’بتاؤ میں کیا کھاؤں، سیور یا ماموں برگر؟‘

پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کیا ہوئی راولپنڈی کی عوام کے لیے جشن کا سا سماں، ایک طرف ٹریفک جام راستے بند، شہری پریشان مگر نوجوان، بچے بوڑھے سبھی سری لنکن  کرکٹ ٹیم کو خوش دلی سی راولپنڈی میں خوش آمدید کہتے دکھائی دیتے ہیں۔
 
سوشل میڈیا پر بھی ’پنڈی بوائز‘ کا ویلکم کا انداز سب سے منفرد رہا، شاید اسی جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے سری لنکا کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی اور کرکٹ کوچ رسل آرنلڈ بھی ’پنڈی بوائز‘ سے پوچھے بغیر نہ رہ سکے کہ انہیں ’راولپنڈی میں سیور فوڈ کھانا چاہیے یا ماموں برگر؟‘
خیال رہے کہ پنڈی بوائے عام طور پر راولپنڈی کے نوجوان شہریوں کو مذاق اور بعض اوقات طنزیہ طور پر کہا جاتا ہے۔ فی الحال دیکھتے ہیں کہ رسل آرنلڈ کو کیا تجاویز دی گئی ہیں۔ 
ٹوئٹر پر سوال آنے کی دیرتھی کہ کارآمد مشوروں کی لائن لگا دی۔  
ٹوئٹر صارف ڈاکٹر محمد آصف کا کہنا تھا کہ ’باوا جی میں تے کہنا سیور کھاو‘ یعنی آپ سیور کھائیں۔  
ٹوئٹر صارف ثانیہ خان نے کہا کے سیور والوں کا  زردہ اور شوارما۔ 
  
ملک وقاص کا کہنا تھا کہ ’آپ ماموں برگر کو بطور اپیٹیزر کھا سکتے ہیں اور اس کے بعد سیور اور یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ آپ راولپنڈی آئے ہیں اور بین الاقوامی کرکٹ بھی پاکستان میں واپس آرہا ہے۔‘ 
رسل کی ٹوئٹر ٹائم لائن کسی  ہوٹل مینو کا منظر پیش کرتی نظر آرہی ہے۔ یہیں پر راولپنڈی میں دستیاب تمام مشہور کھانوں کی فہرست ہی بنا ڈالی۔
پنڈی کے جوشیلے سوشل میڈیا صارفین نے رسل کو ساتھ لے کر جانے کی دعوت بھی دے ڈالی۔ 
رضوان اعظم نے کہا کہ نجیمہ برگر، کوئٹہ چائے، اور گراٹو کی جیلبی لازمی ہے۔ 
بالے اور بٹ کڑاہی، مونال، شنواری، کے ایف سی، ریفریشمنٹ کا ناشتہ، جہانگیر کی کڑاہی، کوئٹہ کیفے کی چائے، گراٹو کی جلیبی، انڈے والا برگر ان تمام کھانوں کی پیشکش رسل کو کی گئ ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ رسل نے کیا کھایا اور انہیں پنڈی کے کھانوں میں کیا پسند آیا۔ یہ جاننے کے لیے ان کی اگلی ٹویٹ کا انتظار کریں۔

شیئر: