اور مطالبات مان لیے گئے

ہر احتجاج میں مزدور تنخواہوں کا اپنا برسوں پرانا مطالبہ دہراتے ہیں (فوٹو:اے ایف پی)
فیکٹری میں بلوہ ہو گیا۔ اچانک تمام مزدور کام کاج چھوڑ کر باہر نکل آئے۔ مزدوروں کے احتجاجی نعروں کی گونج دور تلک جا رہی تھی۔ ان کے چہرے جوش سے تمتما رہے تھے۔ یوں لگتا تھا ہے آج ہر مزدور نے ٹھان لی ہے کہ اب فیصلہ ہو کے رہے گا۔
دیکھتے ہی دیکھتے فیکٹری کی مسلسل چلنے والی مشینیں تھم گئیں۔ کام رک گیا اور احتجاج کا آغاز ہو گیا۔ فیکٹری مالکان اس شورش پر کوئی توجہ نہیں دے رہے تھے اس لیے کہ مزدورآج پھر اپنا برسوں پرانا مطالبہ دہرا رہے تھے۔
ان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ ان کی تنخواہوں میں فوری اضافہ کیا جائے۔ ان کے مطابق اس مہنگائی کے دور میں اس تنخواہ پر کام کرنا نا انصافی ہے۔ یہ فیکٹری مالکان کا ظلم ہے اور موجودہ تنخواہ غیر انسانی ہے۔ اس میں کسی کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ 
فیکٹری مالکان نے مزدورں کو رام کرنے کی کوشش کی۔ ان کے لیڈروں سے بات کرنے کی کوشش کی مگر مزدور اپنی ہٹ پر قائم رہے۔ وہ کسی بھی طرح دوبارہ کام کرنے کو تیار نہیں تھے۔
ان کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ اٹل تھا اور اس پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا تھا۔ مزدور یونین کے عہدیدار بھی ہجوم کے غیض و غضب کو دیکھ کر بپھر گئے تھے۔
ان کو بھی پتہ تھا اب چاہے کچھ بھی ہو جائے مزدور تنخواہ میں اضافہ کروا کر ہی دم لیں گے۔ اس لیےمزدور یونین کے عہدیدار بھی اس ہڑتال میں شامل ہو گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے فیکٹری کے فرنٹ گیٹ کے سامنے ایک سٹیج سا بن گیا۔ کہیں سے ایک ٹوٹا پھوٹا مائیک بھی دریافت ہو گیا۔ مزدور لیڈر سٹیج پر چڑھ کر فیکٹری مالکان کے خلاف تقریریں کرنے لگے۔
مالکان کے مظالم پر بات ہونے لگی۔ کوئی یہ بتانے لگا کہ کس طرح اس نے دن رات ایک کر کے اس فیکٹری کو اپنے خون سے سینچا ہے۔ کوئی یہ داستان سنانے لگا کہ اس نے بیوی بچے کی بیماری میں بھی کبھی چھٹی نہیں کی اور نہایت دیانت داری سےاپنا کام کیا۔
کوئی اپنی مہارت کے گن گانے لگا کہ اس پائے کا محنتی مزدور چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملے گا۔ کسی کے پاس اپنے بچوں کی بڑھتی سکول فیس کا شکوہ تھا کسی کے پاس ماں کی دوائی کے پیسے نہیں تھے اور کسی کے گھر راشن پورا نہیں ہوتا تھا۔
سب مزدور اپنے یک نکاتی مطالبے پر سختی سے قائم تھے کہ اگر ان کی تخواہ نہیں بڑھائی جائے گی تو فیکٹری نہیں چلے گی۔ کوئی کام نہیں ہو گا۔ کوئی مشین نہیں چلے گی۔

پاکستان میں مزدور طبقہ اپنے مطالبات کے لیے ہڑتال کرتا رہتا ہے (فوٹو:اے ایف پی)

احتجاج جب گھنٹوں سے دنوں کی جانب جانے لگا تو فیکٹری مالکان کو کچھ تشویش ہوئی۔ انہوں نے مزدور یونین کے عہدیداروں سے خفیہ مذاکرات کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے چند ایک کو رشوت بھی پیش کی گئی، کسی کو ترقی کا لالچ دیا گیا، کسی کو بھائی کی نوکری کی پیشکش کی گئی، کسی کو بونس دینے کا وعدہ بھی کیا، مگر مزدور یونین کا ایک عہدیدار بھی ٹس سے مس نہیں ہوا۔
وہ اپنے ساتھی محنت کش بھائیوں کے ساتھ دغا نہیں کر سکتے تھے۔ اپنے بھائی کا پیٹ نہیں کاٹ سکتے تھے۔ ہڑتال کا فیصلہ سب مزدورں کا متفقہ تھا اور سب چٹان کی طرح اپنے مطالبے پر جمے ہوئے تھے۔ یونین لیڈران کو نہ کوئی لالچ متاثر کر سکا نہ کوئی دھمکی انہیں مرعوب کر سکی۔ وہ یہ مطالبہ کئی برسوں سے کر رہے تھے اور اب اس مقام پر واپس جانا اور اس مطالبے سے منہ موڑ لینا ان کے بس میں نہیں تھا۔
یونین عہدیداران بھی جانتے تھے کہ مطالبات کی منظوری میں ان سب کا بھی فائدہ ہے۔ ان کے گھروں کا چولہا بھی مشکل سے جلتا ہے اور ان کے بچے بھی بھوکے سوتے ہیں۔ سو انہوں نے شاطر فیکٹری مالکان کو دو ٹوک لفظوں میں کہ دیا کہ اگر ان کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جائیں گی تو مشین نہیں چلے گی، کام نہیں ہو گا۔

یونین لیڈرز اپنی تقریروں کے ذریعے مزدوروں کے مطالبات پیش کرتے ہیں (فوٹو:سوشل میڈیا)

احتجاج کا سلسلہ جاری تھا مزدور روز گھر سے نکلتے فیکٹری میں داخل ہوتے مگر کام نہیں کرتے تھے۔ وہ سارا دن سٹیج کے گرد جمع مزدور لیڈروں کی ولولہ انگیز تقریریں سنتے، سگریٹ پیتے اور گھر سے لائے ٹفن سے روٹی کھاتے اور چھٹی کے وقت گھر چلے جاتے۔
فیکٹری مالکان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ وہ اب اس روز روز کی نعرہ بازی سے تنگ آ چکے تھے۔ اب وہ یہ تماشہ ختم کرنا چاہتے تھے۔ اس وجہ سے ایک دن جب مزدور اپنے احتجاج میں مصروف تھے اچانک پولیس کی ایک بڑی نفری فیکٹری میں داخل ہوگئی۔
پولیس کے مسلح جتھوں نے لمحوں میں ہجوم کو منتشر کر دیا۔ جنہوں نے مدافعت کی ان پر لاٹھی چارج کیا۔ کہیں آنسو گیس کے شیل چلائے۔ کسی مزدور کا سر پھٹا، کسی کا ہاتھ ٹوٹا اور کوئی خون میں نہا گیا۔ لیکن پولیس نے آؤ دیکھا نا تاؤ ایک ہی ہلے میں مزدور یونین کے عہدیداروں کو گرفتار کیا۔ قیدیوں کو برق رفتار جیپوں میں بٹھایا اور انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے نامعلوم مدت کے لیے دھکیل دیا گیا۔
اگلے روز فیکٹری میں مزدور پہلے سے زیادہ مشتعل ہوگئے اب ان کے دو مطالبات ہوگئے تھے۔ تنخواہوں میں فوری اضافہ اور قید میں مزدور لیڈروں کی فوری رہائی۔ اس احتجاج کو پھر کئی دن گزر گئے،گرفتار مزدور رہنماؤں کے گھر والوں کی حالت خراب ہونے لگی۔
مزدروں کی تشویش میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ اس موقع پر فیکٹری مالکان پہلی دفعہ مزدورں کے سامنے آئے اوربہت شفقت سے ہڑتال ختم کرنے کے وعدے پر مزدور رہنماؤں کی رہائی کا بند وبست کرنے کا عہد کیا۔
اس سے اگلے دن کے اخباروں میں شہ سرخی تھی ’ فیکٹری مالکان اور مزدور یونین کے مابین مذاکرات کامیاب۔ کئی مہینوں سے جاری ہڑتال ختم ۔ مزدوروں کے پچاس فیصد مطالبات مان لیے گئے۔‘

کالم نگار کے مطابق مزدوروں کی موجودہ تنخواہ غیر انسانی ہے۔ اس میں کسی کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔  (فوٹو:سوشل میڈیا)

ہمارے ملک کی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی آج کل یہی ہو رہا ہے ۔ برسوں کی جدوجہد اور جاں گسل کاوشوں کے بعد کسی کوانسانی ہمدردی کی بنیاد پر ضمانت پر رہائی مل رہی ہے تو کسی کوعلاج کی سہولت نصیب ہو رہی ہے۔
کسی کو شفقت سے ڈاکٹر سے مشورے کا پروانہ جاری کیا جا رہا ہے کسی کو اپنی ہی ملک سےباہر جانے کی مشروط اجازت مل رہی ہے اور کسی کو بیمار باپ کی تیمارداری جیسا انعام دیا جا رہا ہے۔
اب کوئی دن گزرتا ہے کہ حکومت وقت کی جانب سے یہ پریس کانفرنس کی جائے گی  کہ اپوزیشن احتجاج کے بنیادی حق سے توبہ کر کے اب راہ راست پر آگئی ہے اس لیے ہے کہ ’ ان کے پچاس فیصد مطالبات مان لیے گئے ہیں۔‘
نوٹ: اس کالم کا مرکزی خیال ذہن میں محفوظ ایک افسانے سے لیا گیا ہے جس کے لکھاری کا نام یاداشت سے محو ہو گیا ہے۔
  • اردو نیوز میں شائع ہونے والے کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: