حکومت نے مولانا فضل الرحمان کو کیا بڑی پیش کش کی؟

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان استعفیٰ دیں یا پھر تین ماہ کے اندر الیکشنز کرائے جائیں، فوٹو: اے ایف پی
جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے مبینہ طور پر کی جانے والی پیش کشوں کا انکشاف کیا ہے۔
جمعرات کو ڈیرہ اسماعیل خان میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں موجودہ حکومت کی جانب سے سینیٹ کا چیئرمین بنائے جانے کی پیش کش ہوئی۔
’مجھے کہا گیا کہ آپ ڈیرہ اسماعیل خان سے منتخب ہو کر واپس پارلیمنٹ میں آ جائیں۔‘
واضح رہے کہ جے یو آئی ف نے رواں ماہ اسلام آباد میں حکومت کے خلاف 13 روزہ دھرنا دیا تھا، اس دوران ان کی جماعت اور حکومت کی کمیٹی میں مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے۔

 

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’انہیں بلوچستان حکومت دینے کی پیش کش بھی کی گئی تھی۔‘
پی ٹی آئی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایک سال میں ملک کی معیشت تباہ ہو گئی۔ اگر ٹماٹر تین سو روپے کلو ملتا ہے تو کہتے ہیں 17کہ  روپے فی کلو ہے۔ ’یہ کیا جانیں کہ ملک کا غریب کس کرب سے زندگی گزار رہا ہے۔‘
وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں جے یو آئی ف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کہتے ہیں کہ میں کھلاڑی ہوں اور مقابلہ کرنا جانتا ہوں، مگر فارن فنڈنگ کیس میں اکبر ایس بابر کے مقابلے سے بھاگنے کی کوشش ہو رہی ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں جے یو آئی ف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’عمران خان استعفیٰ دیں یا پھر تین ماہ کے اندر الیکشنز کرائے جائیں۔‘ 
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: