’خواتین کے مرکزی کردار والی فلموں پر بھی خرچ کریں‘

کترینہ کیف نے مرد و خواتین کے معاوضوں میں فرق پر گفتگو کی (فوٹو: اے ایف پی)
بالی ووڈ اداکارہ کترینہ کیف نے کہا ہے کہ ایسی بالی وڈ فلمیں جن میں مرکزی کردار خواتین نے ادا کیا ہو، ان کی کمائی کا مرد اداکاروں کے مرکزی کردار والی فملوں سے موازنہ کرنا زیادتی ہے کیونکہ دونوں طرح کی فلموں پر یکساں پیسے خرچ نہیں کیے جاتے۔
کترینہ کیف کا شمار بالی وڈ کی صف اول کی اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔ دیگر کئی اداکاراؤں کی طرح انہوں نے بھی بالی وڈ میں مرد اور خواتین اداکاروں کے معاوضوں میں فرق پر گفتگو کی ہے۔
انڈین خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق کترینہ نے کہا ہے کہ ’کئی مردوں کا خیال ہے کہ ایسی فلمیں جن میں مرد مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، ان کی کمائی زیادہ ہوتی ہے، اس لیے مرد و خواتین کے معاوضوں میں فرق ہے۔‘
 
کترینہ کیف کے مطابق ’اس پر میری رائے یہ ہے کہ خواتین کے مرکزی کردار والی فلموں پر بھی اتنے ہی پیسے خرچ کیے جائیں جتنے پروڈیوسرز کی جانب سے مرد اداکاروں کی فلموں یا ایک مرد اور خاتون اداکار کی جوڑی والی فملوں پر خرچ کیے جاتے ہیں، پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے؟‘
کترینہ کے مطابق خواتین کے مرکزی کردار والی فلم کی اگر کہانی اچھی ہو، اس کا ڈائریکٹر قابل ہو اور اس پر بھی مرد کردار والی فلم جتنا بجٹ خرچ ہو تو یہ بھی اتنے ہی پیسے کما سکتی ہے۔
’ہمیں پروڈیوسر کی جانب سے اعتماد چاہیے کہ وہ رسک لیں اور خواتین کرداروں والی فلموں پر بھی برابر پیسے خرچ کریں۔ ’وار‘ اور ’ٹائیگر‘ بڑی ایکشن فلمیں ہیں۔ اگر ہم کوئی فلم کریں تو وہ مختلف ہوگی، وہ کامیڈی ہو سکتی ہے۔ اگر اس کو پوری سپورٹ ملے تو شائقین کو بھی احساس ہوگا کہ یہ کوئی ایونٹ فلم ہے۔‘

میں ایک ایسی فلم دیکھنا چاہتی ہوں جسے مردوں کی سپورٹ نہ ہو (فوٹو: اے ایف پی)

فلم ’زیرو‘ کی ہروئین نے مزید کہا کہ ’اگر خواتین کے مرکزی کردار والی فلموں کا خیال اور پروڈکشن اچھی نہ ہو تو پھر ان کے بزنس کا موازنہ ’دھوم تھری‘ کے ساتھ کیسے کیا جا سکتا ہے؟‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس عدم مساوات پر ان کو غصہ آتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ اس سے ان کو غصہ نہیں آتا بلکہ یہ چیز ان کو مزید پرجوش بنا دیتی ہے کہ وہ کوئی ایسی فلم کریں جس میں مردوں کا کردار نہ ہو۔
’میری خواہش ہے کہ میں ایک ایسی فلم بنتے ہوئے دیکھوں جسے مردوں کی سپورٹ نہ ہو اور اس کا بجٹ اتنا ہی ہو جتنا بڑی ایکشن فلموں کا ہوتا ہے۔‘

شیئر: