خاتون سے زیادتی پر انڈیا میں غم و غصہ

2018 کے سروے کے مطابق انڈیا خواتین کے لیے دنیا کی سب سے خطرناک جگہ ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے شہر حیدر آباد میں ایک خاتون وٹرنری ڈاکٹر کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کیے جانے اور ان کی لاش کو جلانے کے واقعے کے خلاف شہری سراپا احتجاج ہیں۔
خاتون ڈاکٹر کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کیے جانے پر پورے انڈیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ایک طرف جہاں مختلف شہروں میں احتجاج ہو رہے ہیں تو وہیں دوسری طرف بہت سے لوگ اس واقع کا موازانہ 2012 میں دہلی کی میٹرو بس میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ایک طالب علم لڑکی کے کیس سے کر رہے ہیں۔
دہلی میٹرو کے مذکورہ واقع کے بعد بھی ہزاروں خواتین سڑکوں پر نکل آئی تھیں اور ان کے احتجاجی مظاہرے جنسی زیادتی سے متعلق انڈین قوانین میں تبدیلی کا سبب بنے تھے۔  
ہفتے کو ہزاروں لوگ حیدر آباد کے مضافات میں واقع پولیس سٹیشن کے باہر جمع ہوئے اور خاتون ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی کرنے والے چار ملزمان کو مجمعے کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔
26 سالہ خاتون وٹرنری ڈاکٹر کی جلی ہوئی لاش جنوبی شہر حیدر آباد کے مضافات سے بدھ کی رات کو ملی تھی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج، پولیس رپورٹس اور عینی شاہدین کے مطابق ڈاکٹر پر حملہ منصوبہ بندی سے کیا گیا تھا۔
دی گارڈین اخبار کے مطابق چار افراد نے مبینہ طور پر سڑک کنارے کھڑی خاتون ڈاکٹر کی موٹر سائیکل کے ٹائروں کی ہوا نکالی دی تھی اور پھر قریب ہی ایک ٹرک میں بیٹھ کر ان کے آنے کا انتظار کیا۔ جب وہ وہاں پہنچیں تو انہوں نے مدد کی پیشکش کی۔
ملزمان پر الزام ہے کہ وہ خاتوں کو موٹروے سے ملحقہ ایک غیر آباد جگہ پر لے گئے اور وہاں ان سے اجتماعی زیادتی کی۔ زیادتی کے بعد لڑکی کو مبینہ طور پر گلا دبا کر قتل کیا گیا اور ان کی لاش کو آگ لگا دی گئی۔
ہفتے کو حیدر آباد میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور اس پولیس سٹیشن کے باہر بھی جمع ہو گئے جہاں ملزمان کو رکھا گیا تھا۔ مظاہرین ملزمان کی حولگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
یہ مظاہرے اتوار کو بھی جاری رہے اور دہلی سمیت کئی بڑے شہروں میں پھیل گئے۔
چاروں ملزمان محمد عریف، جولو شیوا، جولو نوین اور چنت کنتا گرفتار ہیں اور مقامی عدالت نے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

ڈاکٹر نے حملے سے قبل فون پر گھر والوں کو بتایا کہ ان کی موٹر سائیکل پنکچر ہو گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

تین پولیس اہلکاروں کو خاتون کی گمشدگی کی رپورٹ پر جلد کارروائی نہ کرنے پر معطل کیا گیا ہے۔ ان اہلکاروں نے خاتون کے گھر والوں کو پولیس سٹیشن سے یہ کہ کر واپس بھیج دیا تھا کہ مقتولہ کسی شخص کے ساتھ چلی گئی ہو گی۔
ڈاکٹر نے حملے سے قبل فون پر اپنے گھر والوں کو بتایا تھا کہ ان کی موٹر سائیکل پنکچر ہو گئی ہے، وہ روڈ پر پھنس گئی ہیں اور خوفزدہ ہیں۔
قومی کمشنر برائے خواتین کے مطابق پولیس نے لڑکی کی گمشدگی کی رپورٹ کو سنجیدہ لینے کے بجائے ان کی ماں سے پوچھا کہ ’اس کا کسی کے ساتھ آفیئر تو نہیں۔‘
لڑکی کے گھر والوں کی جانب سے رپورٹ درج کرانے کے چھ گھنٹوں کے بعد پولیس نے ان کی تلاش شروع کی۔
تھامس روئٹرز فائونڈیشن کے 2018 کے سروے کے مطابق انڈیا خواتین کے لیے دنیا کی سب سے خطر ناک جگہ ہے۔

پولیس پر الزام ہے کہ اس نے مظاہرین پر تشدد کیا ہے (فوٹو: روئٹرز)

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2017 میں انڈیا میں زیادتی کے 32 ہزار واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ خیال ہے کہ حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔
ہفتے کو پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کرنے والی خواتین میں سے ایک نے دی گارڈین اخبار کو بتایا کہ کہ پولیس نے ان پر تشدد کیا۔ ’اس مظاہرے کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کل کلاں مجھے بھی جلا کر قتل نہ کر دیا جائے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہر 20 منٹ کے بعد انڈیا میں ریپ کا ایک کیس سامنے آتا ہے اور میں مرنا نہیں چاہتی۔‘

شیئر: