Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’عوام کی بھوک حکومت کھا جائے گی‘

اس کا چہرہ ٹماٹر سے زیادہ سرخ ہو چکا تھا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
صبح دفتر جانے کو تیار ہوا ہی تھا کہ بیگم نے حکم صادر فرما دیا کہ ’کچھ پکانے کو لے آئیے، گھر میں دالیں بھی ختم ہو چکی ہیں.‘
’کیا لاؤں‘ اس نے لگاوٹ سے پوچھا تو بیگم بھنا گئی، ’کچھ بھی لے آئیں، پوچھ تو ایسے رہے ہیں جیسے جو کہوں گی وہی لے آئیں گے، ایک ہفتے سے دالیں بدل بدل کر کھا رہے ہیں، اب کچھ ایسا لے آئیں جو پیٹ میں جا کر ان دالوں کو کھا لے،‘ ’ارے بیگم آخری تاریخیں ہیں جیب خالی ہے،‘ وہ کھسیانا سا مسکرایا۔
’تم صحافیوں کے معاملات ساری دنیا سے الگ ہیں، بڑے سورما بنے پھرتے ہیں اور یہ تک پتا نہیں ہوتا کہ تنخواہ کس تاریخ کو ملے گی، ہمیشہ آخری تاریخیں چل رہی ہوتی ہیں تم لوگوں کی، پہلی تو آتی ہی نہیں۔‘ بیگم جھلا سی گئی۔ ’ارے میں صحافی ہوں کوئی اینکر نہیں‘ اس نے دانت پیستے ہوئے موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور بازار کو روانہ ہو گیا۔

بیگم نے اس کے ہاتھ میں آلو دیکھے تو اس نے بھی منہ بنا لیا۔ فائل فوٹو: پکسابے

قصائی کی دُکان کے پاس سے گزرتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا کہ گوشت خور جانوروں کو درندہ کہتے ہیں۔ ہم تو اشرف المخلوقات ہیں مگر ہماری دانتوں کی بتیسی ہی ایسی ہے کہ سبھی کچھ کھا جاتے ہیں۔ ہمارے لیے بہت کچھ حلال ہے، یہ الگ بات کہ مہنگائی نے حلال کمانے والوں کے لیے بہت سی حلال اشیا بھی حرام کر رکھی ہیں۔ بکرے کا گوشت چھوٹا گوشت کہلاتا ہے مگر اس کا نرخ دیکھ کر خود آپ اپنی نظر میں چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ وہ کتنا مہنگا ہے آپ کی اسے کھانے کی خواہش بالکل مفت ہوتی ہے۔ اگر گوشت سالن کا بادشاہ ہے تو اب اسے کھانے والے بھی خود کو بادشاہ ہی سمجھیں۔

 

ویسے یہ قصائی بھی عجب فنکار ہوتے ہیں، گاہک اور جانور دونوں کی کھال اتار لیتے ہیں اور اکثر کھال اتارنے کے بعد کمال مہارت سے بکری کی پیوند کاری کر کے اسے بکرا بنا دیتے ہیں۔ قصائی کی اس حرکت کے بعد تو سامنے سے گزرتی بکری بھی دیکھ کر نہیں پہچان پاتی کہ یہ جو سربریدہ الٹا لٹکایا گیا ہے میرا ماں جایا تھا کہ ماں جائی۔
قصائی کی چُھری جس قدر آپ اپنی جیب پر چلنے دیں گے اس سے دُگنی رفتار سے وہ بکرے کی ران، دستی اور پُٹھ پر چلے گی اور منٹوں میں بکرا بوٹی بوٹی ہو جائے گا اور اگر جیب بہت ہلکی ہے تو سربریدہ برہنہ بکرے کے سارے جسم پر گویا دانت اُگ آئیں گے، آپ نے ہاتھ لگایا نہیں اور قصائی سے پہلے بکرے نے آپ کو کاٹ کھایا نہیں۔ اسی لیے وہ سبزی کی دُکانوں کی جانب چل دیا۔

عوام کی بھوک اس حکومت کو کھا جائے گی۔ فائل فوٹو: پکسابے

سبزیوں کے نرخ بھی تو آسمانوں سے باتیں کر رہے تھے۔ قدر و قیمت کیا بڑھی سبزیوں کے تو رنگ ڈھنگ ہی بدل گئے۔ وہ نہایت مغرور اور متکبر دکھائی دیں۔ کریلے نے دیکھ کر منہ چڑایا، جیسے وہ نیم چڑھا ہو۔ بینگن کا نرخ دیکھ کر اس کا اپنا منہ بینگن جیسا ہو گیا۔ ٹینڈا تو یوں اِترا رہا تھا جیسے اس کے سر پر بال نکل آئے ہوں۔ کدو جو کبھی شریف ہوا کرتا تھا بدمعاشی سے سینہ تانے ہوئے تھا۔ چونگوں کی اپنی کڑواہٹ سے زیادہ اس کی قیمت حلق کو کڑوا کر رہی تھی، اور شلجم جسے سیب کا نعم البدل سمجھا جاتا تھا اب سیب اس کا نعم البدل لگ رہے تھے۔ لیڈی فنگر بھنڈی کے ناخن بڑے ہو گئے تھے۔ اروی اب ’عربی‘ کے بجائے انگریزی دکھائی دے رہی تھی، توری کے تو تیور ہی بدلے ہوئے تھے۔ پھول گوبھی جیسے فخر سے پھو ل کر کُپا ہو گئی تھی۔ مٹر ایسے کہ خرید کر چھیلنے سے پہلے آپ کی جیب کو چھیل کر رکھ دیں۔ پیاز کی قیمت پڑھ کر ہی منہ سے اس کی بو آنے لگی۔
فشار خون کو اعتدال پہ رکھنے والا لہسن اور ادرک فشار خون کو بڑھا رہے تھے۔ اور ٹماٹر تو غریب کی عزت سے بھی مہنگا تھا۔ دکاندار نے اسے یوں سجا کر رکھا تھا جیسے سنار جیولری سجاتے ہیں۔ شیشے کے شوکیس کی کمی تھی۔ سبز مرچ کے نرخ نے خرید کر کھانے سے پہلے ہی زبان لال کر دی تھی۔ سبزی کی قسمت تو یوں چمکی جیسے جھگی کی لڑکی کسی لینڈ کروزر میں جا بیٹھے۔

 

بہت دیر ادھر ادھر گھومنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ آج آلو شوربے کا سالن ہی پکا لیا جائے۔ ایک کلو آلو اور پاؤ پاؤ ٹماٹر پیاز خریدتے وقت جب اس نے دکاندار سے مہنگائی کا شکوہ کیا تو وہ ہنسنے لگا۔ ’بھائی جی ہر چیز کو آگ لگی ہوئی ہے ہم کیا کریں۔ مال پیچھے سے ہی مہنگا آ رہا ہے، شاید غربت ختم کرنے کے لیے غریب کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اضافی ٹیکس لے کر مفت میں بھوک بانٹی جا رہی ہے، بھائی جی سیانے کہتے ہیں کہ بھوکے سے کبھی نہ لڑو کیونکہ وہ تمہیں مارے گا نہیں بلکہ کھا جائے گا اس لیے کہ وہ بھوکا ہے۔‘
گھر پہنچنے پر بیگم نے اس کے ہاتھ میں آلو دیکھے تو اس نے بھی منہ بنا لیا۔ اس نے شاپنگ بیگ میز پر رکھا تو اندر سے دو ٹماٹر لڑھک کر ادھر ادھر بھاگے اس نے جلدی سے پکڑ کر واپس رکھے۔ پچاس روپے کے بس دو ہی تو ملے تھے۔ وہ کمرے میں چلا گیا اور حسب معمول ریموٹ سے ٹی وی کے چینل گھمانے لگا۔ ایک چینل پر خبر چل رہی تھی۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ بتا رہے تھے کہ ٹماٹر بازار میں سترہ روپے کلو بک رہے ہیں۔ ’آپ کو کس نے بتایا ہے میں نے اڑھائی سو روپے کلو خریدا ہے‘ صحافی نے سوال کیا۔ ’میں نے تین سو کے لیے ہیں عقب سے کسی نے گرہ لگائی‘ ابھی ٹی وی پر چل رہا تھا ’میں نے دیکھا ہے‘ مشیر خزانہ نے جواب دیا۔ اس نے سرد آہ بھری اور کرسی پر نیم دراز ہو گیا۔
اس کا چہرہ ٹماٹر سے زیادہ سرخ ہو چکا تھا، اسے سبزی فروش کی بات یاد آ گئی۔’عوام کی بھوک اس حکومت کو کھا جائے گی۔‘

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: