آتش بازی کر کے جشن منانے والے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
خبررساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق انڈین پولیس حکام نے اتوار کو بتایا ہے کہ 37 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اترپردیش میں 12 کیسز رجسٹر ہوئے ہیں۔
سنیچر کو انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد کی زمین کا فیصلہ ہندؤں کے حق میں دیتے ہوئے مسلمانوں کو ایودھیا میں ہی کسی نمایاں مقام پر پانچ ایکڑ متبادل زمین دینے کا حکم دیا تھا۔
یہ مقدمہ 1961 میں سنی وقف بورڈ نے ایودھیا میں 277 ایکڑ اراضی کی ملکیت کے لیے کیا تھا جس پر 16ویں صدی سے بابری مسجد تعمیر تھی اور جسے 6 دسمبر 1992 میں ہندو شدت پسندوں کے ہاتھوں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں مسمار کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے تھے جن کے نتیجے میں لگ بھگ دو ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

’پولیس رہائشیوں سے اپیل کررہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال نہ کریں‘۔ فوٹو:اے ایف پی

پولیس حکام کے مطابق نامناسب تبصرہ کرنے اور دھمکی آمیز زبان استعمال کرنے پر لکھنئو سے ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔
لکھنئو میں پولیس کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ کلانیدھی نیتھانی نے سنیچر کو کہا تھا کہ ’پولیس رہائشیوں سے اپیل کررہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال نہ کریں۔‘
ریاست کے دیگر علاقوں سے کم از کم سات افراد کو آتش بازی کرنے اور مٹھائیاں بانٹے ہوئے ہنگامہ آرائی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد کی زمین کا فیصلہ ہندوؤں کے حق میں دیا تھا۔ فوٹو:اے ایف پی

انڈیا کی وزارت داخلہ نے ان گرفتاریوں کے حوالے سے معلومات کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
سنیچر کو فیصلہ سنائے جانے سے قبل پولیس نے بدامنی اور ہنگاموں سے بچنے کے لیے سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا تھا اور مختلف شہروں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

شیئر: