سعودی نوجوان نے دوستی کا حق ادا کردیا

شاعروں نے مثالی دوستی کو اپنی شاعری کے ذریعے امر کر دیا۔ فوٹو: ٹویٹر
سعودی نوجوان دوستی کا حق ادا کر تے ہوئے برسوں سے گردوں کے عارضے میں مبتلا بیمار دوست کی جان بچانے کا سبب بن گیا۔
یہ واقعہ سعودی عرب کے سرحدی شہر عرعر کا ہے جہاں احمد سیف العنزی نامی سعودی نوجوان کو جب یہ معلوم ہوا کہ اسکا بچپن کا دوست کافی عرصے سے علیل ہے اور وہ بستر مرگ پر لیٹا ہے تو اس سے رہا نہ گیا۔ چھٹی سے آتے ہی فوری طور پر دوست سے ملنے پہنچ گیا۔
عربی ویب نیوز سبق کے مطابق  احمد روزگار کی مصروفیت کے باعث اپنے  آبائی شہر سے کافی دور رہتا تھا اور دو برس بعد شہر گیا تھا، جہاں اسے معلوم ہوا کہ اس کا جگری دوست شدید علیل ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ گردوں کی پیوند کاری کے علاوہ کوئی علاج نہیں ۔ فوٹو: سبق نیوز 

احمد اپنے دوست کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچا جہاں اسکی حالت دیکھ کر اس سے رہا نہ گیا۔ احمد کے دوست محمد عیاض کے دونوں گردے فیل ہو چکے تھے۔ ڈاکٹروں نے گردے کی پیوند کاری تجویز کی تھی۔
اپنے دوست کو اس طرح تکلیف میں دیکھ کر احمد سے رہا نہ گیا اس نے ڈاکٹروں سے رجوع کیا جنہوں نے بتایا کہ اسکے دوست کا ایک ہی علاج ہے کہ اسے کوئی اپنا گردہ عطیہ کر دے۔
احمد نے اپنے دوست کی جان بچانے کے لیے خود کو پیش کرتے ہوئے طبی ٹیسٹ کے لیے خون کا نمونہ بھی دے دیا۔ لیبارٹری ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی یعنی احمد کا گردہ اسکے دوست عیاض کو لگایا جاسکتا تھا۔
دوست کویہ خوش خبر ی سنا کر احمد اپنے گھر والوں سے ملنے چلا گیا دوسری جانب عیاض کے اہل خانہ اسے آپریشن کے لیے دمام کے شاہ فہد ہسپتال لے گئے جہاں احمد پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔ 
ڈاکٹروں نے احمد کا ایک گردہ اس کے دوست عیاض کو لگا دیا ۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ آپریشن کامیاب رہا چند روز میں عیاض صحت یاب ہو جائے گا۔
دوسری جانب احمد بھی اس بات پر خوش ہے کہ وہ اپنے دوست کی زندگی بچانے کا سبب بن گیا۔
مثالی دوستی کے اس عملی نمونے پر عرعر شہر کے شاعروں نے احمد کے ایثار اور قربانی کے جذبے کو اپنی شاعری میں ڈھالتے ہوئے ان کی دوستی اور احمد کی بہادری کو مثالی قرار دیا۔ شہر عرعر ہی نہیں بلکہ سعودی عرب میں انکی مثالی دوستی کے قصے عام ہو رہے ہیں۔

شیئر: