جمہوری لیکچر اور لسی کا گلاس

کالم نگار کے مطابق جمہوریت صرف نعرہ لگانے سے حاصل نہیں ہوتی اس کے لیے جمہوری اقدامات کرنے پڑتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
بہت سال پہلے ایک ٹریننگ کے سلسلے میں امریکہ جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم امریکی حکومت کے مہمان تھے۔ اس لیے توقع تھی کہ وہ ہمیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے اور روٹی پانی کا خصوصی بندوبست کریں گے۔ کوئی تیس گھنٹے کی فلائٹ کے بعد امریکی سرزمین پر قدم رکھنے کی نوبت آئی۔
استقبال بھی بس واجبی سا تھا نہ کوئی ڈھول باجے نہ پھولوں کے ہار۔ بس رسمی سے کلمات اور ایک عام سی گاڑی میں بٹھا کر ہمیں ہوٹل چھوڑ دیا گیا۔ اتنی لمبی فلائٹ کے بعد طبیعت آرام پر مچل رہی تھی۔ ارادہ تھا کہ کم ازکم چوبیس گھنٹے تو آرام کرنے کے بعد بستر سے نکلیں گے۔
مگر ہوٹل کے کمرے میں ہمارا منتظر ایک حکم نامہ پہلے سے موجود تھا جس میں جلی حروف میں تحریر تھا کہ کہ چند گھنٹے آرام کے بعد امریکہ میں آپ کی پہلی مصروفیت کا آغاز ہو جائے گا۔ اور یہ پہلی مصروفیت کسی ریستوران میں پر تعیش ناشتے کی دعوت نہیں تھی بلکہ ایک امریکی خاتون پروفیسر سے ملاقات تھی۔
 
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ پڑھنے لکھنے سے خاکسار کی طبیعت ویسے ہی بچپن سے بدظن ہے۔ کورس کی کتاب کا ذکر سنتے ہی ہمیں ہمیشہ سے زوروں کی نیند آتی ہے۔ خیر مرتے کیا نہ کرتے علی الصبح یعنی تڑکے جلدی جلدی بدمزہ امریکی ناشتہ کیا اور پروفیسر صاحبہ سے ملاقات کے لیے چل نکلے۔
ایک گوری بزرگ پروفیسر نے ہمارا استقبال کیا۔ ہمارے لیے خود ہی کافی بنائی۔  نہ کسی ملازم کو آواز دی نہ کافی کے ساتھ بسکٹ اور پیسٹریوں کی ٹرے سجی۔ اور اس کے ساتھ  ہی لیکچر شروع کر دیا۔ 90 منٹ کے اس لیکچر میں اس پروفیسر نے ہمیں یہ باور کروایا کہ امریکی آئین کیا؟
اس میں کیا، کیا اور کیوں ترامیم ہوئی ہیں اور اسے کب اور کس نے بنایا ہے۔ اور یہ بھی بار بار جتایا کہ امریکی قوم اپنے آئین بنانے والے کی کتنی احسان مند ہے اس آئین کا کتنا احترام کرتی ہے۔ اس نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ امریکی جو دنیا کی سپر پاور ہے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اس کا سبب یہ آئین ہے۔ یہ سب ترقی اسی آئین کی مرہون منت ہے۔ یہ انسانی حقوق کی پاسداری اسی آئین کی حرمت کا نتیجہ ہے۔
یہ جمہوری رویہ اور روایت اسی آئین کی دین ہے۔ پروفیسر صاحبہ نے ہماری  جمائیوں کے دوران یہ بھی بتایا کہ امریکہ میں آنے والے ہر سرکاری مہمان  کو آئین کے اس درس کے بغیر سرزمین امریکہ کی سیر کی اجازت نہیں ہے۔ اس ڈیڑھ گھنٹے کے طویل لیکچر کے بعد ہمیں امریکہ یاترا کی اجازت ملی اور ہم نے پہلی فرصت میں  ہر سچے پاکستانی کی طرح کسی پاکستانی ریستوران کی تلاش شروع کر دی تاکہ آئین کی اس ڈوز کے بعد ناشتے کی ایک اور ڈوز لی جائے اور لسی کے چند گلاس پی کر اس ثقیل گفتگو کا مداوا کیا جائے۔

جمہوریت کے حوالے نصاب میں کوئی سبق تو کیا ایک صفحہ  نہیں ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)

اس واقعے کو بہت برس گذر گئے ہیں لیکن ایک بات آج بھی یاد ہے کہ امریکی اپنے آئین پر کتنا فخر کرتے ہیں اپنی جمہوریت اور جمہوری روایات پر کتنا تفاخر کرتے ہیں۔ ہم ایک معمولی سے دورے کے سلسلے میں امریکہ گئے مگر جب تک انہوں نے اپنے آئین کی ساری داستان ہمیں نہ سنا لی ہمیں امریکہ میں نکلنے کا اذن نہیں ملا۔
ہم تو ایک معمولی سی ٹریننگ کے سلسلے میں گئے تھے تو ہمیں یہ درس ملا جو لوگ اس معاشرے میں رہتے ہوں گے ان کو آئین کا درس کس کس طرح دیا جاتا ہو گا۔ ان کی ذہن سازی کس کس حیلے سے کی جاتی ہو گی۔ ان کو جمہوریت پسندی اور جمہوری روایت کی پاسداری کے کیا کیا سبق نہیں دیئے جاتے ہوں گے۔ ان کو انسانی قدروں کی پا سبانی کا کیا کیا درس نہیں ملتا ہو گا۔ ان کے تعلیمی اداروں میں کیا بحث نہیں ہوتی ہو گی۔ ان کے نصاب میں جمہوریت کی کیا کیا تعلیم نہیں دی گئی ہو گی۔

کالم نگار کہتے ہیں جمہوریت صرف نعرہ لگانے سے حاصل نہیں ہوتی اس کے لیے جمہوری اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ فوٹو:سوشل میڈیا

اس صورت حال کا اپنے ہاں کی صورت حال سے موازنہ کیا جائے تو پتہ چلے گا ہم اس معاملے میں بھی لسی پیے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمارے بچوں کی کسی کتاب میں جمہوریت کا کوئی سبق نہیں ہے۔ آئین پاکستان کی عظمت کا کوئی درس نہیں ہے۔ ہمارے سلیبس میں فاتحین کا تذکرہ تو موجود ہے ، سپہ سالاروں کے قصے تو بچوں کو ازبر ہیں مگر جمہوریت کے حوالے سے کوئی سبق تو کیا ایک صفحہ  نہیں ہے۔ اس طرح کے نصاب کو پڑھنے کے بعد بچے جمہوری روایات کے پابند کیسے ہوں گے؟ جمہوری اقدار کو کیسے اپنائیں گے؟ اس بارے میں سوچنے کی کسی کو فکر نہیں ہے۔
اس بہیمانہ غفلت میں ہماری سیاسی جماعتیں بھی بہت قصوروار ہیں۔ ہمارے ہاں جو بھی جمہوری ادوار گذرے ہیں ان میں سیاسی جماعتیں زیادہ تر وقت حکومت مخالف  سیاسی جماعتوں سے پنجہ آزمائی میں گذار دیتی ہیں۔ جمہوری روایات کے فروغ کے لیے بہت کم کام کیا جاتا ہے۔ اسی طرح آئین پاکستان کی حرمت کے حوالے سے بھی کسی کو فرصت نہیں ملتی۔ سیاسی جماعتیں بنیادی جمہوری اقدامات سے پرہیز کرتی ہیں۔
ہماری ساری سیاسی جماعتوں میں تنظیم سازی کا فقدان ہے۔ لیڈر اور کارکن میں رابطے کی شدت سے کمی ہے۔ اسمبلیوں میں قانوں سازی نام کو نہیں ہوتی۔ پارٹی انتخابات کی روایت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ طلبہ یونینز کو ملکی سیاست میں شامل کرنے کا کام بھی نہیں کیا جا رہا۔ ٹریڈ یونینز کی بھی حوصلہ افزائی کم ہی ہوتی ہے۔

کالم کے مطابق جمہوریت کی تیسری پیڑھی ’یعنی بلدیاتی نظام‘ بھی رائج جمہوری شکل میں معدوم ہو جاتی ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)

جمہوریت کی تیسری پیڑھی ’یعنی بلدیاتی نظام‘ بھی رائج جمہوری شکل میں معدوم ہو جاتی ہے اور کونسلر کے کام ایم این اے یا ایم پی اے کر رہے ہوتے ہیں۔ نصاب کی تبدیلیوں کی طرف بھی کسی کا دھیان کم ہی جاتا ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ جمہوریت کی پہلی شرط آئین پاکستان کی حرمت ہے۔ آزادی اظہار ہے۔
اگر ہماری سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کا شور مچانا ہے تو یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اپنی صفوں میں جمہوری اقدار کو لے کر آئیں۔ اس ملک کے بچوں کی ذہن سازی کی طرف توجہ دیں۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو جمہوریت ایک نعرہ تو ضرور بن جائے مگر نظام بننے میں اس کو ابھی وقت لگے گا۔ ایسی صورت حال میں تو یہی ہو گا کہ لوگ جمہوریت کا لیکچر  سننے کے بعد جمہوریت کے نعرے لگاتے سڑکوں پر نہیں نکل آئیں گے بلکہ لسی کا گلاس چڑھائیں گے اور سو جائیں گے۔
یاد رکھیں جمہوریت صرف نعرہ لگانے سے حاصل نہیں ہوتی اس کے لیے جمہوری اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔
  • اردو نیوز میں شائع ہونے والے کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: