متحدہ عرب امارات کی ایران میں پانی صاف کرنے کے پلانٹ پر حملے کی تردید
امارات کے صدارتی مشیر کا کہنا تھا کہ ریاست کے دفاعی اقدامات واضح ہوں گے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
متحدہ عرب امارات کے ایک سینیئر عہدیدار نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اُن کا ملک ایران میں پانی صاف کرنے کے پلانٹ (ڈی سیلینیشن پلانٹ) پر حملے میں ملوث تھا۔
عرب نیوز نے رپورٹ کیا کہ یروشلم پوسٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی نیشنل ڈیفنس کمیٹی کے چیئرمین علی النعیمی نے کہا کہ ’امارات کبھی بھی ایرانی عوام کے ساتھ وہ سلوک نہیں کرے گا جو ایرانی حکومت کرتی ہے۔‘
یو اے ای کی قومی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین علی النعیمی نے کہا کہ ’ایرانی عوام اپنی حکومت کے حقیقی شکار ہیں اور جو اس کی پالیسیوں سے سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پڑوسیوں کے طور پر ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں، اور ہمیں ان کی بھلائی کا خیال ہے۔‘
اتوار کو اماراتی صدارتی مشیر انور گرگاش نے کہا کہ جنگ میں متحدہ عرب امارات کے کسی اقدام سے متعلق کسی بھی اعلان کو سرکاری چینلز کے ذریعے بتایا جائے گا۔
انہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’متحدہ عرب امارات ایرانی جارحیت کے سامنے اپنا دفاع کر رہا ہے جس نے اس کے علاقوں، اس کے لوگوں اور اس کے بنیادی شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔‘
صدارتی مشیر کا کہنا تھا کہ ریاست جو بھی دفاعی اقدامات اٹھائے گی وہ عوامی اور واضح ہوں گے، اور نامعلوم ذرائع اور ارادوں سے پریس لیکس یا بیانیے پر انحصار نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا مقصد متحدہ عرب امارات اور عرب خلیجی ریاستوں کے خلاف جاری جارحیت کو روکنا ہے، نہ کہ کشیدگی میں گھسیٹنا۔‘
اس سے قبل کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران سے میزائلوں اور ڈرونز حملوں کے جواب میں ایرانی شہر میں ڈی سیلینیشن کی سہولت کو نشانہ بنایا۔
یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ یو اے ای حکام کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ابوظبی میں حکام کو اسرائیل کے طرز عمل اور بریفنگ کی نوعیت کو سمجھنے میں دشواری کا سامنا تھا، کیونکہ متحدہ عرب امارات ایک خودمختار ریاست ہے جو اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرتی ہے اور اس قسم کی اشاعتیں علاقائی کوششوں میں مدد نہیں کرتی اور تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
یروشلم پوسٹ نے نامعلوم ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ متحدہ عرب امارات کے عہدیدار نے کہا کہ خودمختار ریاست کے اقدامات کے بارے میں افواہیں پھیلانے کے لیے ’سینیئر اسرائیلی اہلکار‘ کا دیا گیا بیان نامناسب تھا۔